فصل:....فاروق ابن خطاب رضی اللہ عنہ پر رافضی غصہ - ردِ…

فصل:....فاروق ابن خطاب رضی اللہ عنہ پر رافضی غصہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

’’منافقین میں سے بعض کہتے ہیں کہ ہمیں اجازت دیجیے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیے۔‘‘

دوسری جگہ فرمایا:﴿وَ مِنْہُمْ مَّنْ یَّقُوْل اَیُّکُمْ زَادَتْہُ ھٰذِہٖ اِیْمَانًا﴾ (التوبۃ:۱۲۳)

’’ان میں سے بعض کہتے ہیں : اس آیت نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا۔‘‘

اللہکریم نے سورۂ توبہ اور دیگر مقامات پر منافقین کی جو علامات بیان کی ہیں انھیں یہاں تفصیلاً بیان نہیں کیا جا سکتا۔ شیعہ نے جو جھوٹی روایت ذکر کی ہے، اگر اس کے الفاظ یہ ہوتے کہ ہم منافقین کو بغض علی رضی اللہ عنہ کی بنا پر پہچان لیا کرتے تھے؛ تو بھی ایک بات تھی۔ جس طرح بغض انصار کو علامت نفاق قرار دیاگیا، بلکہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ کے بغض کو بھی نفاق کی علامت ٹھہرایا گیا ہے۔ اس لیے کہ جو شخص دانستہ اس کو نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محبت رکھا کرتے تھے؛ اوروہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اور دوستی رکھا کرتا تھا؛ اس کا بغض و عناد بلا شبہ علامات نفاق میں سے ایک علامت ہے۔یہ دلیل خود ان لوگوں کا رد کرتی ہے ؛ جب کہ اس کا عکس کہیں بھی ثابت نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والے سب سے بڑے منافق سمجھے جاتے تھے۔ کیوں کہ صحابہ میں سے کوئی بھی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عزیز تر نہ تھا اور نہ ہی صحابہ میں کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ چاہنے والا تھا، اس سے واضح ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بغض وعناد رکھنا نفاق کی عظیم ترین علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عناد رکھنے والے نصیریہ اور اسمٰعیلیہ اوردیگر سب سے بڑے منافق ہوتے ہیں ۔

[اعتراض]: اگر کوئی معترض یہ بات کہے کہ : رافضی جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہیں ‘ ان کا ایمان تھا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں ۔ اس لیے کہ ان لوگوں کو ایسی کہانیاں گھڑ کر سنائی گئی ہیں جن کا تقاضا ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت اطہار سے بغض رکھتے ہوں ۔اس لیے وہ بھی جناب ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہیں ۔‘‘ 

[جواب]: اگر یہ واقعی عذر ہے تو پھر ان لوگوں کے منافق ہونے میں کیا مانع ہے جو جہالت اورتأویل کی بنا پر آپ سے بغض رکھتے ہوں ۔ تو پھر یہی حال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والوں کا ہوگا ‘ جن کا اعتقاد ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کافر اور مرتد ہو گئے تھے۔یاآپ ظالم اور فاسق تھے۔تووہ بھی آپ سے اس وجہ سے بغض رکھتے ہیں کہ آپ دین اسلام سے بغض رکھتے تھے۔ یا اللہ تعالیٰ نے جوآپ کو عدل و انصاف کا حکم دیا تھا‘ اس سے محبت نہیں کرتے تھے۔اور ان لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ آپ نے حکومت کی تلاش میں امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قتل کروایا۔ اور آپ نے زمین میں فساد پھیلایا ۔اور آپ کی مثال ایسے ہی تھی جیسے فرعون یا اس جیسے دوسرے لوگوں کی ۔ ایسا کہنے والے بھی اگرچہ جاہل ہیں ؛ مگر ان لوگوں سے بڑھ کر جاہل نہیں ہیں جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس امت کا فرعون کہتے ہیں ۔اگر ان لوگوں کا اپنی جہالت اور تاویل کی وجہ سے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے بغض رکھنا منافقت نہیں ہے ؛ تو پھر دوسرے لوگوں [خوارج و نواصب ] کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنا بھی بدرجہ اولی منافقت نہیں ہے۔

اگر بغض ِ علی رضی اللہ عنہ نفاق ہے ‘ بھلے وہ جہالت اور تأویل کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو ؛ تو پھر اس وقت حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے بغض رکھنا بدرجہ اولی نفاق ہوگا ‘ اگرچہ جہالت و تأویل کی بناپر ہی کیوں نہ ہو۔


صفحہ 5 از 5