فصل:....خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کا مستحق…

فصل:....خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کا مستحق کون ؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 8

دوسرے معنی کی بیناد پر : خلیفہ وہ ہے جسے دوسرا اپنا قائم مقام مقرر کرے ۔جیسا کہ بعض اہل سنت اور بعض شیعہ اس دوسرے معنی کواختیار کرتے ہیں ۔اہل سنت و الجماعت میں سے جن لوگوں نے یہ معنی اختیار کیا ہے ‘ وہ اس معنی کی بناء پر کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نص جلی یا خفی کے مطابق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر فرمایا تھا۔جیسا کہ شیعہ جوکہ نص سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں ‘ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ آپ نص جلی کی روشنی میں خلیفہ اورامام تھے جیسا کہ امامیہ کا عقیدہ ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ : نہیں ‘ بلکہ آپ کی خلافت نص خفی سے ثابت ہے ؛ جیسا کہ زیدیہ میں سے جارودیہ کا عقیدہ ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں نص جلی یا خفی کا یہ دعویٰ شیعہ کے اس دعویٰ سے اقوی و اظہر ہے جو وہ خلافت علی رضی اللہ عنہ سے متعلق نصوص کے بارے میں کرتے ہیں ، اسی لیے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں کثیر التعداد نصوص وارد ہوئی ہیں ۔ بخلاف ازیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد شدہ نصوص یا تو جھوٹی ہیں یا ان سے یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ بنا بریں یہ مسلمہ صداقت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موت کے بعد صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو خلیفہ مقرر فرمایا تھا۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صرف آپ ہی خلیفہ برحق تھے۔ خلیفہ مطلق وہ ہے جو آپ کی وفات کے بعد خلیفہ بنے یا آپ اپنی موت کے بعد اس کو خلیفہ مقرر کریں ۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں وصف سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور میں موجود نہ تھے؛ اس بنا پر آپ خلیفہ برحق تھے۔

جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حاکم مدینہ مقرر کرنے کا تعلق ہے تو آپ بات میں منفرد نہ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی غزوہ میں نکلتے تو مدینہ منورہ میں اپنے صحابہ میں سے کسی ایک کو اس منصب پر فائز کرتے۔ یہ واقعات ملاحظہ ہوں :

۱۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نضیر سے لڑنے کے لیے مدینہ سے باہر نکلے تو عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو حاکم مدینہ مقرر کیا۔

۲۔ غزوۂ ذات الرقاع اورغزوہ غطفان کے لیے جاتے وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حاکمِ مدینہ قرار پائے۔[سیرۃ ابن ہشام(ص:۴۵۴)، جوامع السیرۃ لابن حزم(ص:۱۸۲،۱۸۳)۔ ]

۳۔ غزوۂ بدر ؛ غزوہ بنی قینقاع اور غزوہ سویق کیلئے تشریف لے گئے تو ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کو حاکم مدینہ مقرر کیا ۔[سیرۃ ابن ہشام(ص:۲۹۲)،جوامع السیرۃ لابن حزم(ص:۱۰۷،۱۰۸)۔]

۳۔ غزوہ بدر الموعد میں آپ نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ پر عامل مقرر فرمایا۔

۵۔ غزوہ المریسیع میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر فرمایا تھا۔

۶۔ غزوہ ابواء میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر فرمایا ۔

۷۔ غزوہ بواط میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر فرمایا ۔

۸۔ غزوہ عشیرہ میں ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کوعامل مقرر فرمایا تھا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جن لوگوں پر عامل بنایا وہ ان لوگوں سے اکثر و افضل نہ تھے جن پر آپ کے علاوہ دوسرے لوگوں کو عامل یا خلیفہ مقرر فرمایا تھا۔بلکہ تقریباً ہر غزوہ کے موقع پر مدینہ نبویہ میں کچھ نہ کچھ مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم موجود ہوا کرتے تھے۔ وہ ان لوگوں سے بہت افضل تھے جو کہ غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے ۔ غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی پیچھے رہنے کی اجازت نہیں دی تھی۔اورنہ ہی اس غزوہ میں کوئی پیچھے رہا تھا سوائے منافق یا معذور کے اورتین افراد وہ تھے جن کی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ہے۔پیچھے رہ جانے والوں کی بڑی تعداد خواتین اور بچوں پر مشتمل تھی۔یہی وجہ تھی کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں نائب بنا کر چھوڑا تو آپ روتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑے ؛ اور آپ کی خدمت میں یوں عرض گزار ہوئے : کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے ساتھ چھوڑے جارہے ہیں ؟یہ بھی کہاگیا ہے کہ بعض منافقین نے آپ پر طعنہ زنی کی تھی ؛ اور یہ کہا تھا کہ : آپ کو اس لیے پیچھے چھوڑ گئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بغض رکھتے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار دوسرے لوگوں کو بھی مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا؛ اوروہ لوگ بھی تعداد میں زیادہ ہوا کرتے تھے ۔ اور ان لوگوں سے افضل ہوا کرتے تھے جن پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نائب بنایا گیاتھا۔تو ثابت ہوا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجود گی میں ایک مخصوص گروہ پر کسی کو نائب مقرر کرنا تھا۔ظاہر ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپکی امت پر استخلاف مطلق نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان اصحاب میں سے کسی کو بھی خلیفہء رسول نہیں کہا گیا۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کویہ خطاب دیاجائے تو دوسرے جو صحابہ وقتاً فوقتاً مدینہ میں نائب بنتے رہے ہیں پھروہ بھی اس خطاب کے مستحق ہیں ۔توپھر یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوئی خصوصیت نہ ہوئی۔

نیز یہ بات بھی کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ جو انسان کسی رسول کے مرنے کے بعدخلیفہ بنتا ہے وہ لوگوں میں سے افضل ترین انسان ہوتا ہے ۔ جب کہ دوسرا وہ انسان ہے جو دشمن سے جہاد کی مہم کے دوران خلیفہ بنتا ہے ‘ اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ تمام لوگوں سے افضل ہو۔ بلکہ عادتاً دیکھا گیا ہے کہ دوران جہاد جو انسان افضل ہوتا ہے ؛اسے جہادی ضرورت کے پیش نظر ساتھ لے جایا جاتا ہے۔ بخلاف اس انسان کے جسے عورتوں اور بچوں پر نائب مقرر کیا جائے۔ اس لیے کہ جہاد میں کام آنے والا انسان اس مہم میں ساتھ شریک ہوتا ہے۔ اس کا مقام بچوں پر نائب بن کر پیچھے رہنے والے کی نسبت زیادہ بڑا ہوتا ہے۔

اس لیے کہ نائب بن کر پیچھے رہنے والے کا فائدہ اس انسان کی طرح نہیں ہے جو جہاد میں ساتھ شریک ہو۔

صفحہ 2 از 8