فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ - ردِ…

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 12

یہاں پر بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ رافضیوں کے لیے یہ ہرگز ممکن نہیں ہے کہ وہ اس آیت کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شامل ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کرسکیں ۔

اگریہ کہا جائے کہ : اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے کوئی ایک مرجائے ؛ جیسے آپ کی تین بیٹیوں کو انتقال ہوا؛ اور آپ کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہوا ؛ تو کیاآپ ان کے وارث بنیں گے؟

جواب: اس آیت میں خطاب موروثین کے لیے ہے ‘ وارثین کے لیے نہیں ۔تو اس سے لازم نہیں آتا کہ جب آپ کی اولاد موروثین ہونے کی وجہ سے کاف خطاب میں داخل ہیں ؛تو وارثین میں بھی شامل ہوں ۔اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: 

﴿ وَ لِاَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنْ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ﴾ [النساء۱۱]

’’ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ ہوگا؛ بشرطیکہ میت کی اولاد ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے یہاں پر غائب کی ضمیر کے ساتھ ذکر کیا ہے ‘ ضمیر خطاب کے ساتھ نہیں ۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ آپ کی اولادیا باقی لوگوں سے میں جتنے بھی موروث ہیں سب کو شامل ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان مخاطبین کے وارث تھے ۔ اور آپ کو اس طرح خطاب نہیں کیا گیا ہے کہ کوئی آپ کا وارث بنے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد بھی ان میں سے ہیں جن کو کاف خطاب شامل ہے۔تو ان کو وصیت کی گئی ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہوگا۔ پس حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالیٰ کی وصیت ہے کہ بیٹوں کے لیے دولڑکیوں کے برابرحصہ ہے ۔اور ان کے والدین کے لیے اگر [اولاد] والدین کی موجود گی میں فوت ہوجائیں ؛ توان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے ۔

٭ اگر یہ کہا جائے کہ: آیت زوجین میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’ تم [شوہروں کے لیے ] اور ان [بیویوں کے لیے ]۔‘‘

جواب: پہلی بات یہ ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کی وارث نہیں بنیں اور نہ ہی آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ آپ کے وارث بنے ؛ بس صرف آپ کی اکیلی بیٹی ہی آپ کی وارث بنی تھی۔ 

دوسری بات:....اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی ایسی بیوی کے مرنے کا علم نہیں ہوسکا جس کے پاس مال ہو اور آپ اس کے وارث بنیں ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال مکہ میں ہوگیا تھا۔اور زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا الہلالیہ کا انتقال مدینہ میں ہوا؛ لیکن ہمیں کہاں سے پتہ چلے گا کہ آپ نے کوئی مال بھی چھوڑا تھا؟ اور اس سے پہلے آیت فرائض نازل ہوچکی تھی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کایہ فرمان ان سب کو شامل ہے :

﴿وَ لَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ﴾ [النساء۱۱]

’’اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں تو اس میں نصف حصہ تمہاراہے ۔‘‘

یہ خطاب عام ہے تم میں سے جس کی بھی بیوی مرے ‘اور ا سکا کوئی ترکہ ہو۔ پس اگر کسی کی بیوی مری ہی نہیں ‘یا اگر مری ہے تو اس نے اپنے پیچھے کو ئی مال نہیں چھوڑا تو ایسا انسان اس کاف خطاب میں شامل نہیں ہے ۔

اگر اس کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس سے لازم نہیں آتا کہ ایک کاف کے شامل ہونے کی وجہ سے دوسرے کاف کا شمول بھی لازم آئے گا۔ بلکہ یہ امر دلیل پر موقوف ہے ۔

اگر یہ کہا جائے : تم کہتے ہو: ’’ جو احکام آپ کے حق میں ثابت ہیں ؛ وہ آپ کی امت کے حق میں بھی ثابت ہیں ۔ اور ایسے ہی اس کے برعکس۔پس بیشک جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں تووہ تمام امت کو شامل ہوتا ہے ۔یہ بات شارع کی عادت سے معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیْ لَا یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا ﴾ [الأحزاب ۳۷]

’’ پس جب زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی توہم نے اسے آپ کے نکاح میں دے دیاتاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح تنگی نہ رہے جب کہ وہ اپنی غرض ان سے پوری کرلیں ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اسے آپ کے لیے حلال کردیا ہے تاکہ آپ کی امت کے لیے بھی حلال ہوجائے ۔ آپ کو اس حلت میں خاص نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اگلے حکم میں ارشاد فرمایا :

﴿ وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَہَا خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ [الأحزاب ۵۰]

’’ اور وہ با ایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے یہ خاص طور پر صرف آپ کے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں ۔‘‘

تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ کاف آپ کو شامل نہیں ہے؟

جواب :شارع کی عادت سے معلوم ہے کہ جب اس کی طرف سے خطاب آتا ہے تو وہ عام اور شامل ہوتا ہے ۔ جیسا کہ بادشاہوں کی عادت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ کسی امیر کو کوئی حکم دیتے ہیں ‘ تو اس امیر یا عامل کے امثال و نظائر بھی اس میں مخاطب ہوتے ہیں ۔تویہ عادت اوراستقراء سے مخاطب کے لیے کئے گئے خطاب سے معلوم ہوتی ہے۔ جیسا کہ الفاظ کے معانی اہل لغت کے ہاں استقراء و تتبع سے معلوم ہوتے ہیں کہ ان کے ہاں فلاں کلمے کا یہ معنی لیا جاتاہے ۔

صفحہ 5 از 12