فصل: ....خطبہ جمعہ اور خلفائے راشدین کا ذکر - ردِ رافضیت |…

فصل: ....خطبہ جمعہ اور خلفائے راشدین کا ذکر

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

یہی چیز ان لوگوں کی دلیل تھی جو چوتھے خلیفہ کے طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بجائے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا کرتے تھے ۔جیساکہ اندلس میں اور بعض دوسری جگہوں پر کیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ : چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے برعکس حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر تمام لوگوں کا اجماع ہوگیا تھا؛[اس لیے ان کا نام بطور خلیفہ چہارم لیا جاتا ہے]۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان لوگوں کا یہ نظریہ غلط ہے ؛ لیکن ان سے بڑھ کر وہ لوگ غلطی پر ہیں جو خلفاء ثلاثہ کو چھوڑ کرصرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذکر پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ اور ان سب سے بڑھ کر وہ لوگ غلطی پر ہیں جو خطبہ میں یا دوسرے مواقع پر بارہ ائمہ کاذکر کرتے ہیں ؛ یہ دیواروں پر ان کے نام کا تقش بناتے ہیں یا پھر میت کو اس کی تلقین کرتے ہیں ۔ یہ ایسی برائی اور بدعت ہے کہ دین اسلام میں اس کا انتہائی بری بدعت ہونا اضطراری طور پر معلوم ہے۔

اگر خطیب ان چاروں خلفاء کا ذکر کرنا چھوڑ دے تو اس پر انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انکار اس بات پر ہے کہ ان سابقہ تین خلفاء کو ؛جن کی خلافت زیادہ کامل تھی؛ اور سیرت کے لحاظ سے بھی وہ افضل تھے؛ انہیں چھوڑ کر صرف ایک کے ذکر اکتفاء کیا جائے۔جیسا کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر کرنے پر انکار کیا گیا۔ حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت زندہ سلطان اور موجود خلیفہ تھے۔

[پانچویں بات]:....اہل سنت والجماعت کے تمام خطباء خطبہ میں خلفاء اربعہ کا ذکر نہیں کرتے۔ بلکہ مغرب میں اور بعض دوسرے شہروں میں بہت سارے خطباء ایسے ہیں جو کہ خطبہ میں نام لیکر کسی ایک خلیفہ کا تذکرہ بھی نہیں کرتے۔ اور مغرب میں بہت سارے خطباء ایسے بھی تھے جو کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے بعد چوتھے خلیفہ کے طور پر حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کانام لیا کرتے تھے؛ حضرت علی کانام نہیں لیتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ان باقی خلفاء کی خلافت پرتمام مسلمانوں کا اجماع ہوگیا تھا جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اجماع نہیں ہوا۔

٭ پس اگر خلفاء کا نام لیکر ان کا ذکر کرنا اچھی بات ہے تو بعض اہل سنت والجماعت ایسا کرتے ہیں ۔ اور اگر ایسا کرنا اچھی بات نہیں ہے تو پھربھی بعض اہل سنت ایسا نہیں کرتے ۔ جوبھی صورت حال ہو ‘ حق اہل سنت سے باہر نہیں ہوسکتا ۔

[چھٹی بات]:....جن لوگوں نے جمعہ میں منبر پر خلفاء راشدین کا نام لینا شروع کیا ؛ انہوں نے اس بدلہ کے طور پر ایسا کیا کہ بعض لوگ ان پر تنقید اور سب و شتم کرتے تھے۔ایسا کرنے میں اسلام میں جو فساد پیدا ہوگیا تھا وہ کسی پر بھی مخفی نہیں ہے۔ پس اس کے بجائے اعلانیہ ان کا ذکر خیراور مدح سرائی کی جانے لگی؛ تاکہ ان سے موالات اور دوستی کے اظہار اور ان کی مدح و توصیف کے بیان سے اسلام کی حفاظت کی جائے ۔کیونکہ صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ خلفاء راشدین کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

((عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيينَ مِنْ بَعْدِي تَمَسَّکْوْا بِہَا و عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ۔وَ إیّاکُمْ وَمحدثات الأمور؛ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ))[سنن أبي داؤد ۴؍۲۸۰؛ ِکتاب العِلمِ، باب الأخذِ بِالسنۃِ؛ سننِ ابنِ ماجہ:۱؍۱۵؛ المقدِمۃ، باب فِی اتِباعِ سنۃِ الخلفائِ الراشِدِین المہدِیِین؛ سننِ الدارِمِیِ:۱؍۴۴؛ المقدِمۃ، باب اتِباعِ السنۃ ؛ المسندِ ط۔ الحلبِی: ۴؍۱۲۶، ۱۲۷، وصححہ الشیخ الألبانِی فِی صحِیحِ الجامِعِ الصغِیرِ: ۲؍۳۴۶۔]

’’ تم پر میری سنت اور میرے بعد میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے ۔ اس کے ساتھ چمٹے رہو ‘ اور اسے اپنے کنچلی کے دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لو۔خبردار! اپنے آپ کو نئے کاموں سے بچاکر رکھنا ؛ اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

٭ ان کی خلافت کی احادیث بہت زیادہ ہیں ۔جب بنوامیہ میں ایسے لوگ پائے جاتے تھے جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دیا کرتے اور آپ کی مذمت کیا کرتے تھے؛ اور یہ کہتے کہ : آپ خلفاء راشدین میں سے نہیں ہے ۔تو پھر ان لوگوں کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔ آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ : سب سے پہلے آپ نے برسر منبر خلفاء اربعہ کانام لینا شروع کیا ؛ ان سے موالات کا اظہار کیا؛ ان کی مدح سرائی کی اور فضائل بیان کئے۔ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والوں کا ایک گروہ اس بات کوپسند نہیں کرتا تھا۔ خوارج حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے بغض رکھتے تھے اور انہیں کافر کہتے تھے۔حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ساتھ ان دونوں حضرات کا ذکر ِ خیر کرنے میں ان خوارج پر بھی رد تھا جن سے قتال کرنے کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔

٭ روافض ان سب لوگوں سے بڑھ کر برے ہیں ؛ یہ لوگ حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں اور ان پر سب شتم کااظہار کرتے ہیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان حضرات کوکافر تک کہتے ہیں ۔پس منبر پر ان لوگوں کا ذکر کرنے اور ان کے فضائل بیان کرنے میں ان رافضہ پر رد تھا۔

جب ان لوگوں کو خدابندہ بادشاہ کے ملک میں ؛ جس کے لیے اس رافضی مصنف [ابن مطہر ]نے یہ کتاب ’’[منہاج الکرامہ] ‘‘ لکھی ہے ؛پذیرائی مل گئی تو ان لوگوں نے چاہا کہ اپنے مذہب کا اظہار کریں اور اہل سنت والجماعت کے حق مذہب کو نیچا دیکھائیں ۔اور انہوں نے اس فتنہ کو پہلی ترجیح دی ۔اس لیے ان لوگوں نے بدعات کی لگام کھلی چھوڑ دی ؛ اوروہ شرو فساد اور فتنہ پیدا کرنے کے درپے ہوگئے جس کی صحیح حقیقت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ اس غرض کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے بعض اہل سنت والجماعت کی طرف منسوب لوگوں سے منبر پرخلفاء راشدین کا تذکرہ کرنے کے بارے میں فتوی لیا کہ کیا ایسا کرنا واجب ہے۔ پس فتوی دینے والوں میں سے بعض نے ان لوگوں کے شر سے خوف کی بناپر اپنی جان بچاتے ہوئے اور بعض لوگوں نے جہالت کی بنا پر فتوی دیدیا کہ ایسا کرنا واجب نہیں ۔

صفحہ 3 از 5