فصل: ....حج تمتع اورمتعہ کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....حج تمتع اورمتعہ کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 6

امام زہری رحمہ اللہ اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عالم اور سنت کے سب سے بڑے محافظ تھے۔ان کے زمانہ میں بڑے بڑے ائمہ اسلام پائے جاتے تھے جیسے حضرت مالک بن انس‘حضرت سفیان بن عیینہ رحمہما اللہ اور دیگر وہ علماء کرام جن کے علم و فضل ؛ عدالت اور حافظہ پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ اور اس حدیث کے صحیح اور قابل قبول ہونے کے متعلق حدیث کا علم رکھنے والے کسی ایک عالم نے بھی انکار نہیں کیا۔ اور نہ ہی اہل علم میں سے کوئی فرد ایسا ہے جس نے اس حدیث کے صحیح ہونے پر کوئی جرح یا تنقید کی ہو۔

ایسے ہی صحیح حدیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ : فتح مکہ کے غزوہ کے موقع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کو قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے ۔‘‘[صحیح مسلم کی یہ حدیث دو صفحات پہلے حاشیہ میں گزرچکی ہے]۔

٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نقل کرنے والے راویوں میں اختلاف ہے؛ کہ آپ کا قول : ’’خیبر والے سال ‘‘ کیا یہ گدھے کے گوشت کی حرمت کا وقت بیان کرنے کے لیے ہے یا پھر اس کے ساتھ ساتھ متعہ کی حرمت کے لیے بھی ؟

٭ پہلا قول امام ابن عیینہ رحمہ اللہ اور دیگر علماء کا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ : متعہ فتح مکہ والے سال حرام ہوا ہے ۔ جب کہ دوسرے قول والے اصحاب کا کہنا ہے کہ : خیبر والے متعہ حرام ہواتھا پھر حلال ہوا‘ پھر دوبارہ حرام ہوا۔ اور ایک گروہ کا خیال ہے کہ اس کے بعد بھی ایک بار متعہ حلال ہوا اور حجۃ الوداع والے سال حرام ٹھہرایا گیا۔

٭ اس بارے میں مشہور روایات متواتر کی حدتک پہنچتی ہیں کہ حلال ہونے کے بعد پھر حرام ٹھہرایا گیا۔ درست بات یہ ہے کہ متعہ جب سے حرام ہوا ہے اس کے بعد دوبارہ کبھی حلال نہیں ہوا۔اور اس کی حرمت کا صحیح وقت فتح مکہ کا ہے۔ اس کے بعد کبھی بھی حلال نہیں ہوا۔ خیبر کے موقع پراس کی حرمت نہیں آئی۔خیبر والے سال گھریلو پالتوگدھوں کا گوشت حرام ہوا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما گدھے کے گوشت اور متعہ دونوں کو مباح سمجھتے تھے۔ جس پر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سخت انکار کیااور فرمایا:

’’ اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے کو اور گدھے کے گوشت کو خیبر کے دن حرام ٹھہرایا ہے۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ ان دونوں چیزوں کو ملاکر اس لیے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان دونوں کو مباح سمجھتے تھے ۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ جب آپ کو نہی [ممانعت]کی حدیث پہنچی تو آپ نے اپنے سابقہ قول سے رجوع کرلیا تھا۔

پس اہل سنت والجماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایت پر عمل کے لیے حضرت علی اور دوسرے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی پیروی کرتے ہیں ۔ جب کہ شیعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منقول اس روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف چل رہے ہیں ‘اور آپ کی مخالفت کرنے والوں کی پیروی کررہے ہیں ۔

٭ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں شادی اور ملک یمین کو حلال ٹھہرایا ہے۔ متعہ کروانے والی عورت ان دونوں میں سے کسی ایک قسم سے بھی تعلق نہیں رکھتی۔اس لیے کہ اگریہ بیوی ہوتی تو میاں بیوی دونوں ایک دوسے کے وارث بنتے۔ اور خاوند مرجانے کی صورت میں اس پر وفات کی عدت گزارنا بھی واجب ہوتی۔اس پر طلاق ثلاثہ کے احکام بھی مرتب ہوتے ۔اس لیے کہ بیوی کے یہ احکام کتاب اللہ میں موجود ہیں ۔جب لوازم نکاح ثابت نہیں ہوتے تو نکاح کی نفی ہوگئی ۔ اس لیے کہ لازم کے انتفاء کا تقاضا ہے کہ ملزوم کا بھی انتفاء ہو۔

٭ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دو ہی چیزیں حلال ٹھہرائی ہیں : عقد نکاح اور ملک یمین ۔ اس کے علاوہ جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے اس کا شمار حرام کاموں میں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَ oاِِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ oفَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْعَادُوْنَ﴾ ۔ [المؤمنون۵۔۷]

’’اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ مگر اپنی بیویوں یا(کنیزوں سے)جو ان کی ملک ہوتی ہیں کہ(ان سے ) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں ۔اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے )نکل جانے والے ہیں ۔‘‘

٭ اس تحریم کے بعد متعہ کی جانے والی عورت نہ ہی بیوی رہتی ہے اور نہ ہی ملک یمین۔پس قرآنی نصوص کی روشنی میں اس کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ ملک یمین یعنی لونڈی تو نہیں ہوسکتی؛ یا صاف ظاہرہے۔ اور بیوی اس لیے نہیں ہوسکتی کہ یہاں پر نکاح کے لوازم نہیں پائے جاتے۔ اس لیے نکاح کے لوازم میں سے ایک دوسرے کا وارث بننا ‘ اور شوہر کی موت کی صورت میں عدت وفات ؛ اور طلاق ثلاثہ کے احکام کا لازم آنا ہے۔اور اگر دخول سے پہلے طلاق ہوجائے تو اس صورت میں مرد پر آدھا مہر لازم آئے گا۔ان کے علاوہ دیگر لوازم بھی ہیں ۔

٭ اگر یہ کہا جائے کہ : کبھی بیوی ایسی بھی ہوتی ہے جو کہ وارث نہیں بنتی ؛ جیسے کہ : ذمیہ اور لونڈی ۔

٭ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ: پہلی بات: شیعہ کے نزدیک ذمیہ سے نکاح جائز نہیں ۔اور لونڈی سے نکاح ضرورت کے وقت میں ہوتا ہے ۔ جب کہ یہ لوگ مطلق طور پر متعہ کو مباح ٹھہراتے ہیں ۔

صفحہ 5 از 6