ثواب الہٰی اور شہادت کی فضیلت بیان کرنا
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں جنگ قادسیہ کے موقع پر سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر کو ثواب الہٰی اور مجاہدین اسلام کے لیے آخرت کی نعمتوں کے حصول کی طرف رغبت دلائی، انہیں جہاد فی سبیل اللہ پر ابھارا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے دین اسلام کی فتح اور اس کی سربلندی کا وعدہ کیا ہے اور عنقریب ان کے ہاتھ اموال غنیمت سے بوجھل ہوں گے، ممالک پر فتح کا پرچم لہرائے گا، نیز سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حفاظ قرآن کو سورہ جہاد (انفال) تلاوت کرنے کا حکم دیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 356)
اسی طرح حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ شامی فوج کے درمیان کھڑے ہوئے اور اسے اللہ کا ثواب یاد دلایا، اس کی نعمتوں کا ذکر کیا، انہیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ جہاد فی سبیل اللہ دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔
( الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 243)
اسی طرح سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت بھی مشہور ہے جو انہوں نے فلسطینی فوج کو کی تھی: ’’آج جو قتل کر دیا گیا وہ شہید ہوگا اور جو زندہ رہا وہ بھی خوش بخت ہے۔‘‘ پھر آپؓ نے فوج کو قرآن پڑھتے رہنے اور صبر کرنے کی تلقین کی، اللہ سے ثواب اور اس کی تیار کردہ جنت کو حاصل کرنے کی رغبت دلائی۔
(فتوح الشام: جلد 1 صفحہ 18، 20)