فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ - ردِ…

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 12

ان آیات میں ضمائر جیسے : ﴿ وَ اِنْ خِفْتُمْ﴾اور﴿ تُقْسِطُوْا﴾اور﴿فَانْکِحُوْا﴾اور﴿ مَا طَابَ لَکُمْ﴾ ﴿مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ﴾ امت کے لیے ہیں ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہیں ۔اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جائز تھا کہ آپ چار سے بیویوں سے شادیاں کریں ۔اور آپ کو یہ بھی اختیار حاصل تھا کہ بلا مہر شادی کریں ۔جیسا کہ نص اور اجماع کی روشنی میں ثابت ہے۔ 

اگر کوئی یہ بات کہے کہ : جو دلائل تم نے ذکر کیے ہیں ان مثالوں میں ایسے قرآئن موجود ہیں جو ان کے امت کے لیے خاص ہونے کا تقاضا کررہے ہیں ۔پس بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے وجوب کا ذکر کیا جائے ؛ یا آپ کی اطاعت و محبت کے لیے خطاب کیا جائے تو اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خطاب میں شامل نہیں ہیں ۔

تواس اعتراض کرنے والے کو کہا جائے گا: ایسے ہی میراث والی آیت کا حال ہے ؛ جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ﴾ [النساء۱۱]

’’اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو وصیت فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصٰی بِہَآ اَوْدَیْنٍ غَیْرَ مُضَآرٍّ ﴾ [النساء۱۲]

’’ادائے وصیت و قرض کے بعد؛ بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کو کوئی تکلیف نہ دی ہو ۔‘‘

پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُo وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ﴾ [النساء ۱۳۔۱۳]

’’یہ اللہ کی مقرر کردہ حدودہیں اور جوکوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریگااسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم )کی نافرمانی کریگا اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے گا اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اوراس کے لئے رسوا کن عذاب ہے ۔‘‘ 

جب اللہ تعالیٰ نے ان سے عدم درایت کاخطاب کیا؛ جوکہ رسولوں کے احوال کے متناسب نہیں ہوسکتی ؛ تو پھر اس کے بعد وہ امور ذکر کیے جن میں ان رسولوں کی اطاعت واجب ہوتی ہے ؛ ان ہی امور میں سے میراث کے حصوں کی مقدار بھی تھی اوریہ کہ اگر وہ ان حدود کو قائم رکھنے کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے تو ثواب کے مستحق ٹھہریں گے۔ اور اگر اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کریں گے تو سزا کے مستحق ٹھہریں گے۔ یہ مخالفت اس طرح ہوگی کہ کسی وارث کو اس کے مقرر شدہ حصہ سے زیادہ دیا جائے۔ یا وارث جتنے حصہ کا مستحق ہے ؛ اس میں سے کچھ حصہ روک لیا جائے۔ آیات مبارکہ دلالت کرتی ہیں کہ ان کے مخاطبین سے درایت کا علم سلب ہے۔تبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر وعدوں کا ذکر کیا گیا ۔ اوراللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے پر برے انجام سے ڈرایا گیاہے ۔حدود میراث میں تجاوز کے خطاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شامل نہیں ہیں ۔جیسا کہ اس جیسے دوسرے خطاب کے مواقع پر امت کو خطاب شامل ہے ‘آپ کو نہیں ۔

جب مال وراثت میں مقرر شدہ حصے ذکر کرنے کے بعد حدود سے تجاوز کرنے کی حرمت کا ذکر کیا گیا تو اس سے دلالت واضح ہوتی ہے کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کے مقررہ شدہ حصہ میں زیادہ کرے ؛ اور آیت دلالت کرتی ہے کہ ان ورثاء کے لیے وصیت کرنا بھی جائز نہیں ۔ یہ حکم پہلے حکم کا ناسخ ہے جس میں والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا :

’’ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دیدیا ہے ۔ اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ہے ۔‘‘[رواہ اہل السنن‘ ابو داؤد ۳؍۱۵۵؛کتاب الوصایا؛ باب ما جاء : في الوصیۃ للوارث ؛ والترمذي ۳؍۲۹۳۔کتاب الوصایا؛ باب ما جاء : لا وصیۃ للوارث ؛سنن النسائی ۶؍۲۰۷ ؛ کتاب الوصایا ؛ باب إبطال الوصیۃ ؛ ورواہ اہل سیر؛ واتفقت الأمۃ علیہ۔]

یہاں تک کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس حدیث سے آیت وصیت منسوخ ہوئی ہے۔اس لیے کہ استحقاق میراث اور استحقاق وصیت میں کوئی منافات نہیں پائی جاتی ۔ اور نسخ اسی وقت ہوتا ہے جب ناسخ اور منسوخ کے مابین منافات پائی جائے۔

سلف اور جمہور مسلمین کہتے ہیں : یہاں پر ناسخ آیت میراث ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میراث کے حصے مقرر کر دیے ہیں ۔اور پھر ان حصوں سے تجاوز کرنے سے منع کردیا ہے ۔ پس جب مرنے والا اگر وارث کو اس کے مقرر حصہ سے زیادہ دے گا تو وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ اور ایسا کرنا حرام ہے۔ اس لیے کہ جو کچھ اس نے مقرر کردہ حصہ میں زیادہ کیا ہے حقیقت میں وہ دوسرے وارثوں کا اور عصبہ کا حق تھا۔ جب عصبہ کا حق لیا جائے اور اس کو دیا جائے تو ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں ظالم ٹھہرے گا۔

اس لیے علمائے کرام کے مابین اس انسان کے مسئلہ میں اختلاف واقع ہوا ہے جس کا کوئی عصبہ نہ ہو۔ تو کیا یہ مال باقی ورثہ پر رد کیا جائے گا یا نہیں ؟جس نے اس رد سے منع کیا ہے ؛ انہوں نے کہا ہے : میراث بیت المال کا حق ہے۔ کسی دوسرے کو دینا جائز نہیں ۔اور جنہوں نے جائز کہا ہے ؛ وہ اس پر رد کرتے ہوئے کہتے ہیں : اس مال کو بیت المال میں اس وقت رکھا جائے گا جب اس کا کوئی خاص مستحق نہیں ہوگا۔ جب کہ ان لوگوں کے عام اور دیگر خونی[رحمی] رشتہ دار موجود ہیں ۔جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے :

’’حصہ والے اس کے زیادہ حقدار ہیں جن کا کوئی حصہ نہ ہو۔‘‘

صفحہ 4 از 12