فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ - ردِ…

فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 12

جواب: تو اس سے کہا جائے گا: ایسے ہی آیت میراث سے بھی اس حکم کو خاص کیا گیا ہے ۔جو کچھ بھی تم اس کے جواب میں کہوگے وہی تمہارے اعتراض کا جواب ہوگا۔ بھلے آپ یہ کہو کہ آیت کے الفاظ آپ کو شامل ہیں اور پھر آپ کو اس سے خاص کیا گیا ہے ۔ یا پھر یہ کہا جائے کہ : یہ آیت آپ کو شامل نہیں ہے؛ اس لیے کہ آپ اس کے مخاطبین میں سے نہیں تھے ۔یہی بات اس موقع پر بھی کہی جائے گی۔

ساتویں وجہ :....اس آیت کا مقصود یہ بیان کرنا نہیں کہ کون وارث بنے گا اورکون وارث نہیں بنے گااور نہ ہی اس میں وارث اور موروث کے احوال و اوصاف کا بیان ہے ۔بلکہ یہاں پر مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ مالِ موروث اس تفصیل کیساتھ ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔ پس یہاں پر مقصود یہ ہے کہ ان حصہ داروں کو جب وہ وارث بنیں تو اس تفصیل کے ساتھ حصے دیے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر مرنے والا مسلمان ہو‘اور اس کے ورثاء کافر ہوں تو تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ وہ کفار اس مسلمان کے وارث نہیں بنیں گے۔اور ایسے ہی اگر مرنے والا کافر ہو اور اس کے اقرباء مسلمان ہوں تو بھی وہ اس کے مال کے وارث نہیں بنیں گے ؛ جمہور مسلمین کا یہی مسلک ہے۔ایسے ہی اگر مرنے والا غلام ہو اور اس کے ورثہ آزاد ہوں ‘ یا مرنے والا آزاد ہواور اس کے ورثہ غلام ہوں ؛ اور ایسے ہی جان بوجھ کر کسی کو قتل کرنے والا بھی جمہور مسلمین کے نزدیک وارث نہیں بنیں گے۔ایسے ہی غلطی سے قتل کرنے والا دیت میں وارث نہیں بنے گا ۔ اس طرح کے باقی مسائل میں بھی اختلاف ہے۔جب یہ علم حاصل ہوگیاکہ مرنے والوں میں بعض ایسے بھی ہونگے جنکی اولاد ان کی وارث بنے گی اور بعض کی اولاد ان کی وارث نہیں بنے گی۔آیت نے اس کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی کہ کون اس کا وارث بنے گا اور کون اس کا وارث نہیں بنے گا۔اور نہ ہی وارث اور موروث کے کوئی اوصاف و احوال بیان ہوئے ہیں ۔تو اس سے معلوم ہوا یہاں پر مقصود اس کی تفصیل کا بیان کرنا نہیں ‘ بلکہ ان وارثوں کے حقوق بیان کرنا ہے ۔پس اس آیت میں یہ بیان نہیں ہوا کہ کون وارث بنے گا اور کس کا وارث بنے گا۔ اس میں کوئی ایسی دلالت نہیں ہے کہ غیر نبی وارث بنے گا یا اسے وراثت نہیں دی جائے گی۔توپھر اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موروث نہ ہونے پر دلالت بدرجہ اولی موجود ہے ۔

ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے:

’’ اس زمین میں عشر ہے، جسے آسمان یا چشمہ کا پانی سیراب کرے یا خود بخود سیراب ہو اور جس زمین کو کنوئیں سے سیراب کیا جائے، اس میں بیسواں حصہ واجب ہے۔‘‘[البخارِیِ:۲؍۱۲۶؛ کتاب الزکاۃِ، باب العشرِ فِیما یسقی مِن مائِ السمائِ ؛ مسلِم:۲؍۶۷۵؛ ِکتاب الزکاۃِ، باب ما فِیہِ العشر و نِصف العشرِ ؛ سننِ أبِی داود:۲؍۱۴۵؛ ِکتاب الزکاۃِ، باب صدقِۃ الزرعِ ؛ سننِ التِرمِذِیِ ؛ ِکتاب الزکاۃِ، باب ما جاء فِی الصدقۃِ فِیما یسق بِالنہارِ وغیرِہا۔]

