فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ - ردِ…

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 12

اس آیت میں بھی مالی ورثہ مراد نہیں ، اس لیے کہ حضرت یحییٰ نے آل یعقوب سے مالی میراث حاصل نہیں کی تھی، بلکہ یہ میراث ان کی اولاد اور دیگر ورثہ نے پائی ہوگی؛ اگر ایسا ہوگا۔[ورنہ انبیاء کرام علیہم السلام کی مالی وراثت نہیں ہوتی]۔اور نبی اللہ زکریا علیہ السلام نے بیٹا اس لیے طلب نہیں کیا تھا کہ ان کے مال کا وارث بنے۔اس لیے کہ اگر مالی وراثت مراد ہوتی تو لازمی طور پر یہ مال آپ سے دوسرے لوگوں کو منتقل ہونا ہی تھا خواہ وہ آپ کا بیٹا ہو یا کوئی اور ہو۔نیز یہ کہ اگر اس سے مقصود یہ ہوتا کہ صرف بیٹاہی مالی وارث بنے ؛ تو اس سے لازم آتا کہ بیٹے کے علاوہ کوئی دوسرا وارث نہ بنے ۔

ایسا کوئی بخیل سے بخیل انسان بھی نہیں کرسکتا ۔اس لیے کہ اگر بیٹا موجود ہو تو اسے دیا جاتاہے۔اس لیے کہ اس کا مقصود ہی بیٹے کو نوازنا ہے۔اور اگربیٹا نہ ہو تو؛ پھربیٹے سے صرف یہ مراد نہیں ہوسکتی کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرایہ مال نہ لے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ حضرت زکریا علیہ السلام مال دار نہ تھے جن کاورثہ حاصل کیا جاتا ۔آپ بڑھئی کا کام کرتے تھے اور حضرت یحییٰ علیہ السلام دنیوی مال و متاع سے بے نیاز تھے، لہٰذا حضرت یحییٰ علیہ السلام کا مالی میراث حاصل کرنا خارج از بحث ہے۔مزید برآں آپ کا یہ فرمان بھی ہے:

﴿ وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّ رَآئِ ی﴾ (مریم ]’’اور بیشک میں اپنے پیچھے قرابتداروں سے ڈرتا ہوں ۔‘‘یہ معلوم ہے کہ آپ اپنے مرنے کے بعد مال کے لینے سے نہیں ڈرتے تھے؛ کیونکہ یہ کوئی ڈرنے والی بات نہیں ۔ 


صفحہ 12 از 12