فصل: ....خطبہ جمعہ اور خلفائے راشدین کا ذکر - ردِ رافضیت |…

فصل: ....خطبہ جمعہ اور خلفائے راشدین کا ذکر

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

٭ ان سے بڑھ کر بودا اور بے کار اعتراض امامیہ کا ہے ؛ جو کہ خلفاء راشدین کے تذکرہ پر اعتراض کرتے ہیں لیکن خود بارہ ائمہ کانام لیتے اور ان کا ذکر کرتے ہیں ۔حالانکہ خلفاء ثلاثہ میں سے ہر ایک ان بارہ ائمہ سے بہتر اور افضل ہے۔اور ان کی خلافت و امامت زیادہ اکمل ہے۔جب کہ بارہ ائمہ کی مختلف اصناف ہیں ۔ جن میں سے کچھ تووہ صحابہ ہیں جن کے اہل جنت ہونے کی شہادت دی گئی ہے؛ جیسا کہ حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما ۔ اور ان کے علاوہ بھی سابقین اولین میں سے بہت سارے لوگ ہیں جو کہ ان دونوں سے افضل ؛ مثلاً : اہل بدر۔

٭ یہ دونوں حضرات اگرچہ اہل جنت نوجوانوں کے سردار ہیں ؛ تو اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جنتی بوڑھوں کے سردار ہیں ۔ یہ صنف پہلی صنف سے زیادہ کامل ہے۔

٭ اگر یہ کہا جائے کہ : یہ دونوں حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے لخت جگر ہونے کی وجہ سے افضل ہیں ۔

[جواب]: تو ان سے کہا جائے گا : حضرت علی رضی اللہ عنہ اہل سنت و الجماعت اورشیعہ کے نزدیک بالاتفاق ان دونوں حضرات سے افضل ہیں ‘ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے لخت جگر نہیں [بلکہ ان کے شوہر ہیں ]۔

٭ حضرت ابراہیم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں حضرات کی نسبت زیادہ قربت کا تعلق ہے۔لیکن اس کے باوجود وہ سابقین اولین سے افضل نہ تھے۔ ایسے ہی حضرت امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی بھی ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ تھا۔

٭ اگر یہ کہا جائے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد ہیں [اس وجہ سے افضل ہیں ]۔

[جواب]: تو ان سے کہا جائے گا کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاؤں اور چچازادوں کی ایک جماعت اہل ایمان اور صحابہ کرام میں سے تھے۔ جیساکہ حضرت حمزہ ‘ عبداللہ و فضل پسران عباس؛ ربیعہ بن الحارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہم ۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں ۔ اور حضرت علی اورجعفر رضی اللہ عنہما دوسرے چچا زادوں سے افضل ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عباس سے افضل ہیں ۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ فضیلت ایمان اور تقوی کی بنیاد پر ہوتی ہے حسب و نسب کی بنیاد پر نہیں ہوتی۔

٭ ان بارہ آئمہ میں کچھ ایسے بھی تھے جو کہ علم و فضل اور دینداری میں شہرت رکھتے تھے؛ جیسے حضرت علی بن الحسین ‘ ان کا بیٹا ابو جعفر ؛ ان کا بیٹا جعفر بن محمد رحمہم اللہ ؛ ان لوگوں کا بھی وہی حکم ہے جو دوسرے اہل علم و فضل کا ہے۔امت محمد میں خلقت کی بہت بڑی تعداد ان کی ہم مثل بھی ہیں اور ان سے افضل بھی۔ اور ان بارہ ائمہ میں ایسا منتظر بھی ہے جس کا اصل میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ‘ اور نہ ہی اس سے کسی کو کوئی فائدہ حاصل ہوا۔ ایسے لوگوں کی اتباع صرف شر ہی شر ہے؛ جس میں کوئی خیر نہیں ۔

٭ جب کہ ان کے علاوہ جتنے بھی بنی ہاشم ہیں خواہ علوی ہوں یا عباسی؛ ان میں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو علم و فضل اور دینداری میں ان کے برابر ہیں ؛ بلکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان آئمہ سے بڑھ کر اہل علم و دین ہیں ۔ تو پھر خلفاء راشدین کے ذکر پر کیسے عیب لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں ان سے افضل کوئی دوسرا نہیں ۔اور پھر ان کے بجائے مسلمانوں میں ایسے لوگوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے بڑھ کر اہل علم و دین اور افضل دوسرے مسلمان بھی موجود ہیں ۔ اور ان سے مسلمانوں ان ائمہ کی نسبت کئی گنا بڑھ کر دینی اور دنیاوی فائدہ بھی حاصل کیا ہے۔ ان لوگوں کا تو مقصد صرف یہ ہے کہ آئمہ اثنا عشریہ کا ذکر کر کے باقی تمام مسلمانوں سے اختلاف اور ان سے دشمنی کا اظہارکیا جائے اور یہ لوگ اپنے مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے کفار و منافقین تک سے مدد حاصل کرتے ہیں تاکہ اللہ کے روشن کردہ چراغ کو بھجا سکیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغام اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین حق کی شمع گل کرسکیں ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کا یہ دین باقی تمام ادیان پر غالب آکر رہے گا۔یہ لوگ دین میں زندیقیت اور الحاد کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں تاکہ منافقین کو بگاڑ پیدا کرنے کے لیے راہ مل سکے۔


صفحہ 5 از 5