فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 26

حالت خلافت میں شرپسندوں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تو آپ نے صبر سے کام لیا [۲۔ کنانہ بن بشر تُجیبی: حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر میں اسے قتل کیا۔ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا شدید مخالف تھا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں جو لوگ قتل کیے گئے تھے۔ یہ ان کو دفن کرنے سے روکتا تھا۔ ۱۳۔ ابن الکوّاء یشکری: اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بھی خروج کیا تھا اور قتل ہوا۔ ۱۴۔ محمد بن ابی حذیفہ: اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے احسانات کی ناشکری کی۔ سزا کے طور سے یہ ۳۶ ہجری میں بمقام عریش مقتول ہوا۔‘‘ علی ہذا القیاس قاتلین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آخرت سے پہلے دنیا میں ہی اپنے کیے کی سزا پالی تھی۔ قاتلین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ میں سے جو لوگ پیش پیش تھے ان کے انجام سے بچے بھی آگاہ ہیں ۔ جب باغیوں نے مدینہ طیبہ کا رخ کیا تو اس وقت عساکر اسلامی مختلف بلاد شرق و غرب میں کفار کے خلاف مصروف جہاد تھیں ۔ اسلامی لشکر زیادہ تر ان ممالک میں برسرپیکار تھے جو آج کل روس کے زیر تسلط ہیں ۔]اور مزاحمت نہ کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔[محب الدین الخطیب ’’العواصم من القواصم‘‘ ص:۱۳۲ کے حاشیہ پر لکھتے ہیں کہ:’’اخبار و آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ باغیوں کی مدافعت کرنے یا تقدیر ربانی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بارے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ وارضاہ کا موقف یہ تھا کہ آپ فتنہ پردازی اور خون ریزی سے ڈرتے تھے۔ آخر کار آپ اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ اگر آپ ایسی قوت سے بہرہ ور ہوں جس کے سامنے باغیوں کو لا محالہ جھکنا پڑے اور جدال و قتال کی نوبت نہ آئے تویہ بڑی اچھی بات ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ملک شام سے ایک ایسی فوج بھیجنے کی پیش کش کی تھی جو آپ کے اشارہ کی منتظر رہے، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ پیش کش ٹھکرا دی تھی کہ میں مدینہ میں ایسی فوج نہیں رکھنا چاہتا جو یہاں مقیم رہے۔(تاریخ طبری :۵؍۱۰۱) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ مسلمان اس حد تک جرأت نہیں کر سکتے کہ دین اسلام کے اوّلین مہاجر( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ) کا خون تک بہانے سے گریز نہ کریں ۔ جب باغی اکھٹے ہو کر آگئے اور آپ نے سمجھا کہ مدافعت کرنے میں ناحق خون ریزی ہو گی، تو آپ نے اپنے حامیوں کو بہ تاکید تشدد سے روک دیا۔ اہل سنت و شیعہ سب کی تصانیف ایسے اخبار و آثار سے پُر ہیں ۔ تاہم اگرایسی منظم قوت و شوکت بروئے کار آتی جو باغیوں کی شرارت و جہالت کو بزور روک دیتی تو یہ بات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے راحت و مسرت کی موجب ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں کہ آپ شہادت کے متمنی تھے اور اس کے سوا کوئی چیزآپ کے لیے موجب سکون واطمینان نہ تھی۔]اس میں شبہ نہیں کہ حضرت عثمان ،حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی نسبت زیادہ اجروثواب کے مستحق ہیں ۔اسی نسبت سے قاتلین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والوں کی نسبت بڑے مجرم ہیں ۔ اور ان کا گناہ زیادہ گھناؤنا ہے۔ 

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ آپ اقتدار سے محروم تھے اور طلب اقتدار کی خاطر گھر سے نکلے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو لوگ برسراقتدار تھے ان کے اعوان وانصار آپ کے خلاف نبرد آزما ہوئے اور آپ نے اپنی مدافعت کرتے ہوئے شہادت پائی۔ یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ جو شخص اپنی خلافت و ولایت کا دفاع کرنا چاہتا ہے وہ اس شخص کی نسبت لڑنے کا زیادہ حق دار ہے جو دوسروں سے اقتدار کو چھیننے کا خواہاں ہو ۔ اس پر مزید یہ کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت سے دفاع بھی نہیں کیا تھا۔ بنا بریں آپ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے ہر حال میں افضل ہیں اورآپ کا قتل قتل ِ حسین سے شنیع تر ہے ۔جیسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اقتدار کے لیے جنگ نہیں لڑی تھی بلکہ جدال و قتال سے کنارہ کش رہ کر امت میں صلح کرائی تھی۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح جوئی کے اس اقدام پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی مدح و ستائش کرتے ہوئے فرمایا:

’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا۔‘‘ [صحیح بخاری ۔ کتاب الصلح۔ باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم للحسن بن علی رضی اللّٰہ عنہما (حدیث:۲۷۰۴) ]

صفحہ 11 از 26