فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ - ردِ…

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 12

مخاطب کا’’کاف ‘‘ ان کو شامل ہوتا ہے جو خطاب سے مقصود ہوں ۔ اگر یہ معلوم نہ ہو کہ کوئی خاص اس خطاب سے مقصود ہے تو وہ اس خطاب میں شامل نہیں ہوگا۔ پھر بعض علماء کرام نے یہ بھی کہا ہے کہ ضمائر مطلق طور پر تخصیص کو قبول نہیں کرتے ۔تو پھر ضمیر مخاطب کا کیاحال ہوگا؟ اس لیے کہ ضمیر خطاب تو صرف اس کے لیے ہوتی ہے جو مخاطب کا مقصود ہو؛ یہ ضمیر ان لوگوں کو شامل نہیں ہوتی جن کا قصد نہ کیا جائے۔اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ ضمیر عام ہے ‘ اور تخصیص قبول کرتی ہے ؛ توبلاشبہ یہ ان لوگوں کے لیے عام ہے جو اس خطاب سے مقصود ہیں ۔ اس آیت میں کوئی ایک اشارہ بھی ایسا نہیں ملتا جس کاتقاضا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان مخاطبین سے مقصود ہیں ۔

اگر یہ کہا جائے کہ : تصور کیجیے ! تمام ضمائر خطاب ؛ متکلم اور غائب بذات خود کسی متعین چیز پر دلالت نہیں کرتیں ؛ مگر اپنے قرائن کی روشنی میں ان کی دلالت واضح ہوتی ہے۔پس ضمائر خطاب ان لوگوں کے لیے وضع کی گئی ہیں جو مخاطب کے خطاب سے مقصود ہو۔ اور ضمائر متکلم کلام کرنے والے کے لیے ہیں خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ لیکن یہ بات معروف ہے کہ قرآن میں خطاب سے مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورتمام مؤمنین ہوتے ہیں ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ ﴾ [البقرۃ ۱۸۳]

’’ اے مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ ﴾ [المائدہ ۶]

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو ۔‘‘

اور ایسے ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ﴾ [النساء۱۱]

’’اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو وصیت فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے ۔‘‘

بلکہ کبھی کبھار قرآن مجید میں جمع کا ’’کاف ‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مؤمنین کے لیے آتا ہے ۔ اور کبھی کبھار صرف مؤمنین کے لیے آتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَاعْلَمُوْا اَنَّ فِیکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْ یُطِیعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِِلَیْکُمُ الْاِِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ اُوْلٰٓئِکَ ہُمْ الرَّاشِدُوْنَ ﴾ [الحجرات ۷]

’’ اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ؛ لیکن اللہ نے تمہارے لیے ایمان کو عزیز بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کر دیا یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں ۔‘‘

یہاں پر کاف صرف امت کے لیے ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہیں ۔ اور ایسے ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ ﴾ [التوبۃ ۱۲۸]

’’ تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہشمند ہیں ۔ اورمومنوں پر نہایت شفقت کرنیوالے اورمہربان ہیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیعُوا اللّٰہَ وَاَطِیعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْا اَعْمَالَکُمْ﴾ [محمد۳۳]

’’ مومنو! اللہ کی اطاعت کرو اور پیغمبر کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ ہونے دو۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ﴾ [آل عمران ۳۱]

’’ فرما دیجئے!اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ 

اس طرح کی دیگر مثالیں بھی ہیں ۔ ان مواضع پر ’’کاف ‘‘ خطاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شامل نہیں ہیں ۔ بلکہ یہ ان تمام لوگوں کو شامل ہے جن کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجاگیا ہے ۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں : ﴿ یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ ﴾ بھی’’کاف‘‘ اسی طرح ہے جیسے مذکورہ بالا آیات میں ۔پس سنت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ظاہر قرآن کے مخالف ہو۔اسی آیت کی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے : 

﴿ وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَلَّا تَعُوْلُوْاo وَ اٰتُوا النِّسَآئَ صَدُقٰتِہِنّ نَحْلَۃً فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْئٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ہَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا﴾ [النساء ۳۔۳]

’’اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیادہ قریب ہے(کہ ایسا کرنے سے نا انصافی اور) ایک طرف جھکنے سے بچ جاؤ۔اور عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو ہاں اگر وہ خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہو کر کھاؤ پیو۔‘‘

صفحہ 3 از 12