فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ - ردِ…

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 12

’’پس تو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما۔جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب علیہ السلام کے خاندان کا۔‘‘

[ان مذکورہ بالاآیات ]سے انبیاء علیہم السلام کی وراثت پر استدلال کرتے ہیں ۔حالانکہ ان کا دعوی اس آیت سے ثابت نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ’’ ورثہ ‘‘ اسم جنس ہے اور اس کے تحت متعدد انواع ہیں ۔ اور ایک عام چیز کا ذکر کرنے سے کسی خاص چیز کا ذکر لازم نہیں آتا۔ مثلاً اگر کہا جائے کہ یہاں حیوان موجود ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں انسان یا گھوڑا یا اونٹ موجود ہے ۔ بعینہ اسی طرح ورثہ کا لفظ میراث علم و نبوت اورملوکیت اور مادی وراثت پر بولا جاتا ہے، مندرجہ ذیل آیات ملاحظہ ہوں :

﴿ ثُمَّ اَوْرَثنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَامِنْ عِبَادِنَا ﴾ (فاطر:۳۲)

’’پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس)کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں پسند فرمایا۔‘‘

نیز فرمانِ الٰہی ہے:

﴿اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْوَارِثُوْنَ ٭الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ﴾ [المؤمنون]

’’وہ ہی ہیں میراث لینے والے۔جو فردوس کے وارث ہونگے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ وَتِلْکَ الجنۃُ الَّتِیْ اُوْرِثْتُمُوْہَا بما کنتم تعملون﴾ (الزخرف:۷۲)

’’یہ وہ جنت ہے جس کے وارث تمہیں بنایا گیا ہے؛ ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے تھے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ وَاَوْرَثَکُمْ اَرْضَہُمْ ودیارہم و أرضاً لم تطؤوہا﴾ (الاحزاب: ۲۷)

’’ اور تمہیں ان کی زمینوں اور دیار کا وارث بنایا ؛ اور اس زمین کا بھی جیسے ابھی تم نے نہیں روندا۔‘‘

(یہاں پر وراثت سے مراد بادشاہی وخلافت ارضی ہے)۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہِ یُوْرِثُہَا مَنْ یَّشَائُ من عبادہ والعاقبۃ للمتقین ﴾ (الاعراف:۱۲۸)

’’بے شک زمین اللہ کی ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنائے؛ اور اچھا انجام کار اہل تقوی کے لیے ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ في مشارق الأرض و مغاربہا التي بارکنا فیہا ﴾ (الاعراف: ۱۳۷)

’’ہم نے اس زمین کے مشرق و مغرب کا؛جس میں ہم نے برکت دی تھی؛ کا وارث اس قوم کو بنایا جس کو ضعیف سمجھا جاتا تھا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے:

﴿ وَ لَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ

’’ اور بلاشبہ یقیناً ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ بے شک یہ زمین، اس کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔‘‘(الانبیاء۱۰۵)

محدث ابو داؤد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’بیشک انبیاء علیہم السلام کسی کو درہم و دینار کا وارث نہیں بناتے، بلکہ علمی ورثہ عطا کرتے ہیں ۔جس نے یہ علمی ورثہ لے لیا اس نے بہت بڑا حصہ پالیا ۔‘‘[سنن ابی داود۔ کتاب العلم۔ باب الحث علی طلب العلم،(ح:۳۶۴۱) سنن ترمذی۔ کتاب العلم۔ باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ (حدیث :۲۶۸۲)،ابن ماجۃ، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم( ح:۲۲۳)]

ایسے ہی خلافت کا لفظ بھی ہے۔ اسی لیے میت کے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خلیفہ کہتے ہیں ۔ یعنی اس نے اپنے ترکہ میں فلاں پیچھے[اپنا خلیفہ ] چھوڑا۔ [اس لحاظ سے ] خلافت کبھی مال میں ہوتی ہے ‘ اور کبھی علم میں ہوتی ہے ‘ اور کبھی ان کے علاوہ دیگر امور میں ۔

جب یہ بات سمجھ میں آگئی تواب سمجھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿ وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاؤٗدَ ﴾’نیز : ﴿ یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْب﴾ ان میں لفظ ارث جنس وراثت پر دلالت کرتا ہے ۔مالی وراثت پر دلالت نہیں کرتا۔ پس ان آیات سے خاص طور پر مالی وراثت پر استدلال کرنا مصنف کی وجوہ دلالت سے جہالت کی نشانی ہے ۔ 

جیسا کہ اگر کہا جائے : یہ شخص اس کا خلیفہ ہوگا۔ اور اس نے اسے اپنے بعد چھوڑا ہو۔ تو اس سے مطلق خلافت پر دلالت ہوتی ہے؛ اس میں کہیں بھی یہ دلیل نہیں ہے کہ وہ اس کے مال کا یا اس کی عورت و اہل خانہ کا یا اس کی املاک کا وراث بنے گا۔

تیرھویں وجہ: ....ہم ان نصوص صریحہ کی روشنی میں کہتے ہیں کہ: زیر تبصرہ آیت میں مالی ورثہ مراد نہیں ، بلکہ علم و نبوت کی میراث مقصود ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاؤٗدَ ﴾ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت سلیمان کے سوا حضرت داؤد کے متعدد بیٹے اور بھی تھے، اگر مالی ورثہ مراد ہوتا تو وہ تنہا حضرت سلیمان علیہ السلام کو نہ ملتا ۔ علاوہ ازیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے مالی ورثہ پانے میں کسی کی مدح و ستائش نہیں کی جارہی نہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی اور نہ حضرت داؤد علیہ السلام کی۔ اس لیے کہ نیک و بد سبھی اپنے والد کا مالی ورثہ پاتے ہیں ؛ اس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی کیا خصوصیت ہے؟ حالانکہ آیت کا سیاق حضرت سلیمان علیہ السلام کی مدح اور ان کی خصوصیات کا متقاضی ہے۔ ظاہر ہے کہ مالی میراث ایک عام چیز ہے جو سب لوگوں کے یہاں مشترک ہے؛ جیسے کھانا پینا؛ میت کودفن کرنا ۔ لہٰذا اس طرح کے امور کا انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق ذکر و بیان عبث اور کسی فائدہ سے خالی ہے۔بلکہ وہ چیز بیان کی جاتی ہے جس میں عبرت اور فائدہ ہو۔ وگرنہ کوئی کہنے والا کہے : فلاں انسان مرگیا اور اس کا بیٹا اسکے مال کا وارث بنا ۔‘‘ 

٭ یہ تو اسی طرح ہے جیسے کوئی کہے : اسے دفن کیا؛ او رکوئی کہے : انہوں نے کھایا پیا اور سو گئے ؛ یعنی اس طرح کی باتیں جن کا ذکر کرنا [بے موقع اور بے فائدہ ہے] قرآن کے ساتھ اچھا نہیں لگتا۔

اسی طرح زکریا علیہ السلام کے متعلق آیت قرآنی : ﴿ یَرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ﴾ (مریم: ۶)

صفحہ 11 از 12