فصل:....خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کا مستحق…

فصل:....خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کا مستحق کون ؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 8

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ہارون علیہ السلام سے تشبیہ صرف اصل استخلاف میں دی تھی۔[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ تبوک(حدیث:۴۴۱۶)، صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب من فضائل علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ (حدیث: ۲۴۰۴)سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد سیدنا یوشع آپ کے قائم مقام قرار پائے تھے نہ کہ سیدنا ہارون علیہ السلام ، مزید براں یہ امر قابل غور ہے کہ ہارون نبی تھے اور علی رضی اللہ عنہ نبی نہ تھے۔ ہارون سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے اور علی رضی اللہ عنہ ان کے بھائی نہ تھے۔ مذکورہ فرق و امتیاز کے علاوہ اب یہ بات باقی رہی کہ غزوۂ تبوک پر جاتے وقت آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا حاکم مقرر کیا تھا جس طرح سیدنا موسیٰ نے کوہِ طور کو جاتے وقت سیدنا ہارون علیہ السلام کو اپنا قائم مقام مقرر کیا ۔ اصل وجہ مشابہت و مماثلت صرف یہی امر ہے، خاص مدینہ پر استخلاف کا شرف دوسرے لوگوں کو بھی حاصل ہوا مگر کسی نے بھی ان کو نبی کریم کا خلیفہ عام تصور نہ کیا۔ لطف یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی اس غلطی میں کبھی مبتلا نہ ہوئے۔ علاوہ ازیں حدیث نبوی’’اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْن‘‘ محدثین کے نزدیک متنازع فیہ ہے، بعض اسے صحیح کہتے ہیں اور بعض ضعیف(۱) امام ابو الفرج ابن الجوزی رحمہ اللہ اس کو موضوع قرار دیتے ہیں ۔ نیز یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حاکم مدینہ مقرر کیا تو انھوں نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا’’ کیا آپ مجھے عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔‘‘ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مطمئن کرنے کے لیے فرمایا: ’’اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْن‘‘ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہاستخلاف ان کے لیے موجب مدح و منقبت ہوتا تو جیسے کہ شیعہ کا خیال ہے تو اس بات پر اظہار ناراضگی کرنے کی بجائے ان کو خوش ہونا چاہئے تھا، حالانکہ یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی، اہل سنت وشیعہ کے مابین جملہ اختلافی مسائل میں شیعہ کا طرز فکر ہمیشہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اورپسران علی رضی اللہ عنہ سے مختلف ہوتا ہے، اگر کوئی شخص سعی کامل کو کام میں لا کر ایسے مسائل تلاش کرنا چاہے، جن میں شیعہ نے علماء اہل بیت کی مخالفت کی ہے تو ان سے ایک بڑی کتاب مرتب کی جا سکتی ہے۔]کمال استخلاف میں نہیں ۔ اس استخلاف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شریک کار دوسرے لوگ بھی ہیں ۔ اسکی وضاحت یہ ہے کہ اللہ کے نبی موسی علیہ السلام جب اپنے رب سے ملاقات کرنے کے لیے تشریف لے گئے تو ان کے ساتھ اس امرمیں کوئی دوسرا شریک نہیں تھا۔ ورنہ حضرت ہارون علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کے حاکم بنائے گئے تھے۔اس کے برخلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ جب مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام قرار پائے تو اکثر لوگ وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رفاقت میں جا چکے تھے سوائے معذوروں [اورمنافقین ]کے۔ اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت محض عورتوں ، بچوں اور ضعیف لوگوں کے لیے باقی رہ گئی تھی۔تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے مدینہ میں نائب بنایا جانا ہر لحاظ سے ایسے نہیں تھا جیسے حضرت ہارون علیہ السلام کو بنی اسرائیل میں نائب بنایا جانا۔ بلکہ آپ کو اپنی عدم موجودگی میں ایسے امین بنایا تھا جیسے ہارون علیہ السلام کوحضرت موسی علیہ السلام نے اپنی عدم موجودگی میں امین بنایا تھا۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے واضح کیا کہ نائب بنائے جانے سے مقام ومرتبہ میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔بلکہ اس سے انسان کی امانت داری ظاہر ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کواپنی قوم پر اپنا نائب بنایا تھا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے روتے ہوئے چل پڑے تھے۔اور عرض گزاری کی تھی کہ : کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جارہے ہیں ؟ یعنی آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہنا نا پسند کرتے تھے۔

[امارت مدینہ اور من گھڑت روایت پر رد:]

شیعہ مصنف کا قول ’’ اِنَّ الْمَدِیْنَۃَ لَا تَصْلُحُ اِلَّا بِیْ اَوْ بِکَ‘‘ صریح کذب اور موضوع روایت ہے۔[قال ابن جوزی في کتابہ الموضوعات ۱؍۳۵۷ ؛ عن ہذا الحدیث الموضوع: قال ابو حاتم : لیس ہذا الخبر من حدیث ابن مسیب و لا من حدیث الزہري ؛ ولا من حدیث مالک ؛ فہو باطل ؛ ما قالہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ وحفص بن عمر کان کذاباً۔ وقال العقیلي : حفص یحدث عن الأئمہ البواطیل ۔اللآلی المصنوعہ ۱؍۳۴۲ ؛ و الفوائد المجموعۃ للشوکانی ص ۳۵۶۔]

صفحہ 3 از 8