فصل:....خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کا مستحق…

فصل:....خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کا مستحق کون ؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 8

پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سریہ مؤتہ روانہ فرمایا؛ تو فرمایا: ’’تمہارا امیر زید ہوگا؛ اگر وہ قتل ہوگیا تو جعفر ہوگا؛ اور اگر وہ بھی قتل ہوگیا تو عبداللہ بن رواحہ ہوگا؛ رضی اللہ عنہم ۔‘‘آپ نے تمام مجاہدین کو متعین نہیں فرمایا۔ اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی رجسٹر میں لکھے ہوئے تھے۔اور نہ ہی نقباء گھوم کر لوگوں کو ان کے نام لیکر متعین کرکے جہاد کے لیے نکالتے تھے۔بلکہ جب اتنے لوگ جمع ہوجاتے جن سے مقصود حاصل ہو جاتا ہو؛ تو پھر ان پر ایک امیر مقرر کردیتے؛ اورپھر انہیں روانہ کردیتے۔جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا؛ تو یہ متعین نہیں کیا کہ کون کون لوگ ان کے ساتھ حج کرے گا۔ لیکن جن لوگوں نے آپ کے ساتھ حج کیا؛ آپ ان پر امیر تھے۔ پھر ان کے پیچھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا؛ اور آپ کو یہ بتایا کہ آپ مامور بن کر جا رہے ہیں ۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ان پر امیر ہوں گے۔اور جب حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ان کے والد کے قتل ہوجانے کے بعد امیر مقرر فرمایا؛ تو انہیں اسی طرف روانہ فرمایا جہاں دشمن نے آپ کے والد کو قتل کیا تھا۔ اس لیے کہ آپ اسی کو مناسب مصلحت دیکھتے تھے۔ اورلوگوں کو آپ کے ساتھ جانے کی ترغیب دی۔تووہ لوگ چل پڑے جنہیں جہاد میں رغبت تھی۔ اور روایت کیا گیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ نکلے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ جانے کے لیے نہ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو متعین کیا تھا؛ اور نہ ہی کسی دوسرے کو۔ لیکن جو لوگ آپ کے ساتھ نکلے تھے؛ ان کے امیر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ جیسا کہ آپ نے جب حضرت عتا ب بن اسید کو مکہ پر امیر مقرر فرمایا؛تو آپ ان تمام لوگوں پر امیر تھے جو مکہ میں تھے۔ایسے ہی جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یا کسی دوسرے کو سرایا کا امیر مقرر کرتے ؛تووہ ان تمام لوگوں کے امیر ہوتے جو ان کے ساتھ شریک ہوتے۔سریہ پر جانے کے لیے امیر آپ اپنی مرضی سے مقرر فرمایا کرتے تھے۔ ایسا نہیں ہوتا تھا کہ آپ اس امیر کے ساتھ جانے کے لیے لوگوں کو متعین کرتے۔یہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی اور نہ ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ۔یہ ایسے ہی ہے جیسے جب کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنی قوم کا امامت ہوتا تو اپنی قوم کے لوگوں کو نماز وہی پڑھایا کرتا تھا۔تو جو کوئی اس کے پیچھے نماز پڑھتا؛ یہ امام اس کا بھی امام ہوتا۔ بھلے کوئی مقتدی امام سے افضل ہی کیوں نہ ہو۔ صحیح مسلم اور دیگر کتب میں ہے ؛ حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو کتاب اللہ کو سب سے زیادہ پڑھنے والا ہو ، اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو ان میں جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے ۔ اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو ان میں بڑی عمر والا امامت کرے ، آدمی کی امامت اس کے گھر میں نہ کی جائے ۔اور نہ اس کی حکومت میں ، اور نہ ہی اس کی مسند پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے۔‘‘[صحیح مسلم ۱؍۴۶۵؛ کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب من أحق بالإمامۃ۔ سنن ابی داود ۔کتاب: نماز کے احکام و مسائل ۔باب : امامت کا زیادہ حقدار کون ہے ؟ ح:۵۸۲ ؛ قال الالبانی: صحیح۔سنن الترمذي ۱؍۱۴۹ ؛ کتاب الصلاۃ باب من أحق بالإمامۃ ؛ سنن النسائی ۲؍۵۹۔]

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کسی ذی سلطان امام پر آگے بڑھیں ۔ اگرچہ مقتدی اس سے افضل ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لیے علمائے کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں : ’’ بیشک فرائض کے امام پر اس سے افضل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اوریہ سنت چلتی آرہی ہے کہ سب سے پہلے امیر لوگوں کو نماز پڑھائے گا۔ لیکن فقہاء کے مابین اختلاف ہے کہ جب صاحب خانہ اور متولی جمع ہو جائیں تو پھر امامت کون کروائے گا۔ اس میں دو قول ہیں ۔ جیسا کہ نماز جنازہ کے بارے میں اختلاف ہے کہ اس میں والی مقدم ہو گا یا متولی۔ ان میں سے اکثر والی کو مقدم کہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے امیر مدینہ سے آگے بڑھ کر نماز جنازہ پڑھائی۔ اورفرمایا: ’’ اگر ایسا کرنا سنت نہ ہوتا؛ تو میں آپ سے آگے کبھی نہ بڑھتا ۔‘‘حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس امیر سے افضل تھے جس نے آپ کو حکم دیا کہ اپنے بھائی پر نماز جنازہ پڑھیں ۔ لیکن جب وہ امیر تھا؛ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی تھی کہ کوئی انسان دوسرے کی سلطنت میں امامت نہ کرائے ۔‘‘تو پھر آپ کو اسی وجہ سے مقدم کیا گیا۔

مغازی میں شریک لوگوں پر امیرکوہی مقدم کیا جاتا تھا۔ جیسے نماز اور حج میں اسے تقدیم حاصل ہوتی تھی۔ اس لیے کہ وہ اپنے اختیار سے آپ کے پیچھے نمازپڑھتے ؛ اورآپ کے ساتھ حج کرتے ۔ حالانکہ ان پر اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا اور اس کے ساتھ حج کرنا متعین ہو جاتا تھا۔ اس لیے کہ حج کا ایک ہی امیر ہوتا تھا۔ اور نماز کے لیے ایک ہی امام ہوا کرتا تھا۔ ایسے ہی جو کوئی غزوہ پر جانا چاہتا؛ اور غزوہ کا صرف ایک ہی امیر ہوتا تووہ اس کے ساتھ نکل جاتا۔لیکن غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کو جہاد پر جانے کا حکم نہیں دیا کرتے تھے۔ آپ کسی کو بھی نام لیکر یا شخصی طور پر متعین نہیں کرتے تھے۔ بلکہ آپ ترغیب دیتے؛ پس جو کوئی چاہتا وہ جہاد پر نکل پڑتا ؛ یہی وجہ ہے کہ جہاد پر نکلنے والوں کو پیچھے رہ جانے والوں پر فضیلت حاصل ہوتی تھی۔ اگر متعین اشخاص کا جہاد میں نکلنا ہوتا تو سارے لوگ آپ کے حکم کی اطاعت میں نکل پڑتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کافرمان گرامی ہے:

صفحہ 6 از 8