فصل:....فاروق ابن خطاب رضی اللہ عنہ پر رافضی غصہ - ردِ…

فصل:....فاروق ابن خطاب رضی اللہ عنہ پر رافضی غصہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

مذکورہ بالا بیان سے اس حدیث کی وضاحت ہو جاتی ہے، جو صحیح مسلم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا کہ صرف مومن ہی تجھ سے محبت کرے گا۔اور صرف منافق ہی تجھ سے بغض و عداوت رکھے گا۔‘‘[مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب الدلیل علی أن حب الانصار و علی رضی اللّٰہ عنہم من الایمان(ح:۷۸)۔]

یہ حدیث صحیح اور ثابت شدہ ہے ۔ روافض صحیح معنی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے اصل اوصاف کی بنیاد پر دوستی نہیں رکھتے ، بلکہ ان کی محبت یہودیوں کی حضرت موسی علیہ السلام اور عیسائیوں کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام محبت کی جنس سے ہے ۔ بلکہ رافضی ایک اعتبار سے جناب علی رضی اللہ عنہ سے بغض و عداوت رکھتے ہیں ۔ جس طرح یہود و نصاریٰ حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے[ حقیقی ]اوصاف سے بغض رکھتے ہیں ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کو نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتے ہیں ، حالانکہ موسیٰ و عیسیٰ رحمہم اللہ آپ کی رسالت و نبوت کے معترف تھے۔[[ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ الفت و محبت رکھتے تھے۔ مگر شیعہ اس کے باوصف ان سے عداوت رکھتے ہیں ، بنا بریں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول میں داخل ہیں کہ ’’ صرف منافق ہی آپ سے بغض رکھے گا]]۔‘‘

علی ہذا القیاس جو شخص بھی کسی بزرگ سے ایسی صفت کی بنا پر محبت رکھتا ہے جو فی الواقع اس میں نہیں پائی جاتی تو گویا وہ اس سے عداوت رکھتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اس کا مرشد اپنے تمام مریدوں کی سفارش کرے گا۔اوریہ کہ وہ شیخ اسے رزق پہنچاتا اور اس کی مدد کرتا ہے، اس کی مشکلات کو دور کرتا ہے؛ یا اس کی حاجات و ضروریات پوری کرتا ہے،یا یہ کہ وہ شیخ اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا مالک ہے ؛ یا وہ یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اس کا شیخ عالم الغیب ہے۔یا پھر وہ بادشاہ مطلق بن گیا ہے؛ اور معاملہ حقیقت میں ایسے نہ ہو ؛ تو یقیناً اس نے ایسی چیز سے محبت کی ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان کہ:’’ صرف مومن ہی مجھ سے محبت کرے گا۔اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض و عداوت رکھے گا۔‘‘یہ آپ کے خصائص میں سے نہیں ۔صحیحین میں ہے: سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :

’’ ایمان والے کی نشانی انصار سے محبت کرنا ہے ‘ او رمنافق کی نشانی انصار سے بغض رکھنا ہے۔ ‘‘[البخاري ۵؍۳۲؛ کتاب مناقِبِ الأنصارِ، باب حبِ الأنصار ، مسلِم:۱؍۸۵کتاب الإِیمانِ، باب الدلِیلِ علی أن حب الأنصارِ....، المسندِ ط۔ الحلبِی: ۳؍۱۳۰، وقال: لا یبغِض الأنصار رجل یؤمِن بِاللہِ والیومِ الآخِرِ ....؛ فِی: مسلِم: ۱؍۸۶، کتاب الِإیمانِ، باب الدلِیلِ علی أن حب الأنصار....، سننِ التِرمِذِیِ:۵؍۳۷۳ کتاب المناقِبِ، باب فِی فضلِ الأنصارِ وقریش ، المسندِ، ط۔ المعارِف: ۴؍ ۲۹۳۔]

