فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ - ردِ…

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 12

٭ مستفیض نصوص اور اجماع سے تخصیص متفق علیہ مسئلہ ہے۔ جو لوگ اس مسلک پر چلتے ہیں وہ کہتے ہیں : ظاہر آیت عموم کا فائدہ دیتی ہے؛ لیکن یہ عموم مخصوص ہے۔ اور جو حضرات پہلے مسلک پر عمل پیرا ہیں ؛ وہ اس عموم کے ظہور کو صرف ان لوگوں تک تسلیم کرتے ہیں جن کے بارے میں علم ہو کہ وہ وارث بنیں گے۔ اور یہ نہیں کیا جائے گا کہ: اس کا ظاہر متروک ہے۔ بلکہ ہم کہتے ہیں : یہاں پر مقصود صرف وارث کے حصے کا بیان ہے۔ اس حال کا بیان نہیں جس میں وراثت ثابت ہوگی۔ پس آیت مرنے والوں کے ورثاء اولاد میں عام ہے ؛اور موروثین میں مطلق۔ جب کہ اس آیت میں وراثت کی شروط سے تعرض نہیں کیا گیا۔ بلکہ یہ آیت میں مطلق ہیں ؛ نہ ہی اس میں نفی کی دلیل ہے اور نہ ہی اثبات کی ۔جیسا کہ حکم ربانی ہے:

﴿ُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْہُمْ﴾ (التوبۃ ۵]

’’مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ ؛ انہیں قتل کر ڈالو ۔‘‘

یہ حکم ربانی اشخاص میں عام ہے: اور جگہ اور احوال میں مطلق ہے۔ پس جو خطاب اس مطلق کو مقید کرنے والا ہوگا؛ وہ اس شرعی حکم کے بیان سے شروع ہوگا جس سے پہلے کوئی ایسی چیز نہ گزری ہو جو اس کے منافی ہو۔ اور نہ ہی اس ظاہری خطاب شرعی کو ختم کرنے والا اور اس اصل کا مخالف ہو۔

نویں وجہ :....نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وراثت نہ چھوڑنا قطعی دوٹوک سنت اور اجماع صحابہ سے ثابت ہے۔ سنت اور اجماع میں سے ہر ایک دلیل قطعی ہے ۔اس کا مقابلہ کسی ایسی روایت سے نہیں کیا جاسکتا جس کے عام ہونے کے بارے میں گمان کیا جاتا ہو ۔ اگرایسا کوئی عموم ہو بھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ مخصوص ہے۔ اور اگر اسے دلیل تسلیم بھی کرلیا جائے تو یہ دلیل ظنی ہوگی۔ دلیل قطعی کو دلیل ظنی سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس روایت کوکئی ایک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مختلف اوقات اور مختلف مجالس میں بیان کیا ہے۔ ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جس نے اس کا انکار کیا ہو۔ بلکہ ہر ایک نے اسے مانااور اس کی تصدیق کی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی ایک نے بھی میراث حاصل کرنے کے لیے اصرار نہیں کیا ۔ اور نہ ہی آپ کے چچا محترم [حضرت عباس رضی اللہ عنہ ] نے میراث کے لیے اصرار کیا ۔ بلکہ ان میں سے اگر کسی نے ایسا کو ئی مطالبہ کیا بھی تواسے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی خبر دی گئی تو انہوں نے اپنے مطالبہ سے رجوع کرلیا ۔ یہ معاملہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے مبارک عہد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور تک ایسے ہی رہا ۔اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ کی گئی اور نہ ہی آپ کا ترکہ تقسیم کیا گیا ۔

[[صحابہ اس بات پر یقین رکھتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس ضمن میں پیش پیش تھے....کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا وارث کوئی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ جب منصب خلافت پر فائز ہوئے، تو انہوں نے آپ کے ترکہ کو تقسیم کیا نہ اس کے مصرف میں کوئی تبدیلی پیدا کی۔ آیت میراث کے عموم سے آپ کی وراثت پر استدلال کرنا اس لیے صحیح نہیں کہ انبیاء کی وراثت اس سے مستثنیٰ ہے، جس طرح یہ مسائل استثنائی حیثیت رکھتے ہیں ، کہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا اور قتل عمد کا مرتکب ورثہ سے محروم رہتا ہے، نیز یہ کہ غلام وارث نہیں ہوتا]]

دسویں وجہ :....یہ امر قابل غور ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے متعلقین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ سے کئی گنا زائد مال دے دیا تھا۔ اس کے پہلو بہ پہلو یہ بات بھی فراموش کرنے کے قابل نہیں کہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے خود اس مال سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا؛ بلکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا متروکہ مال حضرت علی رضی اللہ عنہ و عباس رضی اللہ عنہ کو اس مقصد کے پیش نظر دے دیا تھا کہ وہ اسے انہی مصارف میں خرچ کریں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے [صحیح بخاری ۳۰۹۸۴، صحیح مسلم:۴۹؍۱۷۵۷۔]اس سے اس تہمت کا ازالہ ہوجاتا ہے جو ان دونوں اکابر پر عائد کی جاتی ہے۔

گیارھویں وجہ :....شیعہ کے جواب میں کہا جائے گا کہ : ظالم بادشاہوں کی عادت رہی ہے کہ وہ جب ان دوسرے لوگوں کے بعد اقتدار میں آجاتے ہیں جنہوں نے ان کے ساتھ احسان کیا ہو‘اور ان کی اچھی تربیت کی ہو‘ اور انہوں نے اس گھرانے سے بادشاہی چھین لی ہو؛ تووہ اس متاثرہ گھرانے کے ساتھ مہربانی اور نرمی کا سلوک کرتے ہیں ‘ اور انہیں عطیات سے نوازتے ہیں تاکہ انہیں اس منازعت[تنازعہ ] سے روک سکیں ۔[اور انہیں کچھ دیکر خاموش کرادیں ]۔

اگر شیعہ کا یہ مفروضہ تسلیم کر لیا جائے کہ۔العیاذ باللہ ۔ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ظالم و غاصب تھے، اور انہوں نے جبراً خلافت پر قبضہ جما لیا تھا تو اس کا تقاضا تھا کہ وہ ان ورثاء سے مزاحم نہ ہوتے جو خلافت و امامت کا استحقاق رکھتے تھے، بلکہ خلافت کے دعوی سے دور رکھنے کے لیے انہیں من مانی دولت عطا کر دیتے تاکہ وہ حکومت و خلافت کا مطالبہ نہ کریں ۔جب کہ حکومت بھی چھین لینا اورمیراث بھی کلی طور پرروک لینا بادشاہوں کی سیرت میں ایسی کوئی بات معلوم نہیں ہوسکی؛ اگرچہ وہ سب سے ظالم اور فاسق و فاجر حکمران ہی کیوں نہ ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ جوکچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا گیا ہے وہ بادشاہوں اور حکمرانوں کی عادت و طبیعت سے خارج امر ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی مؤمنین کی عادات شرعیہ سے بھی خارج ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس معاملہ میں خاص کیا ہوا تھا یہ خصوصیت دوسرے حکمرانوں کے نصیب میں نہیں آئی۔ آپ کی خصوصیت نبوت تھی ؛ او رانبیاء کرام علیہم السلام وراثت نہیں چھوڑا کرتے ۔

انبیاء کی میراث:

بارھویں وجہ :....شیعہ قرآن کریم کی آیت: ﴿ وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاؤٗدَ ﴾’’ اور سلیمان داؤد کے وارث بنے ‘‘ نیز :﴿فَہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّاo یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْب﴾ [مریم۵۔۶]

صفحہ 10 از 12