فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ - ردِ…

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 12

پس قرآن کریم کی عادت مبارک ہے کہ جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے مختلف رنگ و اسلوب اختیار کرتا ہے ۔ کبھی یہ خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو شامل ہوتاہے اورکبھی شامل نہیں ہوتا۔تو اس سے واجب نہیں آتا کہ اس موقع پر بھی یہ خطاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شامل ہو۔مدعی کے دعوی کی آخری حدیہ ہوسکتی ہے کہ : اصل میں ’’کاف ‘‘ خطاب آپ کو بھی شامل ہے۔جیساکہ اصل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری امت کے ساتھ احکام میں برابر ہیں ۔ اوراحکام شریعت میں آپ اس امت کے ساتھ مساوی ہیں ۔یہاں تک کہ کسی مسئلہ کے آپ کے ساتھ خاص ہونے کی کوئی دلیل مل جائے۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سارے خصائص ہیں جو باقی امت کے برعکس صرف آپ کی ذات کے ساتھ خاص ہیں ۔اہل سنت والجماعت کہتے ہیں : یہ بھی آپ کی خصوصیت ہے کہ آپ وراثت نہیں چھوڑتے ۔ پس کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس حکم میں آپ کی خصوصیت کا انکار کرے ؛ یہ انکار وہی کرسکتا ہے جو باقی تمام خصوصیات کا انکار کرتا ہو۔لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ کسی بھی انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ آپ کی خصوصیت کے لیے دلیل طلب کرے۔بطور دلیل اس بارے میں صحیح اور مشہور بلکہ متواتر احادیث موجود ہیں کہ آپ نے وراثت نہیں چھوڑی ۔ آپ کے اختصاص میں مروی اہم ترین احادیث میں سے مال فئے کے آپ کے ساتھ خاص ہونے کی احادیث ہیں ۔

سلف و خلف میں بہت سارے احکام کے متعلق اختلاف موجود ہے کہ کیا یہ احکام آپ کے ساتھ خاص تھے ؟ جیسا کہ فئے اور خمس کے متعلق اختلاف ہے کہ کیایہ مال آپ کی ملکیت ہوا کرتا تھا یا نہیں ؟ اور کیا جو عورتیں آپ پر حرام تھیں وہ آپ کے لیے مباح کردی گئی تھیں یا نہیں ؟ لیکن سلف و خلف کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ آپ نے کوئی وراثت نہیں چھوڑی ؛ کیونکہ یہ مسئلہ آپ سے صاف ظاہر منقول اور اصحاب کرام رضی اللہ عنہم میں مشہور تھا۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں :

﴿ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ﴾ (الانفال ۱)

’’ وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دے غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ ﴾ (الانفال۳۱)

’’اور جان لو کہ بے شک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو تو بے شک اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں :

﴿مَا اَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرَی فَلِلَّہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْل﴾ (الحشر۷)

’’جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں سے اپنے رسول پر لوٹایا تو وہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے۔‘‘

آیت کریمہ میں لفظ فئے بالکل ویسے ہی ہے جیسے لفظ خمس ۔سورۃ انفال کے نزول کا سبب بدر کا واقعہ تھا۔ تو اس میں اموا ل غنیمت بلا شک و شبہ داخل ہیں ۔ اور اس میں وہ تمام اموال فئے بھی شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ کفار کے مال میں سے مسلمانوں پر انعام کرتے ہیں ۔ اورجیسے لفظ ’’فئے ‘‘ سے وہ تمام اموال مراد لئے جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بغیر جنگ کے عطا کرتے ہیں ؛ تو غنیمت کا مال بھی اس میں شامل ہوتا ہے۔ اور کبھی یہ صرف اس مال ِفئے کی حد تک خاص ہوتا ہے جو بغیر لڑائی اور قتال کے ہاتھ آجائے۔ جس پر سواریا پیادے نہ دوڑے ہوں ۔ پہلے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان گرامی ہے:

’’جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مال فئے دیا ہے ‘ اس میں سے میرا صرف پانچواں حصہ ہے ۔اور یہ پانچواں حصہ بھی آپ لوگوں کی ہی واپس دیا جاتاہے۔ ‘‘[سننِ النسائِیِ:۷؍۱۱۹؛ ِکتاب قسمِ الفیئِ ؛ وفِی سننِ بِی داود:۳؍۱۰۹ کتاب الجِہادِ، باب فِی الإِمامِ یستأثِر بِشیء مِن الفیئِ لِنفسِہِ؛ صحِیحِ الجامِعِ الصغِیرِ:۶؍۲۷۲؛ سِلسِلۃِ الأحادِیثِ الصحِیحۃ:۲؍۵۸۷؛ جاء الحدِیث مرسلا عن عبدِ اللہِ بنِ عمرو فِی: الموطِأ:۲؍۴۵۷؛ کتاب الجِہادِ، باب ما جاء فِی الغلول۔]

یہ خمس اور فئے کے بارے میں ہے ۔پس یہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اضافت اس حیثیت سے ہے ؛ اسی لیے علماء کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ اس اضافت کا تقاضا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مال کے ایسے ہی مالک ہیں جیسے تمام لوگوں کی املاک ہوتی ہیں ۔ اور پھر اس میں سے اموال غنیمت کو لڑنے والے مجاہدین کے لیے خاص کردیا گیا۔ اور اس میں سے پانچواں حصہ ان لوگوں کا ہے جن کا نام لے کر قرآن میں ذکر آیاہے۔ باقی رہ گیا مال ِ فئے یا بقیہ چار حصے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت ہیں ؛ جیسا کہ امام شافعی اور امام أحمد رحمہما اللہ کے اصحاب میں سے ایک گروہ کا خیال ہے؛ کہ اسے فئے میں لوٹایا جائے گا۔ جب اکثر علماء کہتے ہیں : مال فئے میں سے خمس نہیں نکالا جائے گا۔ اس کے خمس کا صرف امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہے؛ جیسے امام خرقی۔ جبکہ امام مالک ؛ امام ابو حنیفہ اور امام احمد رحمہم اللہ ؛ اوران کے جمہور اصحاب ؛ اور دیگر تمام ائمہ مسلمین کے نزدیک مال فئے میں سے خمس نہیں نکالا جائے گا۔ فئے اس مال کو کہتے ہیں : جو مشرکین سے لڑے بغیر حاصل ہو؛ جیسے جزیہ اورخراج ۔

علماء کے ایک دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ اس اضافت کاتقاضا نہیں کرتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مال کے مالک ہوں ؛ بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا نظام اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے اس مال کو تقسیم کرتے ہیں ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

صفحہ 6 از 12