فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ - ردِ…

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 12

’’ اللہ کی قسم! میں تم میں سے کسی کو نہ کچھ دیتا ہوں اور نہ ہی کسی سے کچھ روکتا ہوں ؛ بلکہ میں تقسیم کرنے والا ہوں ؛ میں وہیں پر رکھتا ہوں جہاں کا مجھے حکم دیا جاتا ہے۔‘‘[البخارِیِ:۴؍۸۵؛ فِی المسندِ ط۔الحلبِی:۲؍۴۸۲: ونصہ فِیہِ:’’ واللّٰہِ ما أعطِیکم ولا أمنعکم، وِإنما أنا قاسِم أضعہ حیث أمِرت۔وقال ابن حجر فِی تعلِیقِہِ علی حدِیثِ البخارِیِ فتحِ البارِی: ۶؍۲۱۸۔ ]

اور ایک دوسری صحیح حدیث شریف میں ہے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ میرے نام پر نام رکھو؛ اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو؛ بیشک میں تقسیم کرنے والا ہوں ؛ جو تمہارے مابین تقسیم کرتا ہوں ۔ ‘‘[البخارِیِ:۴؍۸۴؛ کتاب فرضِ الخمسِ، باب قولِ اللّٰہِ تعالی: فإن لِلّٰہِ خمسہ؛ مسلِم:۳؍۱۶۸۲؛ ِکتاب الآدابِ، باب النہیِ عنِ التکنِیۃ بأِبِی القاسِمِ ؛ سننِ أبِی داود:۴؍۳۹۹کتاب الأدبِ، باب فِی الرجلِ یتکنی بِأبِی القاسِمِ، باب من رأی أن لا یجمع بینہما، باب فِی الرخصۃِ فِی الجمعِ بینہما؛ سننِ التِرمِذِیِ:۴؍۲۱۴کتاب الأدبِ، باب ما جاء فِی کراہِیۃِ الجمعِ بین اسمِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وکنیتِہِ ؛ المسندِ ط۔ المعارِفِ الرقم:۷۳۰۔]

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اوامر و نواہی پہنچانے والے ہیں ۔پس جس مال کی نسبت اللہ اور اس کے رسول کی طرف کی گئی ہو؛ وہ ایسا مال ہے جو ان جگہوں پر خرچ ہوگا جہاں کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے؛ خواہ وہ واجب ہو یا مستحب ۔ بخلاف ان اموال کے جن کا مالک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بنا دیتے ہیں ۔ ان کے لیے اس مال کا مباح امورمیں خرچ کرنا جائز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ معاہدہ کرنے والے غلاموں کے بارے میں ارشاد فرمایا:

﴿ وَّآتُوہُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْ آتَاکُمْ ﴾ (النور۳۳)

’’ اور انھیں اللہ کے مال میں سے دو جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘

اکثر علماء جیسے امام مالک اور امام ابو حنیفہ رحمہما اللہ اوردیگر حضرات کا کہنا ہے کہ: ’’تمہیں دیا ہے ‘‘ سے مراد وہ اموال ہیں جن کا مالک اللہ تعالیٰ نے بندوں کو بنایا ہے۔ کیونکہ اس مال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا گیا جیسے دوسری جگہ پر دوسرے مال کو منسوب کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ مال صرف وہاں پر خرچ کیا جائے گا جہاں کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے۔

نفلی اموال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں ؛ کیونکہ ان کی تقسیم اللہ اوررسول کے مرضی کے مطابق ہوتی ہے۔وہ ان اموال وراثت کی طرح نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے مستحقین میں تقسیم کردیے ہیں ۔یہی حکم مال خمس اور مالِ فئے کا بھی ہے۔

