فوج اتارنے کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے تھے کہ جب تک میدان جنگ کی جغرافیائی حالت، وہاں پہنچنے اور واپس ہونے کے راستے اور پانی اور شادابی کی وافر مقدار میں موجودگی کا تمہیں علم نہ ہو جائے، جنگ نہ چھیڑو۔
(نہایۃ الأرب: جلد 6 صفحہ 170۔ الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 205)
جیسے کہ معرکہ قادسیہ سے قبل سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان کے نام خط لکھا تھا کہ تمہاری فوج صحرائے عرب میں خیمہ زن ہو، اس لیے کہ ایسی صورت میں تمہارے فوجی دشمن سے بچ نکلنے کے راستے سے واقف ہوں گے۔ اگر ہزیمت ہوئی تو اپنی فوج لے کر حدود عرب میں سمٹ سکو گے اور چونکہ تم دشمن کی نسبت اس علاقہ سے زیادہ واقف ہو گے اس لیے وہ بزدل اور تم باہمت ہوگے۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 205)
مزید برآں سیدنا عمرؓ نے سعد بن ابی وقاص، سلمان فارسی اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم کو فوج کے پڑاؤ ڈالنے اور اقامت کرنے کے لیے مناسب مقام کے انتخاب کی ذمہ داری سونپی تھی،
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 206)
اس طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے قائدین لشکر میں جنگ سے متعلق اہم اداری امور تقسیم کر دیے تھے اور مناسب مقام کے انتخاب کے وقت قائدین کو واجبی حکم دیتے تھے کہ جس جگہ کو پڑاؤ ڈالنے کے لیے منتخب کریں اور جہاں فوجی صدر دفتر بنائیں وہاں سے دارالخلافہ کی اعلیٰ فوجی قیادت کے درمیان کوئی سمندری راستہ حائل نہ ہو، اس لیے کہ جنگی منصوبہ بندی، فوج کی امداد رسی اور انہیں سامان رسد کی فراہمی میں اس کا اہم کردار ہوتا ہے۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 207)
اسی طرح حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ کسی مقام پر لشکر لے کر اترنے سے پہلے وہاں کے تمام راستوں اور چراگاہوں اور دریاؤں کے بارے میں اچھی طرح معلومات حاصل کر لو۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 207۔ بحوالہ تاریخ الطبری)