اقامت اور کوچ کے وقت فوج پر پہرے دار مقرر کرنا
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فوج کی حفاظت کے لیے پہرے داری کا کافی اہتمام کیا اور اپنے قائدین کو حکم دیا کہ دشمن کے اچانک حملے سے ہمیشہ چوکنے رہیں، فوج کی اقامت اور کوچ کے وقت ان کی حفاظت کے لیے پہرے دار مقرر کر دیں، چنانچہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا کہ اپنی فوج پر پہرے دار مقرر کر دو اور حتی الامکان شب خون سے چوکنے رہو، اگر کوئی ایسا قیدی جسے امان نہ دی گئی ہو تمہارے پاس لایا جائے تو اس کی گردن مار دو تاکہ دشمن کے دل میں ڈر بیٹھ جائے۔
(نہایۃ الأرب: جلد 6 صفحہ 170)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ قائدین لشکر کو حکم دیتے تھے کہ جب وہ دشمن کی زمین میں پہنچیں تو مخبروں اور فوجی دستوں کو علاقے میں پھیلا دیں تاکہ دشمن کے حالات اور ان کے ارادوں سے واقف رہیں۔ اس سلسلے میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لکھا:
’’جب دشمن کے علاقہ میں پہنچو تو تحقیق حال کے لیے مخبر بھیجو اور دشمن کے حالات سے پوری طرح باخبر رہو، تمہارے پاس مخبری کے لیے ایسے عرب یا مقامی لوگ ہوں جن کی نیک نیتی اور حق گوئی پر تمہیں پورا اعتماد ہو، کیونکہ عادتاً جھوٹے کی رپورٹ کا کچھ حصہ اگر صحیح بھی ہو تو اس سے تمہیں فائدہ نہیں پہنچے گا اور دھوکے باز تمہارے خلاف جاسوسی ہی کرے گا، تمہارے حق میں نہیں۔ دشمن کے علاقہ کے قریب پہنچ کر رسالے اور دستے اپنے اور دشمن کے درمیان پھیلا دو۔ یہ دستے فوجی ضرورت کی چیزیں اور سامان رسد دشمن تک نہ پہنچنے دیں۔ رسالے دشمن کے فوجی راز معلوم کریں، رسالہ کے لیے ایسے لوگ منتخب کرو جو بڑے بہادر اور صائب الرائے ہوں، ان کو تیز رفتار گھوڑے دو، پس اگر دشمن سے ان کا مقابلہ ہو تو تمہاری رائے سے ان کو قوت ملے۔‘‘
(نہایۃ الأرب: جلد 6 صفحہ 169)
اس قیمتی نصیحت سے ہمارے سامنے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ صرف دشمنوں کی پوزیشن معلوم کرنے کے لیے سیدنا عمر فاروقؓ نے مخبر نہیں استعمال کیے، بلکہ گورنران ریاست، افسران، قائدین لشکر اور فوج سمیت پورے اسلامی لشکر پر اداری نگرانی کے لیے مخبر مقرر کیے، تاکہ ان کے حالات، چال چلن، معاملات اور فوجی کارگزاری کی رفتار سے اچھی طرح واقف رہیں چنانچہ ہر فوجی چھاؤنی اور ہر لشکر میں سیدنا عمرؓ کے مخبر ہوتے تھے، جو سیدنا فاروق اعظمؓ کو وہاں کی تفصیلی رپورٹ دیتے تھے۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 396)
حضرت عمیر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ شام کے ایک علاقہ کے حاکم تھے، وہ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو شکایت کرتے ہوئے کہا: امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ! ہمارے اور روم والوں کے درمیان ’’عرب سوس‘‘ نامی ایک شہر ہے، وہاں کے لوگ ہمارے راز کی باتیں ہمارے دشمن کو بتا دیتے ہیں، لیکن ان کا راز ہمیں نہیں بتاتے۔ ان کے بارے میں ہم کیا کریں؟ سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: جب تم ان کے پاس جاؤ تو انہیں اختیار دو کہ ہم تمہیں ایک بکری کی جگہ دو بکری، ایک اونٹ کی جگہ دو اونٹ، اسی طرح ہر چیز کا دوگنا دیں گے۔ (لیکن تم لوگ ایسا نہ کرو) اگر وہ اس پر راضی ہو جائیں تو انہیں یہ چیزیں دیتے رہو اور وہ شہر نہ اجاڑو اور اگر نامنظور کریں تو انہیں ایک سال کی مہلت دو پھر وہ شہر اجاڑ دو۔
(فتوح البلدان: بلاذری: جلد 1 صفحہ 185)
چنانچہ جب آپؓ ان کے پاس واپس آئے تو ان کے سامنے یہی بات رکھی، لیکن انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا، پھر عمیر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک سال کی مہلت دی اور بالآخر شہر کو اجاڑ دیا۔
(فتح البلدان، بلاذری: جلد 1 صفحہ 185، الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 397)