فصل:....فاروق ابن خطاب رضی اللہ عنہ پر رافضی غصہ - ردِ…

فصل:....فاروق ابن خطاب رضی اللہ عنہ پر رافضی غصہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

’’ اور ان لوگوں میں سے جو تمھارے ارد گرد دیہاتیوں میں سے ہیں ، کچھ منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ میں سے بھی جو نفاق پر اڑ گئے ہیں ، آپ انھیں نہیں جانتے، ہم ہی انھیں جانتے ہیں ۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اہل مدینہ میں سے اور مدینہ کے گردونواح کے منافقین میں سے ہر ایک کو متعین طور پر نہیں جانتے تھے ؛ تو پھر کوئی دوسرا کیسے جان سکتا ہے ؟

اگر یہ کہا جائے کہ : آپ اہل حق اور اہل باطل کی صفات بیان کیا کرتے تھے؛ تو یقیناً قرآن میں مجید میں اس کا کافی و شافی بیان موجود ہے ۔اور قرآن ہی وہ فرق کرنے والی کتاب ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حق و باطل میں فرق کیا ہے ؛ اس میں کوئی شک و شبہ والی بات ہی نہیں ۔

اگر یہ کہا جائے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ : جو لوگ آپ کے ساتھ مل کر لڑتے تھے وہ حق پر تھے ‘ اور جو آپ سے لڑرہے تھے وہ باطل پر تھے ۔تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اگر اس بات کو صحیح بھی تسلیم کرلیا جائے تو اس سے آپ کے اور صرف اس خاص گروہ کے درمیان فرق و امتیاز ہوتا ہے۔پس اس لحاظ سے ابو بکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اس کے زیادہ حق دار ہیں ۔اس لیے کہ انہوں نے اہل حق مؤمنین کو ساتھ لیکر کفار اہل باطل سے قتال کیا ۔ان لوگوں کی وجہ سے جو فرق و تمیز حاصل ہوئی وہ زیادہ اکمل و افضل تھی۔اس لیے کہ کوئی عقلمند اس بات میں شک نہیں کرسکتا کہ جن لوگوں سے خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم نے قتال کیا وہ باطل پرستی کے زیاد قریب تھے بہ نسبت ان لوگوں کے جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتال کیا ۔ اس لیے کہ جب بھی دشمن جتنا زیادہ باطل پر ہوتا ہے اس سے لڑنے والے اس قدر زیادہ حق پر ہوتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ بروز قیامت سب سے زیادہ عذاب میں وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے کسی نبی کوقتل کیا ہو ‘ یا پھر کسی نبی کے ہاتھوں سے قتل ہوا ہو۔ وہ مشرکین جو کہ براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیا کرتے تھے ؛ جیسے ابو جہل ‘ ابو لہب وغیرہ ؛ یہ دوسرے لوگوں سے بڑھ کر برے تھے۔پس جب خلفاء ثلاثہ سے لڑنے والے سب سے بڑے باطل پرست تھے تو ان کی ہمراہی میں لڑنے والے سب سے بڑے حق پرست تھے۔اس لحاظ سے یہ لوگ صفت فرقان کے زیادہ حق دارہیں [کہ انہیں فاروق کا خطاب دیا جائے ]۔

اگر یہ کہا جائے کہ :’’ آپ اس لیے فاروق ہیں کہ آپ کی محبت اہل حق و اہل باطل کے مابین فرق کرنے والی ہے ۔‘‘

تواس کا جواب یہ ہے کہ: اولاً: یہ آپ کا ذاتی فعل نہیں ہے کہ اس وجہ سے آپ کو فاروق کہا جائے ۔

ثانیاً : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اہل حق و اہل باطل کے درمیان سب سے بڑی وجہ تمیز وتفریق ہے ۔ اس پر تمام مسلمانوں کااتفاق ہے ۔

ثالثاً : اگر کوئی اعتراض کرنے والا اعتراض کرے اورکہے کہ : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی محبت اہل حق و اہل باطل کے مابین فرق کرنے والی ہے تو ان کا دعوی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہی دعوی کرنے والوں سے کسی طرح کمزور نہیں ہوگا۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے آپ نے جب فتنہ کا ذکر کیا تو[حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق] فرمایا : ’’اس دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے ۔‘‘ [الترمذي ۵؍۲۹۱ ؛ کتاب المناقب : باب مناقب عثمان رضی اللّٰہ عنہ ؛ قال الترمذي: حسن صحیح۔]

اگر یہی دعوی حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں کہا جائے تو یہ بات کسی پر مخفی نہیں ہے کہ ان کا دعوی غالب ہوگا۔ اور جس کسی کا قول صرف دعوے تک محدود ہو تو اس کا مقابلہ ایسے ہی دعوی سے کیا جاسکتا ہے ۔ اگر اس سے مطلق محبت کا دعوی مراد ہو تو پھر اس میں غالی لوگ بھی داخل ہوں گے ؛ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رب یا نبی مانتے ہیں ۔ تو پھر یہ لوگ زیادہ حق پر ہوں گے۔ حالانکہ ایسا کہنا صریح کفر ہے اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ اوراگر اس سے مطلق محبت مراد ہو تو پھر اس کا معاملہ بھی علیحدہ ہے۔

اہل سنت والجماعت کہتے ہیں :ہم شیعہ سے بڑھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والے ہیں ۔اس لیے کہ جس محبت میں غلو پایا جائے ‘ وہ یہودکی حضرت موسی علیہ السلام سے اور نصاری کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت کی طرح ہے۔یہ محبت باطل ہے۔ صحیح محبت یہ ہے کہ محبت کرنے والااپنے محبوب سے ان اوصاف و خصال کی وجہ سے محبت کرے جو اس میں موجود ہیں ۔اگر کوئی شخص کسی نیک انسان کے متعلق یہ نظریہ رکھے کہ فلاں ولی اللہ کا نبی ہے۔یا اس کا شمار سابقین اولین میں ہوتا ہے؛ وہ اس بنیاد پر اس سے محبت کرنے لگ جائے۔ حقیقت میں اس نے ایسی چیز سے محبت کی ہے جس کی کوئی اصل یا حقیقت نہیں ہے۔اس لیے کہ محبت کرنے والے نے اس وجہ سے محبت کی ہے کہ وہ صفات اس کے محبوب میں موجود ہیں ۔ جب کہ یہ صفات اس میں اصل سے موجود ہی نہیں ۔توپھر اس نے موجود اوصاف سے محبت نہیں کی بلکہ معدوم سے محبت کی ہے۔اس کی مثال اس شخص کی ہے جو کسی عورت سے یہ سوچ کر شادی کرے کہ وہ بڑی مال دار ہے ؛ بہت خوبصورت ہے؛ دیندار اور حسب و نسب والی ہے۔پھر اس کے لیے عیاں ہوں کہ اس میں ان کے خیالات و تصورات میں سے کوئی چیزنہیں پائی جاتی۔تو یقیناً جتنی اس عورت میں کمی نظر آئے گی؛ اس قدر اس کی محبت میں بھی کمی آئے گی۔اس لیے کہ جب حکم کسی علت کی وجہ سے ثابت ہو تو اس علت کے ختم ہونے سے حکم بھی ختم ہوجاتا ہے۔

صفحہ 2 از 5