مال خمس اور مالِ فئے کے متعلق علماء کرام کا اختلاف ہے۔امام مالک رحمہ اللہ اوردیگر علماء کہتے ہیں : ان دونوں قسم کے اموال کا مصرف ایک ہی ہے۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کا اختیار ہے۔ اور کچھ اصناف اس کے لیے متعین کردی گئی ہیں ؛ جیسے ایتام ؛ مساکین ؛ مسافر ؛انہیں بالخصوص ذکر کیا گیاہے۔ اور امام احمد رحمہ اللہ سے بھی اس کی موافقت روایت کی گئی ہے۔ 

آپ خمس کے مال کو معدنیات اور ذخائر کی طرح سمجھتے ہیں ۔اوریہ مال فئے مال غنیمت کے خمس کے تابع ہے۔جب کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس کے تین حصے کئے جائیں گے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے قرابت داروں کے حصہ کو ساقط قرار دیتے ہیں ۔ اورداؤد بن علی رحمہ اللہ کا کہنا ہے: بلکہ مال فئے کو بھی پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ جبکہ پہلا قول صحیح ترین قول ہے۔ جیسا کہ یہ تفصیل اپنی جگہ پر گزر چکی ہے۔ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورسنت خلفائے راشدین اسی پر دلالت کرتی ہے۔

فرمان ربانی : ﴿فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ﴾ ’’ تو وہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے ‘‘ یہ خمس اور فئے سے متعلق ہے ۔جیسا کہ انفال کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے: ﴿لِلَّہِ وَلِلرَّسُوْلِ﴾ اس مال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ ان اموال کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے تقسیم کرتے ہیں ۔ یہ اموال کسی کی ملکیت نہیں ہیں ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : 

’’ اللہ کی قسم! میں تم میں سے کسی کو نہ کچھ دیتا ہوں اور نہ ہی کسی سے کچھ روکتا ہوں ؛ بلکہ میں تقسیم کرنے والا ہوں ؛ میں وہیں پر رکھتا ہوں جہاں کا مجھے حکم دیا جاتا ہے۔‘‘[سبق تخریجہ]

یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ آپ ان اموال کے مالک نہیں ؛ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو نافذ کرنے والے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دیا تھا کہ آپ بادشاہ نبی بن جائیں یا پھر اللہ تعالیٰ کے متواضع بندے اور رسول بن جائیں توآپ نے متواضع بندہ اور رسول بن جانے کو اختیار فرمایا ۔ یہ ان دونوں منزلتوں میں سے اعلی ترین منزلت ہے ۔ بادشاہ مال کو اپنی پسند میں خرچ کرتا ؛ اس کا اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ جب کہ متواضع بندہ رسول مال کو صرف اس جگہ پر خرچ کرتا ہے جہاں کا اسے حکم دیا جائے۔ پس اس لحاظ سے آپ جو بھی کام کرتے؛ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت ہوتی۔ آپ کی تقسیم میں کو ئی ایسا مباح امر نہیں ہوتاتھا جس پر آپ کو ثواب نہ ملے۔ بلکہ آپ کو ہر ایک کام پر ثواب ملتا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے :

’’جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مال فئے دیا ہے ‘ اس میں سے میرا صرف پانچواں حصہ ہے ۔اور یہ پانچواں حصہ بھی آپ لوگوں کی ہی واپس دیا جاتاہے۔ ‘‘[سنن أبي داؤد ۳؍۱۰۹۔کتاب الجہاد ؛ باب في الإمام یستأسر بشئي من الفئی لنفسہ ۔ و الحدیث صحیح ؛ صححہ الألباني في صحیح الجامع الصغیر ۶؍ ۲۷۲۔ والنسائی ۷؍۱۱۹۔ کتاب قسم الفئی۔ الموطأ ۲؍۴۵۷۔]

یہ حدیث اس کی تائید کرتی ہے۔اس لیے کہ حدیث میں لفظ: ’’اس میں سے میرا ‘‘ کا مطلب ہے کہ اس کا معاملہ میرے ذمہ ہے۔ اسی لیے فرمایا: ’’اور یہ پانچواں حصہ بھی آپ لوگوں کی ہی واپس دیا جاتاہے۔ ‘‘

صفحہ 7 از 12