Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

افواج کو لے کر چلنے میں نرمی کرنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا اور حکم دیا

’’کوچ کے دوران فوج کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ، انہیں اتنا نہ چلاؤ کہ وہ تھک جائیں، پر سہولت اور پر آرام جگہ ٹھہرنے سے انہیں نہ روکو تاکہ وہ جب دشمن سے مدمقابل ہوں تو ان کی توانائی بحال ہو۔ وہ ایک ایسے دشمن سے لڑنے جا رہے ہیں جو اپنے گھر میں ہے، جس کے سپاہی اور جانور تازہ دم ہیں، دوران کوچ ہفتہ میں ایک دن اور ایک رات قیام کرو تاکہ فوج سستا کر تازہ دم ہو جائے اور اپنے ہتھیار اور سامان درست کر سکے۔ جن لوگوں سے تم نے معاہدہ کر لیا ہو ان کی بستیوں سے دور پڑاؤ ڈالو۔‘‘

(نہایۃ الأرب: جلد 6 صفحہ 169)

اسی طرح خلیفہ راشد عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے شام میں اسلامی فوج کی مدد کے لیے جب مدینہ سے امدادی فوج روانہ کی تو کمزور لوگوں کے لیے سواری اور سامان سفر کا انتظام کر دیا اور حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو فوج کا امیر بنایا۔ جب سعید رضی اللہ عنہ نے فوج لے کر کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ذرا ٹھہرو، میں تمہیں کچھ نصیحت کر دوں، پھر سیدنا عمرؓ فوج کی طرف پیدل گئے اور کہا: ’’اے سعید! میں نے تمہیں اس فوج کا امیر بنایا ہے، ان تمام لوگوں پر تمہیں صرف تقویٰ کی بنا پر برتری حاصل ہے، لہٰذا جب تم انہیں لے کر چلو تو اپنی طاقت بھر ان کے ساتھ مہربانی کرنا، انہیں برا بھلا ہرگز نہ کہنا، جو چھوٹا ہو اسے نظر انداز مت کرنا، صرف طاقتور کو ترجیح نہ دینا، اپنے علاوہ دوسروں کی ٹوہ میں مت لگنا، انہیں ہلاکت کی راہ پر مت ڈالنا، آسان راستے سے لے کر جانا، انہیں لے کر شاہراہ پر رات نہ گزارنا، میری عدم موجودگی میں اللہ تمہارا اور تمہارے ساتھ مسلمانوں کا محافظ و نگران ہے۔‘‘

(تاریخ فتوح الشام: صفحہ 186)