اگر اس سے مقصود یہ فرق کرنا ہو کہ کس چیز میں دسواں حصہ واجب ہے؛ اور کس چیز میں بیسواں حصہ واجب ہے؛ اور یہ بیان مقصود نہیں کہ ان میں سے کسی ایک میں کیا واجب ہے اور کیا واجب نہیں ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کے عموم سے سبزیوں میں زکاۃ کے واجب ہونے پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔

فرمان الٰہی ہے:

﴿وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا ﴾ (البقرۃ ۲۷۵]

’’اور اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا ہے؛ اور سود کو حرام ۔‘‘

یہاں پر تجارت اور سود میں فرق بتانا مقصود ہے۔ یہ کہ ان میں سے ایک میں حرام ہے اور دوسرا حلال۔ یہاں پر یہ بیان مقصود نہیں کہ کس چیز کی تجارت جائز ہے اور کس کی ناجائز ۔ پس اس آیت کے عموم سے ہر ایک چیز کے بیچنے پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ اورجس کسی کا خیال یہ ہو کہ ’’اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا ہے‘‘ یہ حکم مردار ؛ خنزیر اور شراب اور کتے ؛ اور لونڈی اور وقف اور دوسرے کی ملکیت ؛ اور پھلوں کی پکنے سے پہلے کی خرید و فروخت کو شامل ہے؛ تو یقیناً وہ غلطی کا ارتکاب کر رہا ہے۔

آٹھویں وجہ :....اس سے کہا جائے گا : تصور کیجیے ! اس آیت کے الفاظ عام ہیں ۔ اوراس میں سے کسی کافر بیٹے ؛ یا غلام یا قاتل کوایسے دلائل سے خاص کیا گیا ہے جو ان دلائل سے کمزور تر ہیں جن کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کے عموم سے خارج کیا گیا ہے ۔اس لیے کہ جن صحابہ کرام نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے کہ : آپ وراثت نہیں چھوڑتے۔‘‘ وہ ان صحابہ سے زیادہ جلیل القدر اہل علم اور کثرت کے ساتھ ہیں جنہوں نے یہ روایت نقل کی ہے کہ کافر مسلمان کا وارث نہیں بنے گا۔یا قاتل کو میراث نہیں ملے گی ۔ اوریہ کہ جوکوئی اپنے غلام کو فروخت کرے ؛ اور اس غلام کا کچھ مال بھی ہو‘ تووہ مال بیچنے والے کا ہوگا سوائے اس صورت کے کہ خریدنے والا اس مال کی شرط بھی لگائے ۔

خلاصہ کلام ! جب یہ آیت کسی نص سے یا اجماع سے مخصوص ہے تو پھر کسی دوسری نص سے اس کی تخصیص کرنا باتفاق مسلمین جائز ہے۔بلکہ علمائے کرام رحمہم اللہ کے ایک گروہ کا نکتہء نظر یہ ہے کہ عام مخصوص مجمل ہی باقی رہے گا۔ عموم قرآن جب کہ خبر واحد سے مخصص نہ ہو تواس کی تخصیص کی بابت علماء کا اختلاف ہے۔ جب کہ عامِ مخصوص کی تخصیص عام خبر واحد سے کی جاسکتی ہے؛ خصوصاً ایسی خبر جسے قبول عام حاصل ہو۔ بلاشک وہ شبہ وہ اس سے عموم قرآن کی تخصیص پر متفق ہیں ۔

٭ اس خبر کو صحابہ کرام میں قبول عام حاصل رہا ہے؛ اور اس پر عمل کرنے پر ان کا اجماع ہے۔ جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ ان شاء اللہ ۔

صفحہ 9 از 12