فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 26

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

[اعتراضات]: رافضی مصنف لکھتا ہے:’’عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ راز افشاء کردیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ سے کہا تھا کہ:’’ تو علی رضی اللہ عنہ سے لڑے گی اور تو اس پر ظلم کرنے والی ہو گی۔‘‘پھر اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی اللہ تعالیٰ نے ازواج النبی کو حکم دیا تھا:﴿وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ﴾ ’’اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔‘‘ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم الٰہی کی خلاف ورزی کی۔ اور ایک جماعت کی رفاقت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے نکلیں ۔ حالانکہ ان کاکوئی گناہ نہیں تھا۔ اس لیے کہ سب مسلمانوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل پر اتفاق کر لیا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرانے کی سازش کرتی رہتی تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ ’’ بوڑھے احمق کو تہ تیغ کردو۔‘‘’’ اللہ اس بوڑھے احمق کو قتل کرے ۔‘‘ جب آپ کی قتل کی خبر اس تک پہنچی تو بہت خوش ہوئی۔ پھر پوچھنے لگی: ان کے بعد کون خلیفہ بنا؟ لوگوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ ۔تو اس نے عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے بدلہ کے نام پر علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا ۔ حالانکہ اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کیا گناہ تھا؟ اور طلحہ،زبیر رضی اللہ عنہما اور دس ہزار مسلمانوں کو کیوں کر زیب دیتا تھا کہ وہ ان کے زیر اثر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف نبرد آزما ہوتے۔ بروز قیامت یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے۔ ہماری یہ حالت ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی بیوی کے ساتھ بات چیت کرے اور سفر میں اسے اپنے ہم راہ لے جائے، تو اس عورت کا خاوند اس کا انتہائی دشمن بن جائے گا۔ موجب حیرت تو یہ امر ہے کہ یہ سب لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ متحد ہو گئے، مگر جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا حق طلب کرنے گئیں تو کسی نے بھی ان کا ساتھ نہ دیا۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]:ہم کہتے ہیں : اہل سنت کا زاویہ نگاہ مبنی بر عدل و انصاف اور تناقض سے پاک ہے؛ان کا کلام حق و عدل سے عبارت ہے جس میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔ اس کے برخلاف روافض و مبتدعین کے افکار و آراء میں تناقض پایا جاتا ہے۔ جن میں بعض باتوں کے متعلق آگے چل کر ہم آگاہ کریں گے ۔ ان شاء اللہ ۔ 

[جنتی ہونے کے لیے معصومیت شرط نہیں ]:

اہل سنت کے نزدیک بدری صحابہ اور سب امہات المومنین رضی اللہ عنہم قطعی جنتی ہیں ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے علاوہ حضرت ابو بکر و عمر و عثمان و علی و طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم یہ تمام لوگ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد جنت کے سرداروں میں سے ہیں ۔

اہل سنت کا زاویہ فکر یہ ہے کہ جنتی ہونے کے لیے گناہ و خطاء سے پاک ہونا ضروری نہیں ۔ بلکہ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ کوئی شخص صغیرہ یا کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرکے پھر اس سے سچی توبہ کرلے۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کے یہاں متفق علیہا ہے۔ اگر توبہ نہ بھی کرے تو صغیرہ گناہ، کبائر سے اجتناب کرنے کی بنا پر بھی معاف کردے جاتے ہیں ۔ یہ جمہور کا مذہب ہے ۔ اکثر علماء کے نزدیک کبائر، اعمالِ صالحہ بلکہ حوادث و آلام میں گرفتار ہونے کی بنا پر بھی معاف کر دیے جاتے ہیں ۔

بنابریں اہل سنت کہتے ہیں کہ: صحابہ رضی اللہ عنہم کی جو برائیاں بیان کی جاتی ہیں ان میں سے اکثر جھوٹ ہیں ۔اور اکثر ان کے اجتہاد پر مبنی ہیں ۔ مگر بہت سارے لوگوں کو وجہ اجتہاد معلوم نہیں ہوسکی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے مفروضہ گناہوں میں سے بعض توبہ کی بنا پر اور بعض اعمال صالحہ اور حوادثِ روزگار یا کسی اور وجہ سے معاف کیے جا چکے ہیں ۔ اس کی دلیل وہ احادیث ہیں جن سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ ایسے افعال کا ارتکاب نہیں کر سکتے جو دوزخ میں جانے کے موجب ہوں ۔ ظاہر ہے کہ جب انھوں نے موجبات نار سے اپنا دامن بچائے رکھا تھا؛اور ان کی موت ایسے اعمال پر نہیں ہوئی جو جہنم میں جانے کا موجب ہوں توکوئی دوسری چیز ان کے جتنی ہونے میں قادح نہیں ہوسکتی[ تو وہ یقیناً جنتی ٹھہریں گے]

وثوق و یقین سے یہ جاننے کے باوجود کہ صحابہ قطعی جنتی ہیں ۔اگرہمیں کسی متعین صحابی کے جنتی ہونے کا علم حاصل نہ بھی ہو پھر بھی ہم غیر یقینی امور کی بنا پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جنتی ہونے کی نفی نہیں کرسکتے۔ بلکہ ایک عام مومن ؛ جس کا حتمی طور پر جنتی ہونا دو ٹوک طور پر معلوم نہ بھی ہو تب بھی اس کے جنتی ہونے کی نفی کرنا جائز نہیں ۔ اسی طرح صرف احتمال کے بل بوتے پر کسی کو دوزخی قرار دینا بھی ناروا ہے۔ خصوصاً صلحاء کے بارے میں ایسی بات کہنا بڑی مذموم حرکت ہے۔ کسی فرد واحد کے ظاہر و باطن اور اعمالِ صالحہ و سیئہ کی تفصیلات معلوم کرنا بڑا دشوار کام ہے ۔ اس لیے اس ضمن میں کوئی فیصلہ صادر کرنا بلا علم و دلیل ہے اور کلام بلا علم حرام ہے۔ اسی بنا پر مشاجرات ِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے زبان کو روکنا اس ضمن میں اظہار خیال سے افضل ہے۔ اس لیے کہ اس معاملہ میں زیادہ غورو خوض کرنا اور کلام کرنا بلا علم ہے۔ جو کہ حرام ہے۔ خصوصاً جب کہ اس کے ساتھ ساتھ ہوائے نفس اور حق سے روگردانی بھی شامل ہو۔پھر جب کلام ہی صرف اس نیت سے کیا جائے کہ ہوائے نفس کو طیش دینا اور حق کو ٹھکرانا مقصود ہو تو پھر اس کی حرمت کا کیا عالم ہوگا؟ ۔سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

’’قاضی تین ہیں ، ان میں سے دو قاضی جہنمی اور ایک جنتی ہے:

۱۔ جو قاضی حق کو معلوم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرے وہ جنتی ہے۔

۲۔ وہ قاضی جو حق سے آگاہ ہو اور دانستہ اس کے خلاف فیصلہ کرے وہ دوزخی ہے۔

۳۔ جو شخص جہالت کی بنا پر فیصلہ کرے وہ جہنمی ہے۔‘‘[سنن ابی داؤد ۔ کتاب الاقضیۃ۔ باب فی القاضی یخطیٔ (حدیث:۳۵۷۳)، سنن ابن ماجۃ۔ کتاب الاحکام۔ باب الحاکم یجتھد فیصیب الحق، (حدیث :۲۳۱۵)۔] 

صفحہ 1 از 26