فصل: ....حج تمتع اورمتعہ کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....حج تمتع اورمتعہ کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 6

دوسری بات :....ذمیہ اور لونڈی سے شادی کرنا توارث کے اسباب میں سے ہے؛ مگر یہاں پرتوارث کے موانع پائے جاتے ہیں اور وہ مانع ہے غلام ہونا اور کفر۔ جیسا کہ نسب وراثت کے اسباب میں سے ہے سوائے اس صورت کے کہ بیٹا یا تو کافر ہو یا پھر غلام ہو۔پس مانع اپنی جگہ پر موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر غلام بیٹے کو آزادی مل جائے یا پھر کافر بیٹا اسلام قبول کرلے تووہ اس کی زندگی میں والد کا وارث بنے گا۔ بس یہی حال ذمی بیوی کاہے۔اگروہ اپنے شوہر کی زندگی میں اسلام قبول کرلے تو تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ اپنے شوہر کی وارث بنے گی۔اور ایسے ہی اگروہ غلام ہو اور شوہر کی زندگی میں اسے آزادی مل جائے ؛ اوروہ اس نکاح کو برقرار رکھے تو باتفاق مسلمین وہ وارث بنے گی۔ بخلاف اس عورت کے جس سے متعہ کیا گیا ہو؛ اس لیے کہ نکاح متعہ سے وراثت ثابت نہیں ہوتی۔اورنہ ہی کسی بھی صورت میں یہ وارث بن سکتی ہے۔ پس یہ نکاح اس ولد زنا کی طرح ہے جو کسی شوہر کے بستر پر پیدا ہوتا ہے ‘ تواس کا نسب کسی بھی صورت میں زانی سے نہیں ملایا جاسکتا۔ پس وہ اس کا بیٹا ثابت نہیں ہوسکتا کہ اس کا وارث بنے۔

٭ اگر یہ کہاجائے کہ : نسب کے بعض احکام کی تبعیض ممکن ہے ۔ پس کی صورت اس نکاح کی بھی ہے ۔

٭ تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ: اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔جمہور اس بات کو تسلیم کرتے ہیں ۔ لیکن اس میں شیعہ کے لیے کوئی حجت نہیں ہے۔ اس لیے کہ متعہ کی جانے والی عورت سے بیوی کے تمام احکام منتفی ہیں ۔ اس میں حلال نکاح کے خصائص میں سے کوئی ایک بات بھی نہیں پائی جاتی۔ اور جو چیزیں اس میں ثابت ہیں جیسے : نسب کا الحاق ‘ وجوب استبراء ‘ حدکا خاتمہ؛ وجوب مہر وغیرہ ۔ اس طرح کے احکام تووطیء شبہ میں بھی ثابت ہوجاتے ہیں ۔پس اس سے معلوم ہوا کہ مستمتع سے وطی کرنا حلال بیوی سے وطی کرنے جیسا نہیں ۔لیکن اگر اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھا جائے تو پھر اس کی مثال وطی شبہ جیسی ہے۔ رہ گیا یہ مسئلہ کہ کیا اس سے وطی کرنا حلال ہے ؟ تویہ مسئلہ محل نزاع ہے۔ اس سے متنازعین میں سے کوئی ایک بھی استدلال نہیں کرسکتا ۔ بلکہ فریق مخالف پر موارد نص و اجماع سے ہی حجت قائم کی جاسکتی ہے۔


صفحہ 6 از 6