Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فوج کے لیے سامان رسد اور گھوڑوں کے لیے چارہ کا انتظام

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ محاذ عراق پر نبرد آزما ہونے والی فوج کے لیے مدینہ سے بکریوں اور اونٹوں کی شکل میں رسد بھیجتے تھے 

(فتح البلدان: بلاذری: جلد 2 صفحہ 314)

اور جو گھوڑے اور چوپائے جہاد کے لیے استعمال ہوتے تھے ان کے لیے نقیع اور ربذہ (مدینہ سے تقریباً تین دنوں کی مسافت پر حجاز کے راستے پر ایک گاؤں ہے) کی چراگاہ کو خاص کر دیا۔ ناگہانی حالات سے نمٹنے کے لیے بڑے بڑے شہروں میں احتیاطی طور پر جنگی گھوڑے تیار رکھتے تھے۔ چنانچہ بصرہ میں چار ہزار اور کوفہ میں بھی چار ہزار، اسی طرح دوسرے شہروں میں بھی اپنے اندازے کے مطابق گھوڑوں کو پالنے کا حکم دیا تھا۔

(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 217)

اور جب بیت المقدس کے باشندوں سے مصالحت کے لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے گئے تو ’’دارالاھراء‘‘(اھراء‘‘ یہ ھری کی جمع ہے، اس کا معنی ہے وہ بڑا گھر جس میں ملکی سامان رسد رکھا جائے) کے نام سے فوج کی غذا، خوراک اور ان کے سامان رسد کے لیے ایک گودام بنایا اور عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ اس گودام کے سب سے پہلے ذمہ دار بنائے گئے۔

(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 217)