فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ - ردِ…

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 12

تیسرا جواب :....شیعہ مصنف کا یہ قول کہ:’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مقروض تھے‘‘ صریح کذب ہے۔ کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ کے دعویٰ دار نہ تھے؛ اور نہ ہی اس مال کو اپنے اہل خانہ کے لیے روکنا چاہتے تھے۔ بلکہ آپ کا ترک کردہ مال صدقہ تھا اور وہ ان کو ملنا چاہیے تھاجو اس کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ مسجد مسلمانوں کا حق ہے۔اور عدل یہ ہے کہ اگر کوئی انسان کسی دوسرے پرگواہی دے کہ اس نے اپنے گھر کو مسجد کے لیے وقف کرنے کی وصیت کی تھی یااپنے پانی کے کنوئیں کو عام گھاٹ بنانے یا پھر اپنی زمین کو قبرستان بنانے کی وصیت کی تھی۔ تو ایسی گواہی باتفاق مسلمین جائز ہے۔ اس کنوئیں سے پانی پیاجائے گا؛ اور اس زمین میں مردوں کو دفن کیا جائے گا۔اس لیے کہ یہ گواہی عوام کی طرف سے غیر محصور ہے ۔ اور گواہ بھی اس عموم کے حکم میں داخل ہے ۔ اس کے متعین ہونے کے لیے کسی خاص حکم کی کوئی ضرورت نہیں ۔ایسے معاملات میں کوئی فریق مخالف[خصوم] نہیں ہوتا۔

ایسے ہی کسی مسلمان کی بیت المال کے لیے گواہی کا مسئلہ ہے۔مثال کے طور پر کوئی گواہی دے کہ فلاں انسان کے پاس بیت المال کا کوئی حق ہے ؛ اور یہ گواہی دینا کہ فلاں انسان کا بیت المال کے علاوہ کوئی وارث نہیں ؛ اور ذمی پر گواہی دینا کہ اس نے عہد ذمہ توڑ دیا تھا ؛ اور اب اس کا مال مالِ فئے کے طور پر بیت المال میں داخل ہوگا؛وغیرہ ۔

اگر کوئی انسان گواہی دے کہ فلاں انسان نے اپنا مال فقراء اورمساکین پر وقف کردیا تھا تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ اگرچہ گواہی دینے والا کوئی فقیر انسان ہی کیوں نہ ہو۔

چوتھا جواب :....حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس صدقہ کے مستحق نہ تھے۔ بلکہ وہ ایسی چیزوں سے بے نیاز انسان تھے۔ اور نہ ہی آپ نے خود اور نہ ہی آپ کے اہل خانہ نے اس صدقہ سے کسی قسم کا فائدہ اٹھایا۔ آپ کی مثال ایسے ہی ہے جیسے مالدار لوگوں کی ایک جماعت کسی انسان کے متعلق گواہی دے کہ اس نے اپنا مال فقراء کے لیے صدقہ کرنے کی وصیت کردی تھی تو ان لوگوں کی گواہی بالاتفاق مقبول ہوگی۔

پانچواں جواب :....یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اگر اس کا فائدہ یہ حدیث روایت کرنے والے صحابہ کو بھی حاصل ہوتا ہو تو تب بھی ان کی روایت قبول کی جاتی ۔ اس لیے کہ اس کا شمار روایت کے باب میں ہوتا ہے گواہی کے باب میں نہیں ۔اسی لیے جب محدث کوئی ایسی حدیث بیان کرے جس میں اس کے اورفریق مخالف کے درمیان فیصلہ کن حکم موجود ہو تو اس کی روایت حدیث کو قبول کیا جائے گا۔ اس لیے کہ روایت کا حکم عام ہے اس میں راوی اور دوسرے لوگ برابر کے شریک ہوتے ہیں ۔ اس کا تعلق خبر کے باب سے ہے۔ جیسے کہ چاند دیکھنے کی گواہی۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوحکم بیان کیا ہے وہ راوی اور دوسرے لوگوں کے لیے عام ہے ۔ ایسے ہی جس چیز سے آپ نے منع کیا ہو‘ یا جس چیز کو مباح قرار دیا ہو۔ یہ حدیث بھی ایک شرعی حکم کی روایت کو متضمن ہے۔ اسی وجہ سے یہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے بھی میراث کی حرمت کو شامل ہے ۔اور یہ میراث کی اشیاء کو آپ کے ورثہ سے خریدنے کی حرمت کو بھی متضمن ہے۔اور اس حدیث میں اس مال کو صدقات کے مصاریف میں خرچ کرنے کے وجوب کا حکم بھی ہے ۔

آیات میراث پر بحث:

چھٹا جواب :....شیعہ مصنف نے کہا ہے کہ : حالانکہ اس بارے میں جو کچھ آپ سے روایت کیا گیا ہے قرآن ا س کے خلاف کہہ رہا ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ﴾ [النساء۱۱]

’’اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو وصیت فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے ۔‘‘

اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر صرف امت کے ساتھ خاص نہیں کیا ۔

[ جواب]: اس کا جواب یہ ہے کہ : آیت کے الفاظ کے عموم سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وارث بنیں گے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ فَاِنْ کُنَّ نِسَآئً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ وَ اِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصْفُ وَ لِاَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنْ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَہٗٓ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ فَاِنْ کَانَ لَہٗٓ اِخْوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ﴾ [النساء۱۱]

’’ اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو وصیت فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ؛ تو کل ترکے میں انکا دو تہائی اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ ہوگا؛ بشرطیکہ میت کی اولاد ہو اور اگراس کی اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ ہے؛ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔‘‘

دوسری آیت میں ہے:

﴿وَ لَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُنَّ وَلَدٌ فَاِنْ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ ........إلی قولہ تعالی........مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصٰی بِہَآ اَوْدَیْنٍ غَیْرَ مُضَآرٍّ ﴾ [النساء۱۱]

’’اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں ، اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہاراہے اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی ہے....آگے یہاں تک کہ فرمایا....ادائے وصیت و قرض کے بعد ؛ بشرطیکہ میت نے ان میں سے کسی کا نقصان نہ کیا ہو ۔‘‘

یہ ان لوگوں کے لیے ایک شامل خطاب ہے جو کہ یہاں پر مقصود ہیں ۔ اس میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے موجب ظاہر ہوتا ہوکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت میں مخاطب ہیں ۔

صفحہ 2 از 12