Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فوج کو جنگ پر ابھارنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فوج کو جہاد پر ابھارنے کے لیے یہ خط لکھا:

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ کے بندے عمر بن خطاب امیرالمؤمنین کی طرف سے امین الامت ابوعبیدہ بن جراح کے نام! السلام علیکم میں ظاہر و باطن میں اللہ کا شکر گزار ہوں اور تمہیں اللہ کی معصیت کرنے سے ڈراتا ہوں اور تمہیں اس بات سے بھی ڈراتا اور روکتا ہوں کہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جانا جن کے بارے میں اللہ کہتا ہے:

قُلۡ اِنۡ كَانَ اٰبَآؤُكُمۡ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ وَاِخۡوَانُكُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ وَعَشِيۡرَتُكُمۡ وَ اَمۡوَالُ ۨاقۡتَرَفۡتُمُوۡهَا وَتِجَارَةٌ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَ جِهَادٍ فِىۡ سَبِيۡلِهٖ فَتَرَ بَّصُوۡا حَتّٰى يَاۡتِىَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖ‌ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ۞ (سورۃ التوبة آیت 24)

ترجمہ: (اے پیغمبر ! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ: اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔ 

آخر میں اللہ کی رحمت نازل ہو خاتم النّبیین اور امام المرسلین پر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اور ہر قسم کی تعریف بس اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘

(فتوح الشام: الواقدی: جلد 1 صفحہ 117)

جب یہ خط حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو ابو عبیدہؓ نے سب کو پڑھ کر سنایا، لوگوں نے سمجھ لیا کہ اس خط کے ذریعہ سے امیرالمؤمنینؓ ہمیں جہاد پر ابھار رہے ہیں ان کی دلی تمنا ہے اور حکم بھی ہے کہ ہم فضائل اعمال کو لازم پکڑیں اور معصیتوں کے ارتکاب سے منع کر رہے اور نفرت دلا رہے ہیں۔

(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 239)

اتنا ہی نہیں بلکہ ’’امرائے اعشار‘‘ (ہر دس فوجیوں پر ایک امیر مقرر ہوتا تھا، اس طرح جتنی دہائیاں تھیں تنے امراء تھے، انہیں کو امراء الاعشار کہا جاتا ہے۔ (مترجم) کی ذمہ داریوں میں یہ بات شامل تھی کہ وہ اپنے ماتحتوں کو جنگ پر ابھاریں۔

(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 239)