فصل: ....حج تمتع اورمتعہ کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....حج تمتع اورمتعہ کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 6

فصل: ....حج تمتع اورمتعہ کا مسئلہ 

[اعتراض]: رافضی مصنف کہتا ہے : ’’ اور جیساکہ متعتین جن کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے۔ متعۃ الحج کے متعلق قرآن کریم میں آیا ہے : 

﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہُدْی﴾ [البقرۃ۱۹۶]

’’ تو جو شخص حج کا زمانہ آنے تک عمرہ کرنے کا فائدہ اٹھانا چاہے وہ قربانی کرے جو اسے میسر آ سکے۔‘‘

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران کیا تو حج تمتع کے چھوٹ جانے پر افسوس کااظہار کیا؛اورفرمایا : ’’اگر مجھے اس کا بروقت علم ہوجاتا تو میں قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہ لاتا اور میں بھی تم سے پیچھے نہ رہتا۔‘‘اور متعہ نساء کے متعلق فرمایا:

﴿ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْہُنَّ فَاٰتُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ﴾ [النساء ۲۳]

’’اور ان خواتین میں سے جن سے تم فائدہ اٹھالو ‘ انہیں ان کی اجرت دیدو۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع کے دور میں ان دونوں چیزوں کے متعلق یہی عمل سنت رہا۔ یہاں تک کہ عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور اعلان کیا :

’’ دو قسم کے متعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حلال تھے؛ میں ان سے منع کرتا ہوں ۔ اور ایسا کرنے والوں کو سزا دو ں گا ۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]۔

[جواب]: اس رافضی سے کہا جائے گا کہ: حج تمتع کے جواز پر تمام ائمہ اسلام کا اتفاق ہے۔یہ دعوی کرنا کہ اہل سنت نے حج تمتع کی حرمت کی بدعت گھڑ لی ؛یہ ان پر جھوٹا الزام ہے۔بلکہ اکثر علماء اہل سنت حج تمتع کو یا تو واجب کہتے ہیں اور اسے ترجیح دیتے ہیں یا پھر اسے مستحب سمجھتے ہیں ۔تمتع ایک جامع نام ہے جو ان لوگوں کو شامل ہے جو کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرلیں اور پھر اسی ایک سفر میں حج بھی کریں ‘خواہ اس نے عمرہ کرنے کے بعد حلال ہوکردوبارہ حج کا احرام باندھا ہو یا پھر بیت اللہ کا طواف شروع کرنے سے قبل حج کی نیت کرلی ہوتو اس کا حج قران ہوجائے گا۔ یا پھر طواف کے بعد صفاومروہ کے مابین سعی کرتے ہوئے حلال ہونے سے پہلے اس لیے حج کی نیت کرلی کہ وہ اپنے ساتھ قربانی کا جانور بھی لایا تھا یاپھر مطلق طور پر حج کی نیت کرلی۔اور بسا اوقات تمتع سے مراد حج کے مہینوں میں عمرہ کرلینا بھی لیا جاتا ہے ۔ 

اکثر علماء جیسے امام احمد بن حنبل اور دیگر فقہاء حدیث رحمہم اللہ ؛اور امام ابو حنیفہ اور دیگر فقہائے عراق رحمہم اللہ ؛ اور ایک قول میں امام شافعی اور دیگر فقہائے مکہ رحمہم اللہ ؛ حج تمتع کو مستحب کہتے ہیں ۔ اگرچہ ان میں ایسے بھی ہیں جو کہ حج قران کو ترجیح دیتے ہیں جیسا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ۔اور بعض فقہاء بالخصوص حج تمتع کو ترجیح دیتے ہیں ؛جیسا کہ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ سے ایک قول میں منقول ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ سے صراحت کے ساتھ منقول ہے کہ : اگر حاجی اپنے ساتھ قربانی لیکر آیا ہے تو پھر اس کے حق میں حج قرآن افضل ہے۔اور اگر قربانی ساتھ نہیں لایا تو پھر عمرہ کے بعد احرام کھول کر حلال ہوجانا ہے افضل ہے۔اس لیے کہ حج قران خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ اور حج تمتع کا اپنے صحابہ کرام میں سے ان لوگوں کو حکم دیا تھا جواپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لائے تھے۔‘‘[البخاری ۲؍ ۱۵۹ ؛ کتاب تقضی الحائض المناسک کلہا إلا الطواف ؛ مسلم ۲؍ ۸۷۹ ؛ کتاب الحج ؛ باب بیان وجوہ الاحرام ۔ سنن أبی داؤد ۲؍ ۲۱۰ ؛ کتاب المناسک ؛ باب افراد الحج۔]

٭ بلکہ بہت سارے علمائے اہل سنت والجماعت ایسے بھی ہیں جو حج تمتع کو واجب کہتے ہیں ۔جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا گیا ہے؛ اہل جیسے امام ابن حزم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کاحکم دیا تھا۔

٭ جب اہل سنت والجماعت حج تمتع کے جواز پر متفق اوریک زبان ہیں اور اکثر لوگ اسے مستحب کہتے ہیں ؛ اور ان میں ایسے بھی ہیں جو حج کی اس قسم کوواجب کہتے ہیں ۔تو اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اہل سنت پر حج تمتع کے حرام ہونے کی بدعت ایجاد کرنے کا الزام لگارہے ہیں ‘ وہ اپنے اس قول میں سخت جھوٹے ہیں ۔

٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جو نقل کیا گیا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ : تصور کیجیے : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بات کہہ دی ؛ جس میں دوسرے صحابہ کرام اور تابعین نے آپ کی مخالفت کی ہو؛ یہاں تک کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں حج تمتع کیا؛ اور اس کے متعلق قرآن نازل ہوا؛پھر ایک آدمی نے اپنی مرضی سے اس میں کچھ کہہ دیا۔‘‘[البخاری۲؍۱۴۴؛کتاب الحج ؛ باب التمتع علی عہد النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ مسلم ۲؍۹۰۰ ؛ کتاب الحج باب جواز التمتع ؛ سنن النسائی ۵؍ ۱۲۰ ؛ کتاب المناسک باب التمتع ۔]

٭ اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ لوگوں میں سے ہر ایک کی بات قبول بھی کی جاسکتی ہے اور رد بھی کی جاسکتی ؛ سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے۔ پس رافضی کا اگر مقصد مطلق طور پر اہل سنت والجماعت پر رد کرناہے تو پھر یہ اعتراض ان پر وارد نہیں ہوتا۔اور اگرمقصد یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس مسئلہ میں خطاء کا ارتکاب کیا ہے تو پھر بھی اہل سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کو بھی خطاء سے منزہ ومبرا نہیں مانتے۔حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی خطائیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت بہت کم ہیں ۔ علماء نے فقہ کے وہ مسائل جمع کیے ہیں جن میں ان دو میں سے کسی ایک کے قول کو ضعیف قرار دیا گیا ہے؛ تو پتہ چلا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زیادہ اقوال ضعیف ہیں ۔ مثال کے طور پر:

صفحہ 1 از 6