فصل: ....حج تمتع اورمتعہ کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....حج تمتع اورمتعہ کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 6

٭ دوسری بات: ان حروف میں اگرچہ قرآن نازل ہوا تھا؛ لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ قرأت مشہور اورثابت قرأء ات میں سے نہیں ۔پس اس لحاظ سے یہ قرأت منسوخ ہوگی۔اور اس کانزول اس وقت ہوا ہوگا جب متعہ مباح تھا ۔ جب متعہ حرام ہوگیا تو یہ قرأت بھی منسوخ ہوگئی۔ تو اس صورت میں مہردینے کا حکم مطلق نکاح میں

[صحیح مسلم شریف میں حضرت سیرہ بن معبد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے غزوہ میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی رخصت دی تھی یاد رکھو بیشک اب اللہ تبارک و تعالی نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے جس کے پاس اس قسم کی کوئی عورت ہو تو اسے چاہئے کہ اسے چھوڑ دے اور تم نے جو کچھ انہیں دے رکھا ہو اس میں سے ان سے کچھ نہ لو۔‘‘قیدی عورتوں اور لونڈیوں سے تمتع کی شرائط یہ تھیں : ۱۔ صرف اس قیدی عورت سے تمتع کیا جا سکتا ہے جو امیر لشکر دیگر اموال غنیمت کی طرح کسی مجاہد کی ملکیت میں دے دے۔ اس سے پہلے اگر کوئی شخص کسی عورت سے تمتع کرے گا تو وہ دو گناہوں کا مرتکب ہوگا۔ ایک زنا کا اور دوسرے مشترکہ اموال غنیمت کی تقسیم سے پیشتر ان میں خیانت کا۔ ۲۔ امیر لشکر کا کسی عورت کو کسی کی ملکیت میں دینے کے بعد اس سے نکاح کی ضرورت نہیں رہتی۔ ملکیت میں دے دینا ہی کافی ہوگا اور اس کا سابقہ نکاح از خود ختم ہو جائے گا۔ ۳۔ تقسیم کے بعد ایسی عورت سے فوری طور پر جماع نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک اسے کم از کم ایک حیض نہ آ لے۔ اور یہ معلوم نہ ہو جائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں اور اگر وہ حاملہ ہو گی تو اس کی عدت تا وضع حمل ہے۔ اس سے بیشتر اس سے جماع نہیں کیا جا سکتا۔ اور مزید احکام یہ ہیں : ۴۔ ایسی عورت سے صرف وہی شخص جماع کرسکتا ہے جس کی ملکیت میں وہ دی گئی ہو۔ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ ۵۔ اگر اس قیدی عورت سے اولاد پیدا ہو جائے تو پھر اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ ۶۔ اگر ایسی قیدی عورت کو اس کا مالک کسی کے نکاح میں دے دے تو پھر وہ اس سے دوسری خدمات تو لے سکتا ہے لیکن صحبت نہیں کر سکتا۔ ۷۔ جب عورت سے مالک کی اولاد پیدا ہو جائے تو مالک کے مرنے کے بعد وہ ازخود آزاد ہو جائیگی۔ شرعی اصطلاح میں ایسی عورت کو ام ولد کہتے ہیں ۔ ۸۔ اگر امیر لشکر یا حکومت ایک عورت کو کسی کی ملکیت میں دے دے تو پھر وہ خود بھی اس کو واپس لینے کی مجاز نہیں ہوتی۔ الا یہ کہ اس تقسیم میں کوئی ناانصافی کی بات واقع ہو جس کا علم بعد میں ہو۔ اس طرح چند در چند شرائط عائد کر کے اسلام نے ایسی عورتوں سے تمتع کی پاکیزہ ترین صورت پیش کر دی ہے جس میں سابقہ اور موجودہ دور کی فحاشی، وحشت اور بربریت کو حرام قرار دے کر اس کا خاتمہ کیا گیا ہے اور تمتع کے بعد اس کے نتائج کی پوری ذمہ داری مالک پر ڈالی گئی ہے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ 'جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو وہ اس کی تعلیم و تربیت کرے اسے ادب سکھائے پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔(بخاری، کتاب العتق، باب فضل من ادب جاریتہ و علمھا)ان سب باتوں کے باوجود یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ لونڈیوں سے تمتع ایک رخصت ہے حکم نہیں ہے اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ایسی اجازت دے دی ہے کیونکہ جہاد اور اس میں عورتوں کی گرفتاری ایسی چیز ہے جس سے مفر نہیں اور ایسا بھی عین ممکن ہے کہ جنگ کے بعد قیدیوں کے تبادلہ یا اور کوئی باعزت حل نہ نکل سکے اسی لیے اللہ نے سے کلیتا حرام قرار نہیں دیا۔]رہ گیا۔

٭ اس کی زیادہ سے زیادہ حدیہ ہوسکتی ہے کہ یوں کہاجائے: یہ دونوں قرأتیں ہیں اور دونوں حق ہیں ’ اورمقررہ وقت تک لطف اندوزی کی صورت میں عورت کا حق دینے کا حکم اسی صورت میں نافذ ہوگا جب یہ حلال ہو۔ اوریہ سارا معاملہ اس وقت تک تھا جب تک ایک مقررہ وقت تک کے لیے نکاح کرنا حلال تھا۔ یہ اسلام کے شروع کی بات ہے۔ اب اس آیت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے ایک مقررہ وقت تک نکاح کے حلال ہونے کا ثبوت مل سکتا ہو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ : ’’ میں تمہارے لیے عورتوں سے ایک مقررہ وقت تک کے لیے لطف اندوزی کو حلال کرتا ہوں ۔‘‘بلکہ یہ ارشاد فرمایا :﴿ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْہُنَّ فَاٰتُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ﴾ ’’پھر ان میں سے جن سے تم (نکاح کا) لطف اٹھاؤتو انہیں ان کے مقررہ حق مہر ادا کرو۔‘‘

پس یہ ہر استمتاع اور لطف اندوزی کو شامل ہے جو یا تو حلال ہو یا پھر شبہ کی وجہ سے وطی واقع ہوجائے۔

٭ یہی وجہ ہے کہ نکاح فاسد میں سنت نبوی اور اجماع امت کی روشنی میں مہر مثل واجب ہوجاتا ہے۔ اورجب متعہ کرنے والا اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھ کر متعہ کرلے تو اس پر مہر واجب ہوجاتا ہے ۔ جب کہ یہ آیت حرام لطف اندوزی کو شامل نہیں ۔اس لیے کہ اگر کسی عورت سے بغیر عقد نکاح کے لطف اندوزی کی گئی ؛ اگروہ عورت اس پرراضی ہو ؛ تو اسے زنا شمار کیا جائے گا۔ اور اس میں کوئی مہر نہیں ہوگا۔ اور اگر اسے زبردستی مجبور کیا گیا تھا تو پھر اس مسئلہ میں اختلاف مشہور ہے۔

٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جو نکاح متعہ کی ممانعت نقل کی جاتی ہے ؛ تو یہ بات یقیناً ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کو حلال قرار دینے کے بعد حرام بھی کردیا تھا۔ ثقہ راویوں نے ایسے ہی نقل کیا ہے۔

٭ بخاری و مسلم میں ہے : امام زہری عبد اللہ و حسن پسران محمد بن حنفیہ سے نقل کرتے ہیں ‘ وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں ؛ وہ کہتے ہیں : جب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے متعہ کو مباح کہا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ’’تم بیکار آدمی ہو‘ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والے دن نکاح متعہ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیاتھا۔‘‘

صفحہ 4 از 6