فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ - ردِ…

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 12

اس اصل کی بنیاد پر آپ کے ہاتھ میں جو بھی اموال تھے ؛ اموال بنی نضیر؛ فدک؛ خیبر کاخمس وغیرہ ؛ یہ تمام اموال مالِ فئے تھے ؛ جوکہ آپ کی ملکیت نہیں تھے؛ اس وجہ سے وہ آپ کی طرف سے کسی کو وراثت میں نہیں ملیں گے ۔ وراثت میں تووہ مال ملتاجو آپ کی ملکیت ہوتا ۔بلکہ ان اموال کے متعلق واجب تھا کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے پسندیدہ اور محبوب کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔یہی بات تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے تھے۔

رہی وہ روایات جن کی بناپر یہ گمان کیا جاتا ہے کہ آپ اس مال کے مالک تھے۔جیسے کہ وہ مال جس کا ایک حصہ حضرت مخیریق کو دینے کی وصیت کی تھی؛تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ : اس مال کا حکم پہلے مال کاہے ۔اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مال آپ کی ملکیت تھا۔لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ تھا اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق لے لیا کریں اور جو ضرورت سے بچ جائے وہ صدقہ ہوگا ‘ اسے وراثت میں نہیں دیا جائے گا۔

صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ میرے ورثہ درہم ودینار تقسیم نہیں کریں گے۔جو کچھ میں اپنے بعد چھوڑوں گا وہ میری بیویوں کا خرچہ ہوگا اورمیرے عمال کی محنت مزدوری ہوگی [جو اس سے بچ جائے ] وہ صدقہ ہوگا۔ ‘‘[البخاري ۴؍۱۲۔کتاب الوصایا ؛ باب نفقۃ القیم للوقف ؛ مسلم ۳؍۱۳۸۲۔ کتاب الجہاد والسیر ؛ باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا نورث ؛ سنن أبي داؤد ۳؍ ۱۹۸ ؛ کتاب الخراج الإمارۃ و الفئي ؛ باب صفایا الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ ]

اورصحیحین میں ہی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ہم وراثت نہیں چھوڑتے ؛ جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔‘‘[البخاري ۸؍۱۲۵؛ ومسلم ۳؍۱۳۷۹۔وسبق تخریجہ۔]

اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے جن میں سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں اور امام مسلم نے بھی آپ سے اوردوسرے صحابہ کرام سے یہ حدیث نقل کی ہے۔

یہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے سیاق میں واقع ہے:[اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ]:

﴿ وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَلَّا تَعُوْلُوْاo وَ اٰتُوا النِّسَآئَ صَدُقٰتِہِنّ نَحْلَۃً فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْئٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ہَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا ﴾ [النساء ۳۔۳]

’’اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو دیگر عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی ؛یہ زیادہ قریب ہے(کہ ایسا کرنے سے نا انصافی اور) ایک طرف جھکنے سے بچ جاؤ۔اور عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو ہاں اگر وہ خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہو کر کھاؤ پیو۔‘‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم ارشاد فرمایا :

﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ﴾ [النساء۱۱]

’’اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو وصیت فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے ۔‘‘

یہ بات معلوم شدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت میں مخاطب نہیں ہیں ۔اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو تین یا چار بیویاں نہیں تھیں ۔بلکہ آپ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ اس سے زیادہ جتنی بھی چاہیں شادیاں کرلیں ۔اورنہ ہی آپ کو یہ حکم تھا کہ بیویوں کو ان کامہر پورا پورا اداکریں ۔بلکہ آپ کو اختیار حاصل تھا کہ اگر کوئی عورت اپنا نفس آپ کو ہبہ کردے تو آپ اسے بغیر مہر کے قبول کرسکتے تھے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَہُنَّ وَ مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلَیْکَ وَ بَنٰتِ عَمِّکَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَ بَنٰتِ خَالِکَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیْ ہَاجَرْنَ مَعَکَ وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَہَا خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِیْٓ اَزْوَاجِہِمْ وَ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ لِکَیْلَا یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ وَّ کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴾ [الأحزاب۵۰]

’’ اے نبی!ہم نے آپ کے لئے وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جنہیں آپ ان کے مہر دے چکے ہیں ؛ اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں آپ کو دی ہیں اورآپ کے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ با ایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے یہ خاص طور پر صرف آپ کے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کی بابت احکام مقرر کر رکھے ہیں یہ اس لئے کہ آپ پر حرج واقع نہ ہو اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بڑے رحم والا ہے ۔‘‘

جب یہ سیاق کلام ہے ‘ تو اس سے واضح ہوگیا کہ یہ[سابقہ آیت میں ] خطاب امت کے لیے ہے آپ کے لیے نہیں ؛ آپ اس آیت کے عموم میں داخل نہیں ہیں۔

٭ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ : اس آیت[سابقہ] میں خطاب عام ہے جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کواور امت کو شامل ہے ؛ مگر اسے آیت نکاح اور آیت مہر سے خاص کیا گیا ہے ۔

صفحہ 8 از 12