جنگ کے دوران ان کی غلطی نظر انداز کرنا
علی محمد الصلابیاگر دوران جنگ کوئی فوجی امیر لشکر کی جزوی مخالفت کر جائے تو اختلاف و انتشار سے بچنے کی خاطر اسے نظر انداز کر دیا جائے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اس سلسلے میں اپنے امراء و قائدین کو نصیحت کرتے تھے کہ ’’کسی لشکر یا سریہ کا امیر جنگ کے دوران کسی فوجی پر حد نافذ نہ کرے تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ شیطانی حمیت میں آکر کفار سے جا ملنے پر مجبور کر دے۔‘‘
(تاریخ الخلفاء: السیوطی: صفحہ 131 )
ایک مرتبہ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے سلمان بن ربیعہ باہلی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اسلامی لشکر روانہ کیا، اس میں سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ عمرو بن معد یکرب اور طلیحہ بن خویلد اسدی رضی اللہ عنہم بھی تھے، کسی بات پر عمرو بن معدیکرب اور سلمان بن ربیعہ کے درمیان تو تو میں میں ہوگئی، سیدنا عمرؓ کو اس کی خبر ملی تو سیدنا عمرؓ نے خط لکھا: ’’حمد وصلاۃ کے بعد! عمرو کے ساتھ تمہارے غلط برتاؤ کی مجھے خبر ملی ہے تم نے اچھا کام نہیں کیا ہے اور نہ ان سے اچھے طریقے سے پیش آئے ہو، تم اس وقت جس حالت میں دارالحرب میں ہو جب اس حالت میں ہو تو عمرو اور طلیحہ کو خاص اہمیت دو، ان دونوں کو اپنے پاس بلاؤ اور ان کی باتیں سنو، اس لیے کہ جنگ کے بارے میں ان دونوں کو علم و تجربہ ہے۔ جب دارالسلام پہنچ جانا تو جس مرتبہ تک ان دونوں نے خود کو گرا لیا ہے انہیں وہی مرتبہ دینا، علماء کو اپنے سے قریب رکھو۔
(الاوائل: عسکری: جلد 2 صفحہ 45)
اور عمرو بن معدیکرب کے نام خط لکھا کہ حمد و صلاۃ کے بعد! امیر لشکر سے تمہاری نوک جھونک اور طعن و تشنیع کی خبر مجھے مل چکی ہے، تمہارے پاس جو تلوار ہے تم اسے صمصامہ (وہ تلوار جس کی دھار نہ مڑے۔) کہتے ہو اور میرے پاس جو تلوار ہے میں اسے مصمم (ہڈی میں گھس جانے والی تلوار) کہتا ہوں۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر میں نے اسے تمہاری کھوپڑی پر رکھ دیا تو اسے اس وقت تک نہ اٹھاؤں گا جب تک کہ میں اس سے تمہارا سر نہ توڑ دوں۔ جب عمرو بن معدیکرب کو یہ خط ملا تو کہنے لگے: اللہ کی قسم وہ ضرور ایسا کر گزریں گے۔
مذکورہ دونوں واقعات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فقہ و بصیرت پر شاہد ہیں کہ قائد جنگ کو دارالحرب میں اور خاص طور سے جب فوج دشمن کے بالمقابل ہو کسی سپاہی کی دل شکنی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ محبت و تالیف قلب کی فضا ہموار رکھنی چاہیے اور جو لوگ جنگی فنون کے ماہر ہوں ان سے مشورہ لیتے رہنا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جب دونوں فریق دارالسلام میں واپس لوٹیں تو آپسی تعلقات کو یکسر توڑ دیں اور رفاقت و محبت کا کوئی شائبہ نہ رہ جائے۔
اسی طرح عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کی قیادت میں جب ’’رہا‘‘ فتح ہوا تو بسر بن ابی ارطاۃ عامری کی قیادت میں شام سے ایک امدادی فوج آئی، اسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکم کے بموجب یزید بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما نے یہاں بھیجا تھا۔ دارالحرب میں (مقام جنگ) میں پہنچ کر بسر اور عیاض رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ حضرت عیاض رضی اللہ عنہ کو امدادی فوج کی ضرورت نہ تھی، اس لیے بسر سے کہا کہ اپنی فوج لے کر واپس جاؤ، یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سیدنا عمرؓ کو جب اطلاع ملی تو آپؓ نے حضرت عیاض رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا اور ان سے طلب کیا کہ اس کی وجہ بتاؤ خاص طور سے اس لیے بھی کہ وہ لوگ تمہاری ہی مدد اور دشمن کو یہ بتانے گئے تھے کہ اسلامی افواج کا سلسلہ بند نہیں ہے تاکہ وہ سہم جائیں اور شکستہ دل ہو جائیں اور جلد سے جلد تمہاری اطاعت قبول کر لیں۔
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ نے یہ خط پا کر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نام جواب لکھا: ’’میں ڈر گیا کہ کہیں ہمارے سپاہی سرکشی نہ کر جائیں اور ان میں اختلاف پیدا ہو جائے اور چونکہ مجھے مدد کی بھی کوئی خاص ضرورت نہ تھی اس لیے معذرت کر دی اور انہیں لوٹ جانے کو کہا، ان کو واپس کر دینے کا میرا یہی مقصد تھا۔‘‘
(فتوح الشام، ابن اعثم: جلد 1 صفحہ 253، 255)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر ان کی رائے کو درست قرار دیا اور ان کے لیے دعا کی اور خاص کر ایسے وقت میں جب کہ فوج دشمن سے نبرد آزما تھی اگر ان کے درمیان اختلاف وافتراق رونما ہو جاتا تو آپس میں لڑ پڑتے اور پھر دشمن کے مقابلے میں شکست کھا جاتے۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 188 )