فصل:....خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کا مستحق…

فصل:....خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کا مستحق کون ؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 8

﴿ لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ عَلَی لْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا o دَرَجٰتٍ مِّنْہُ وَ مَغْفَرَۃً وَّ رَحْمَۃً وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاo﴾ (النساء۹۵۔۹۶]

’’ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے، جو کسی تکلیف والے نہیں اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں ، اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے اور ہر ایک سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اپنی طرف سے بہت سے درجوں کی اور بخشش اور رحمت کی۔ اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ایک سریہ کے امیر تھے ۔ سرایا کے امیراء کو خلفاء نہیں کہا جاتا تھا۔[ورنہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے۔ اس لیے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے سریہ ذات السلاسل میں امیرلشکر مقرر ہوئے تھے۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ ذات السلاسل،(ح:۴۳۵۸)، مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۴) اور بڑے بڑے صحابہ مثلاً ابوبکر و عمرو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما آپ کے تابع فرما تھے۔] اس لیے کہ وہ نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے نائب قرار پائے اور نہ آپ کی زندگی ہی میں ہر چیز میں آپ کے قائم مقام تھے۔بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان لوگوں نے ایک جہادی مہم پرکوچ کیا ؛ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی لوگوں میں سے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کردیا۔ یہ ایک نئی مہم تھی جس پر آپ متولی تھے ؛ اپنے سے پہلے کسی کے خلیفہ یا نائب نہیں تھے۔ اس لیے کہ بستیوں اور شہروں کے امراء [گورنروں ] کو بھی خلیفہ کہا جاتا ہے۔ یہ لفظی امور ہیں جن کا اطلاق لغت اور استعمال کے حساب سے ہوتا ہے۔ 

[اشکال ]:شیعہ کا کہنا: ’’ آپ کا انتقال ہوا اورآپ کو معزول نہیں کیا تھا۔‘‘

[جواب] :[جی ہاں ؛ پھر] حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جیش اسامہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا۔حالانکہ بعض لوگوں نے دشمن کے خوف سے اس لشکر کو واپس بلانے کا مشورہ بھی دیاتھا۔آپ نے فرمایا: 

’’اللہ کی قسم ! میں اس جھنڈے کو کبھی بھی نہیں کھولوں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا تھا؛ اور پھر امکان کے باوجود اسے نہیں کھولا۔‘‘

آپ بھی اس جھنڈے کو کھول سکتے تھے ؛ اس لیے کہ اب آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام تھے۔ لیکن آپ نے وہی کیا جو مسلمانوں کے لیے زیادہ مصلحت خیز تھا۔

[شیعہ کا ایک اور جھوٹ]:

جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ناراض ہونے کا واقعہ بھی صریح کذب ہے۔یہ ایک مسجع و من گھڑت پلندہ ہے۔حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے محبت او رآپ کی اطاعت اتنی مشہور ہے کہ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لیے کہ اسامہ تفرق و اختلاف کے خوگر نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ و معاویہ کی لڑائی میں وہ غیر جانب دار رہے۔[صحابہ میں سے سیدنا عبد اﷲ بن عمر، محمد بن مسلمہ، ابو موسیٰ اشعری،اورابوبکرہ رضی اللہ عنہم بھی غیر جانب دار رہے تھے۔]علاوہ ازیں آپ قریشی نہ تھے اور کسی اور وجہ سے بھی خلافت کے لیے موزوں نہ تھے۔اور نہ ہی کبھی آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ آپ کو خلیفہ بنایا جائے۔ توپھر آپ کے اس سوال میں کون سا فائدہ باقی رہ گیا تھا کہ آپ پوچھتے کہ آپ کو کس نے خلیفہ بنایا؟حالانکہ آپ جانتے تھے کہ جو بھی اس معاملہ کا مالک بنے گا وہ آپ پر خلیفہ ہوگا۔

بفرض محال اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر حاکم بنایا تھا، پھر آپ نے وفات پائی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے۔ تو اب لشکر کو بھیجنا نہ بھیجنا اور امراء کا معزول ومتعین کرنا خلیفہ کے ہاتھ میں تھا۔[اس لیے کہ عالم اسلامی میں مصالح حالات کے بدل جانے سے تبدیل ہو جاتے ہیں اگر اسلام کو سیدنا اسامہ یا ان کے لشکر کی کسی اور سلسلہ میں ضرورت لاحق ہو تی تواسلامی مصلحت کو ہر چیز پر مقدم رکھا جاتا۔]اگر وہ کہتے کہ: مجھے آپ پر امیر بنایا گیا ہے ‘ تو آپ کو مجھ پر خلیفہ کس نے بنادیا؟ تو اس کے جواب میں آپ کہہ سکتے تھے کہ : اسی نے مجھے آپ پر خلیفہ بنایا ہے جس نے تمام مسلمانوں پر اور آپ سے افضل لوگوں پر خلیفہ بنایا ہے۔ 

اگر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ : مجھے آپ پر امیر بنایا گیا ہے ؛ تو جناب ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی کہہ سکتے تھے کہ : مجھ پر تیری امارت خلیفہ بنائے جانے سے پہلے تھی۔اب جب کہ میں خلیفہ بن گیا ہوں ‘ تو میں ہی تجھ پر امیر بھی ہوں ۔ یہ ایسے ہی ہے اگر فرض کرلیا جائے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر کسی کو امیر مقرر کیا تھا؛ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ انتقال کر گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے ؛ تو آپ اس پر بھی امیر بن گئے جو کچھ دیر پہلے آپ پر امیر تھا۔ اور اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پر کسی کو امیر مقرر کردیتے ؛ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوجاتا اور ان دونوں میں سے کوئی ایک امیر بن جاتا تو وہ انسان پر بھی امیر ہوتا جو کہ ان پر امیر بنایا گیا تھا۔

صفحہ 7 از 8