فصل:....فاروق ابن خطاب رضی اللہ عنہ پر رافضی غصہ - ردِ…

فصل:....فاروق ابن خطاب رضی اللہ عنہ پر رافضی غصہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

فصل:....فاروق ابن خطاب رضی اللہ عنہ پر رافضی غصہ

[اعتراض]: شیعہ قلم کار لکھتا ہے: ’’ اہل سنت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق کے نام سے یاد کرتے ہیں ، مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس لقب سے ملقب نہیں کرتے ؛ حالانکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں فرمایا تھا:’’ھٰذَا فَارُوْقُ اُمَّتِیْ‘‘(یہ میری امت کا فاروق ہے)۔ جو حق اور باطل کے مابین فرق کرنے والا ہے۔‘‘حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہم منافقین کوحضرت علی رضی اللہ عنہ کے بغض کی وجہ سے پہچانتے تھے ۔‘‘ 

[انتہی کلام الرافضی]

[جواب] : ہم کہتے ہیں کہ:

پہلی بات:....اہل علم محدثین بغیر کسی شک و شبہ کے جانتے ہیں کہ: یہ دونوں حدیثیں جھوٹی اور من گھڑت ہیں ۔ شیعہ کی طرف سے یہ پہلی جھوٹی حدیث نہیں ،بلکہ وہ متعدد دیگر جھوٹی حدیثیں وضع کر چکے ہیں ۔ ہمیں اس حدیث کی کوئی سند معلوم نہیں ۔اور نہ ہی حدیث کی کسی بھی معتمد کتاب میں ایسی کوئی صحیح روایت موجود ہے۔

دوسری بات:....جو کوئی اگر فرعی مسائل میں بھی کسی حدیث سے استدلال کرے تو اس کیلئے لازمی ہے کہ وہ اس حدیث کی سند بھی پیش کرے ۔توپھر اصول دین میں کیسے بلا سند حدیث پیش کی جاسکتی ہے ؟کسی کہنے والے کا فقط یہ کہنا کہ : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘حجت نہیں ہوسکتا؛ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ اگر یہ حجت ہوتا تو ہر وہ حدیث جس میں کوئی ایک محدث اور اہل سنت یہ کہتا کہ : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ‘‘ حجت بن جاتی ۔ ہم اس باب میں اس بات پر قناعت کرتے ہیں کہ حدیث کو ان لوگوں سے نقل کیا جائے جو سچائی میں معروف ہوں ‘ خواہ ان کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو۔

لیکن جب حدیث کی اسناد نہ ہوں ‘ توناقل حدیث اگرچہ جھوٹ نہ بھی بول رہا ہو‘ وہ کسی دوسرے کی کتاب سے نقل کررہا ہو۔اور نقل کرنے والا نہ جانتا ہو کہ [اس سے پہلے] یہ روایت کس سے نقل کی گئی ہے؟ اس باب میں جھوٹ کی کثرت بڑی ہی معروف ہے ۔تو پھر کسی کے لیے کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی ایسی حدیث سے استدلال کرے جس کی سند کو وہ نہ جانتا ہو؟

تیسری بات:....یہ بات ہر علم رکھنے والا انسان جانتا ہے کہ محدثین کرام رحمہم اللہ سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کے علم کی تلاش میں رہنے والے تھے۔اور سب سے زیادہ اتباع حدیث میں رغبت رکھنے والے تھے۔

لوگوں میں سب سے زیادہ اتباع ہوی سے دور رہنے والے تھے ۔ اگر محدثین کے ہاں یہ ثابت ہوجائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے کوئی ایسا جملہ ارشاد فرمایا تھا ؛ تو ان محدثین سے بڑھ کر کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا حریص نہ ہوتا۔ اس لیے کہ یہ مقدس جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال پر عمل کرنے کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے تھے اور آپ کی محبت میں آپ کی اطاعت کرتے تھے۔اس کے علاوہ کسی ممدوح شخص سے انہیں کوئی غرض نہ ہوتی تھی۔ اگر ان کے ہاں یہ حدیث ثابت ہوجاتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا ہے کہ : ’’ یہ اس امت کے فاروق ہیں ‘‘ تو محدثین اسے قبول کرتے ۔اور اسے نقل کرتے۔جیسا کہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا گیا قول نقل کرتے ہیں :((ھذا أمین ہذہ الأمۃ۔)) ’’ یہ اس امت کا امین ہے ۔‘‘[رواہ البخاری۵؍۲۵ ؛ کتاب فضائل أصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ باب مناقب ابي عبیدہ رضی اللّٰہ عنہ ؛ سنن الترمذي ۵؍۳۱۶؛ کتاب المناقب ؛ باب مناقب أبو عبیدۃ ۔سنن ابن ماجۃ ۱؍ ۴۹ ؛مقدمۃ۔]

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا تھا: ((لکل نبی حواري و حواري الزبیر۔))[البخاری۵؍۲۱ ؛ کتاب فضائل أصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ باب مناقب الزبیر ابن العوام رضی اللہ عنہ ؛ مسلم ۴ ؍۱۸۷۹ ؛ کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل طلحۃ و الزبیر ؛ سنن ابن ماجۃ ۱؍ ۴۵ مقدمۃ۔]

’’ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے ‘ اور میرا حواری زبیر رضی اللہ عنہ ہے ۔‘‘

اور جیسا کہ محدثین کرام رحمہم اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان قبول کیا اور نقل کیا ہے:

’’ لأعطین الرایۃ غداً رجلاً یحب اللّٰہ و رسولہ و یحبہ اللّٰہ و رسولہ ۔‘‘[یہ حدیث صحابہ کرام کی ایک جماعت نے روایت کی ہے ۔ دیکھو: رواہ البخاری۵؍۱۸؛ کتاب فضائل أصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ باب علي بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ ؛ سنن الترمذي ۵؍۳۰۱؛ کتاب المناقب ؛ باب مناقب علي بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ ۔سنن ابن ماجۃ ۱؍۴۳ ؛ مقدمۃ۔]

’’ کل میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ‘ اور اللہ اوراس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘

چادر والی حدیث جس میں آپ نے حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہم کیلئے فرمایا تھا:

’’یا اللہ ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی کو دور کردے ‘ اور انہیں بالکل پاک کردے ۔‘‘ [مسلم۴؍۱۸۸۳؛ سبق تخریجہ۔]

ان کے علاوہ ایسی دیگر بھی کئی ایک روایات ہیں ۔

چوتھی بات :....ان دونوں روایتوں میں سے ہر ایک کا جھوٹ اور باطل ہونا صاف ظاہر ہے ۔ ان روایات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ۔اس لیے کہ یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ یا کسی دوسرے کے فاروق ِامت ہونے سے کیامراد ہے ؟کیا حق و باطل میں فرق کرنا مراد ہے ؟ اگر اس سے مراد یہی ہو کہ اس سے اہل حق اور اہل باطل کے درمیان امتیاز ہوتا ہے ؛ اور مؤمنین اور منافقین میں فرق ہوتا ہے ؛ تو یہ ایسا معاملہ ہے جس پر انسانوں میں سے کسی ایک کا بس نہیں چلتا۔ نہ ہی کسی نبی کا نہ ہی کسی دوسرے کا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ وَ مِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ﴾ [التوبۃ۱۰۱]

صفحہ 1 از 5