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایاہے : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار کا دشمن نہیں ہو سکتا۔‘‘[البخارِیِ:۵؍۳۲؛ کتاب مناقِبِ الأنصارِ، باب حبِ الأنصار ، مسلِم:۱؍۸۵کتاب الإِیمانِ، باب الدلِیلِ علی أن حب الأنصارِ....، سننِ التِرمِذِیِ :۵؍۳۷۱، کتاب المناقِبِ، باب مِن فضلِ الأنصارِ وقریش ، المسندِ ط۔ الحلبِی:۴؍۲۸۳۔]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ’’ انصار سے صرف مؤمن ہی محبت رکھے گا‘ او ران سے منافق ہی نفرت و بغض رکھے گا۔‘‘ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کے لیے یہ دعا فرمائی تھی کہ’’ اللہ تعالیٰ مومنین کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کردے۔‘‘[صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب من فضائل ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ (حدیث: ۲۴۹۱) ۔]

آپ فرمایا کرتے تھے: ’’آپ کوئی بھی مؤمن نہیں پائیں گے مگر وہ مجھ سے اور میری ماں سے محبت کرتا ہوگا۔‘‘

ان احادیث کی روشنی میں مذکورہ بالا احادیث اور شیعہ کی روایت کردہ حدیث میں فرق واضح ہوجاتا ہے ۔

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتاہے:عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے کہ:’’ ہم منافق کو صرف بغض علی کی بنا پر پہچانا کرتے تھے۔‘‘

[جواب]:اس روایت کے بارے میں ہر عالم جانتا ہے کہ یہ من گھڑت جھوٹ ہے ۔اس لیے کہ نفاق کی بہت ساری نشانیاں ہیں ؛ او رحضرت علی رضی اللہ عنہ کے بغض کے علاوہ بھی متعدد اسباب ہیں ۔ توپھر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض کے علاوہ کوئی نفاق کی نشانی کیسے نہیں ہوسکتی۔

علامات نفاق:

[ نفاق کی بہت سی نشانیاں ہیں ]۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انصار سے عداوت رکھنا علامت نفاق ہے۔‘‘[صحیح مسلم، کتاب الإیمان۔ باب الدلیل علی ان حب الانصار و علی رضی اللّٰہ عنہم ....‘‘ (حدیث:۷۴) صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب علامۃ الایمان حب الانصار (حدیث:۱۷) ]

آپ نے یہ بھی فرمایا: ’’ منافق کی تین نشانیاں ہیں :جب بات کرے تو جھوٹ بولے ؛ جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اورجب اسے امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے۔‘‘[البخاری، کتاب الایمان۔ باب علامات المنافق(ح:۳۳) مسلم کتاب الایمان باب خصال المنافق(ح:۵۹)]

قرآن کریم میں منافقین کے اوصاف کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:

﴿وَ مِنْہُمْ مَّنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْہَا رَضُوا﴾ (التوبۃ:۵۸)

’’ ان (منافقین) میں سے وہ بھی ہیں جو صدقات کے بارے میں آپ کو طعن دیتے ہیں اگر ان کو صدقات دیے جائیں تو وہ راضی ہو جاتے ہیں ۔‘‘

نیز فرمایا:﴿وَ مِنْہُمُ الَّذِیْنَ یُوْذُوْنَ النَّبِیَّ﴾ (التوبۃ:۵۸)

’’منافقین میں سے وہ بھی ہیں جو نبی کو ایذا دیتے ہیں ۔‘‘

اورارشاد ہوتا ہے:﴿وَ مِنْہُمْ مَّنْ عَاہَدَ اللّٰہَ ﴾ (التوبۃ ۷۵) 

’’ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے [جھوٹے ] وعدے کرتے ہیں ۔‘‘

اورارشاد ہوتا ہے:﴿وَ مِنْہُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِیْ وَلَا تَفْتِنِّيْ﴾ (التوبۃ:۳۹)

صفحہ 4 از 5