فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ - ردِ…

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 12

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

[سلسلہ اعتراضات]: [پہلا اعتراض]: شیعہ مصنف لکھتا ہے: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاورثہ دینے سے انکار کر دیا۔تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں :

اے ابو قحافہ کے بیٹے ! کیا تم اپنے باپ کے وارث بن سکتے ہو اور میں اپنے باپ کی وارث نہیں بن سکتی؟ اور ایک منفرد روایت سے احتجاج کیا۔۔اور آپ[ابو بکر رضی اللہ عنہ ] پران کا قرض تھا؛ آپ کے لیے صدقہ حلال تھا ۔اور اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہم انبیاء کی جماعت ہیں ۔ہم وراثت نہیں چھوڑتے ؛ جو کچھ ہم اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔‘‘حالانکہ اس بارے میں جو کچھ آپ سے روایت کیا گیا ہے قرآن ا س کے خلاف کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ﴾ [النساء۱۱]

’’اللہ تمہاری اولاد کی بابت تم کو وصیت فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے ۔‘‘

اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر صرف امت کے ساتھ خاص نہیں کیا ۔بلکہ ان کی روایات کو جھٹلایا ہے۔ جیسا کہ دوسرے موقع پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاوُودَ﴾ [النمل ۱۶]’’ اور حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث بنے ۔‘‘ 

حضرت زکریا علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّ رَآئِ یْ وَ کَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّاo یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ﴾ [مریم۵۔۶]

’’ اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما۔ جو میری اولاد اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جوابات]: اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے : 

پہلا جواب :....شیعہ نے جو قول حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: کیا تم اپنے باپ کے وارث بن سکتے ہواور میں اپنے والد کی وارث نہیں بن سکتی؟ اس قول کی صحت کا کوئی علم نہیں ہوسکا۔ اگریہ قول صحیح ثابت بھی ہوجائے تو اس میں رافضی کے لیے کوئی حجت نہیں ہے۔اس لیے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے والد ِ محترم کو کائنات بھر کے کسی فرد و بشر پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اور ابو بکر مؤمنین کو ان کی جانوں سے بڑھ کر عزیز نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ آپ کے والد محترم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔اور نہ ہی آپ کاشمار ان لوگوں میں ہوتاہے جن پر اللہ تعالیٰ نے نفلی یا فرض صدقہ کو حرام کیا ہے جیسے آپ کے والد محترم پر تھا۔ اور نہ ہی آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کی محبت کو اللہ تعالیٰ اپنی جان و مال اور اہل خانہ کی محبت سے مقدم کرنے کا حکم دیا ہے؛ جیساکہ آپ کے والد محترم کے لیے یہ حکم تھا۔ [اگر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ترکہ چھوڑا تھا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس کی تنہا وارث نہ تھیں ، بلکہ آپ کی ازواج مطہرات اس میں برابر کی شریک تھیں ۔مزید یہ کہ سیدہ عائشہ صدیقہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما اس ضمن میں سرفہرست تھیں جن کے گھر میں آپ نے وفات پائی اور وہیں دفن کیے گئے،حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما بھی برابر کی وارث تھیں ۔ اگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ورثہ نہ پاسکیں تو آپ کی ازواج مطہرات اور آپ کے چچا عباس بھی ورثہ سے محروم رہے ، مگر شیعہ سیدہ فاطمہ کے سوا دیگر اقارب کاذکر تک نہیں کرتے۔ علاوہ ازیں باغ فدک اور خیبر کا خمس اہل بیت کے لیے مباح تھا اور وہ ان سے اپنی ضروریات اسی طرح پوری کرتے تھے جس طرح آپ کی زندگی میں ، جو بچ جاتا وہ ان مصارف میں صرف کیا جاتا، جہاں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔]

انبیائے کرام علیہم السلام اور دوسرے لوگوں کے درمیان ایک فرق یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کے وارث بننے سے پاک رکھا ہے۔ تاکہ ان لوگوں کے لیے شبہ کی گنجائش نہ رہے جو کہتے ہیں :

’’انبیاء کرام علیہم السلام نے دنیا اس لیے طلب کی تھی کہ اسے اپنے بعد اپنے وارثوں کے لیے چھوڑ جائیں ۔‘‘

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے امثال کو وہ مقام نبوت حاصل نہیں ہے جس پر قدح کا اندیشہ نہ ہو۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خط و کتابت ؛ شعر گوئی وغیرہ سے محفوظ رکھا تھا تاکہ نبوت پر کوئی شبہ واقع نہ ہو۔اگرچہ کسی دوسرے کے لیے اس حفاظت میں کوئی حجت نہیں ہے۔

دوسرا جواب :....ہم کہتے ہیں : شیعہ مصنف کا اس کو منفرد روایت قرار دینا صاف جھوٹ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان :’ہم وراثت نہیں چھوڑتے ؛ جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔‘‘[صحیح بخاری ؛کتاب: وصیتوں کے مسائل کا بیان ؛ باب : وقف کی جائیداد کا اہتمام کرنے والا اپنا خرچ اس میں سے لے سکتا ہے ۔ح نمبر: 2776؛ یہ پوری روایت اس طرح ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جو آدمی میرے وارث ہیں ؛ وہ اشرفی اگر میں چھوڑ جاؤں تو وہ تقسیم نہ کریں وہ میری بیویوں کا خرچ اور جائیداد کا اہتمام کرنے والے کا خرچ نکالنے کے بعد صدقہ ہے۔‘‘اس کے علاوہ یہ روایت مختلف الفاظ سے ان کتابوں میں موجود ہے: البخاری ؍ ۸۹ ؛ کتاب المغازی ؛ باب غزوۃ خیبر ۔ مسلم ۳؍ ۱۳۷۶ ؛ کتاب الجہاد و السیر ؛ باب حکم الفیء ؛سنن ابی داؤد ۳؍۱۹۲ ؛ کتاب الخراج الإمارۃ و الفیء ؛ باب في صفایا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ سنن الترمذی ۳؍ ۸۱ ؛ کتاب السیر ؛ باب ما جاء فی ترکۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔]

یہ حدیث خلفاء اربعہ ، حضرت طلحہ، زبیر، سعید، عبدالرحمن بن عوف، عباس، ابوہریرہ(رضی اللہ عنہم ) اور آپ کی ازواج مطہرات (رضی اللہ عنہم )نے روایت کی ہے۔ان لوگوں سے یہ روایت مسانید ‘ صحاح ؛ اور دوسری مشہور کتب احادیث میں موجود ہے؛جسے محدثین کرام اچھی طرح جانتے ہیں ۔ اب رافضی کا اس روایت کو منفرد کہنا اس کی انتہائی جہالت یا جان بوجھ کر جھوٹ بولنے پر دلالت کرتا ہے۔

صفحہ 1 از 12