فصل: ....حج تمتع اورمتعہ کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....حج تمتع اورمتعہ کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 6

۱۔ بیوہ کی عدت کے مسئلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فتوی یہ ہے کہ : اس کی عدت ابعد الاجلین (یعنی زیادہ لمبے وقت والی) ہے۔ جبکہ کتاب اللہ کے موافق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت سنت یہ ہے کہ بچہ جننے کے ساتھ ہی اس کی عدت ختم ہوجائے گی۔ یہی فتوی حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا ہے۔

۲۔ آپ کا فتوی ہے کہ مفوضہ کا مہر موت کی وجہ سے ساقط ہوجاتا ہے۔ جب کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فتوی مہر مثل کا ہے۔ جیساکہ اشجع قبیلہ والوں نے بروع بنت واشق کے مسئلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ بھی نقل کیا ہے۔

۳۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول مسائل میں طلاق اور ام الولد اور میراث کے حصوں کے بارے میں متناقض اقوال پائے جاتے ہیں ۔

٭ جوانسان حج کو عمرہ سے فسخ کے فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہو؛ تواس مسئلہ میں فقہائے حدیث امام احمد بن حنبل اور دیگر فقہاء رحمہم اللہ کے مابین اختلاف ہے۔ یہ حضرات بطور استحباب حج کو عمرہ سے فسخ کرنے کا حکم دیتے ہیں ۔اور بعض لوگ اسے واجب کہتے ہیں جیسا کہ ظاہریہ کا مسلک ہے۔یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول اور شیعہ کا مسلک ہے۔ جب کہ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ فسخ کو جائز نہیں سمجھتے۔اس مسئلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین بھی اختلاف پایا جاتا تھا۔ بہت سارے صحابہ ایسا کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔جب کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اور صحابہ کے ایک گروہ سے اس کی ممانعت نقل کی گئی ہے۔ اگرحج کو عمرہ سے فسخ کرنا درست ہے تو یہ اہل سنت و الجماعت کے اقوال میں سے ایک قول ہے ۔ اوراگرایسا کرنا درست نہیں تو پھر بھی اہل سنت کے اقوال میں سے ایک قول یہ بھی 

ہے۔ الغرض حق کسی طرح بھی اہل سنت و الجماعت سے باہر نہیں ۔

٭ اگریہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پراس کے منع کرنے کی وجہ سے قدح کرتے ہیں تو پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بھی آپ سے بڑھ چڑھ کر اس سے منع کرتے تھے؛ آپ فرمایاکرتے تھے : ’’ حج تمتع اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھا۔‘‘

شیعہ حضرات حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے دوستی کا اظہار کرتے ہیں اور آپ کی بہت زیادہ تعظیم کرتے ہیں ۔ اگر اس مسئلہ میں غلطی کرنا جانا قدح کی موجب ہے تو پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ پر بھی قدح ہونی چاہیے۔ وگرنہ یہ کیا معیار ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پراسی مسئلہ میں قدح کی جائے اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی باری خاموشی اختیار کرلی جائے حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ سے افضل بڑے فقیہ اور بڑے عالم تھے۔

٭ دوسرا جواب یہ ہے کہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع کوحرام نہیں کیا۔ بلکہ یہ ثابت ہے کہ حضرت ضبی بن معبد رحمہ اللہ نے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ عرض کیا کہ : میں نے حج اورعمرہ کا احرام باندھا ہے تو آپ نے فرمایا: ’’ آپ نے سنت نبوی کی اتباع کے لیے ہدایت پالی ۔‘‘[رواہ النسائی ۵؍۱۱۳؛ کتاب المناسک؛ باب القران ؛ سنن ابن ماجہ ۲؍۹۸۹ ؛ کتاب المناسک باب من قرن الحج والعمرۃ ؛ المسند ط: معارف ۱؍ ۱۸۹ ؛ وصححہ الشیخ أحمد شاکر۔]

٭ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کو حج تمتع کاحکم دیا کرتے تھے۔ ان سے کہا جاتا کہ : آپ کے اباجی تو اس سے منع کیا کرتے تھے ؛ تو آپ فرمایا جواب میں فرمایا کرتے:’’میرے اباجی کا مقصد وہ نہیں جو کچھ تم لوگ مراد لینے لگے ہو۔‘‘جب لوگ بہت زیادہ اصرار کرتے تو آپ فرمایا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ تم ان کی اتباع کرو یاپھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ؟‘‘

٭ اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے:’’اگر میں حج کرتا تو تمتع کرتا ؛ اگر میں حج کرتا تو تمتع کرتا ۔‘‘حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی کہ لوگوں کو افضل چیز کا حکم دیتے ۔ لوگوں نے سہولت کی وجہ سے اشہر الحج کے علاوہ باقی مہینوں میں عمرہ کرنا چھوڑدیا تھا۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ سارا سال بیت اللہ کو ایسے خالی نہ چھوڑا جائے۔ پس جب لوگ حج افراد کرنے لگیں گے تو باقی سارا سال عمرہ جاری رہے گا۔ اشہر الحج کے علاوہ باقی مہینوں میں حج کرنا اشہر الحج میں حج تمتع کے لیے عمرہ کرنے سے افضل ہے؛ اس پر تمام ائمہ اربعہ اوردیگر علماء کرام رحمہم اللہ کا اتفاق ہے۔

٭ ایسے ہی حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے اس آیت کی یہ تفسیر منقول ہے: ﴿وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ ﴾’’حج اور عمرہ کو اللہ تعالیٰ کے لئے پورا کرو۔‘‘

[یہ دونوں حضرات ]فرماتے ہیں : حج اور عمرہ کے پورا کرنے کا مطلب یہ ہے ان دونوں کا احرام اپنے گھر سے باندھا جائے ۔ ان حضرات کی مرادیہ تھی کہ : حج کے لیے علیحدہ سفر کیا جائے اور عمرہ کے لیے علیحدہ سفرکیا جائے۔ وگرنہ نہ ہی ان دونوں حضرات نے اپنے گھر سے احرام باندھا اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیا اورنہ ہی آپ کے خلفاء راشدین میں سے کسی ایک نے ایسے کیا۔

٭ جب امام اپنی رعیت کے لیے کسی افضل چیز کو اختیار کرے ؛ تو اس صورت میں کسی بات کا حکم دینا گویاکہ اس کی ضد [ الٹ ]سے منع کرنا ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حج تمتع سے منع کرنا افضل کے اختیارکرنے کے لحاظ سے تھا تحریم کے لیے نہیں تھا۔ آپ نے یہ بھی نہیں فرمایا تھا: ’’ میں ان دونوں کو حرام کرتا ہوں ‘‘جیسا کہ رافضی نے نقل کیا ہے ۔ بلکہ آپ نے فرمایا تھا: ’’ میں ان دونوں سے منع کرتا ہوں ۔‘‘پھر حج تمتع سے منع کرنا بھی اس لیے تھا کہ لوگ افضل چیزکو اختیار کریں تحریم کے لیے یہ ممانعت نہیں تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ نے تو حج کو عمرہ سے فسخ کرنے سے منع کیا تھا۔

صفحہ 2 از 6