فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 26

جب قلیل و کثیر مالی معاملات میں فیصلہ صادر کرنااس قدر اہم ہو؛ تو مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور دیگر بہت سارے بڑے بڑے امور میں زبان کھولنا کس قدر نازک کام ہو گا۔

نظربریں جو شخص جہالت کی بنا پر اپنے علم کے خلاف اس موضوع پر زبان سخن دراز کرتا ہے تو وہ سخت وعید کا مستوجب ہے۔ اور اگر کوئی شخص ہوائے نفس یا معارضۂ حق کے لیے سچی بات کہتا ہے؛ اس کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی نہ ہو؛ یا پھر اس سے کسی دوسری حق بات کو ٹھکرانا چاہتا ہو تو وہ بھی مذمّت و عِقاب کا مستحق ہے۔

جو شخص کتاب و سنت کی روشنی میں صحابہ کے فضائل و مناقب، ان کے جنتی ہونے سے ؛ نیز اس بات سے آگاہ ہے کہ اللہتعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رضا مندی کا اظہار کیا؛اور انہیں جنت کا مستحق قرار دیا؛ اور ان کواس خیرالامت کے بہترین لوگ قرار دیا ہے جوامت لوگوں کی بھلائی کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ وہ ان یقینی امور کو ترک کرکے درج ذیل مشتبہ امور کو خاطر میں نہیں لائے گا، یہ مشتبہ امور حسب ذیل کیفیت کے حامل ہیں :

۱۔صحابہ سے متعلق بعض شبہات کی صحت معلوم نہیں ۔ ۲۔بعض شبہات صریح کذب ہیں :

۳۔بعض کا وقوع پذیر ہونا سرے سے معلوم ہی نہیں ۔ ۳۔ بعض شبہات کا عذر سب کے نزدیک مسلم ہے۔

۵۔بعض امورمیں صحابہ کاتوبہ کرنا سب کو معلوم ہے۔ ۶۔ بعض برائیوں کو اُنکی نیکیوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔

نتیجہ ظاہر ہے کہ جو شخص اہل سنت کی راہ پر گامزن ہو گا وہ مسلک استقامت و اعتدال کاسالک ہو گا، ورنہ شیعہ کی طرح جہالت وضلالت کی گہری کھائیوں میں جا گرے گا۔جیسا کہ ان گمراہوں کے حال سے واضح ہے ۔

[پہلا اعتراض]: شیعہ مصنف کا یہ قول کہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز منکشف کردیا تھا۔‘‘اللہ تعالیٰ [اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے ] فرماتے ہیں :

﴿وَاِِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ وَاَظْہَرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ عَرَّفَ بَعْضَہُ وَاَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّاَہَا بِہٖ قَالَتْ مَنْ اَنْبَاَکَ ہٰذَا قَالَ نَبَّاَنِی الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ ﴾ [التحریم۳]

’’اور یاد کرو کہ جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دی اور اللہ نے اپنے نبی کوآگاہ کر دیا تو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وہ کہنے لگی اسکی خبر آپکو کس نے دی کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے ۔‘‘

صحیح حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ اس سے مراد عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں ۔‘‘[البخارِیِ:۶؍۱۵۶؛ کتاب التفسِیرِ،سور التحرِیم مسلِم:۲؍۱۱۱۰؛ کتاب الطلاقِ، باب فِی الِإیلاِء واعتِزالِ النِسائِ....المسندِ ط۔المعارِف: ۱؍۵۲، ۳۰۱۔]

پہلا جواب:....جن نصوص قرآنیہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی بعض لغزشوں کا ذکر ہے؛شیعہ ان کی تاویلات کرکے ان کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں ۔ اہل سنت ان کے جواب میں کہتے ہیں کہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان سے توبہ کر لی تھی۔ اللہتعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرکے ان کے درجات بلند کردیئے۔شیعہ نے افشائے رازکے بارے میں جو آیت ذکر کی ہے وہ اس نوع کی پہلی آیت نہیں ہے ؛اور دیگر آیات کی طرح اس کی تاویل بھی ممکن ہے۔اگر اس آیت کی تاویل کرنا باطل ہے تودوسری آیات کی تاویل بھی باطل ہوگی۔

دوسرا جواب:....بفرض محال اگر سیدہ عائشہ و حفصہ رضی اللہ عنہما نے کوئی لغزش کی بھی تھی تو حسب ذیل آیت کریمہ کے مطابق اس سے تائب ہو گئی تھیں ۔ جیسا کہ قرآن کے اس فرمان سے ظاہر ہے:

﴿اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا﴾ (التحریم:۳)

’’اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو (تو بہت بہترہے)یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ۔‘‘

مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توبہ کی دعوت دی ہے۔ سیدہ عائشہ و حفصہ رضی اللہ عنہما کی عظمت شان کے پیش نظر یہ بدگمانی درست نہیں کہ انھوں نے توبہ نہیں کی ہوگی۔حالانکہ ان کے بلند درجات ثابت شدہ ہیں ۔ مزید برآں ان کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ آپ جنت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت سے مشرف ہوں گی۔ نیز یہ کہ اللہتعالیٰ نے ان کو اختیار دیاتھا کہ دنیاکی زیب و زینت یا اللہو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دار آخرت میں سے جس کو چاہیں منتخب کریں ؛تو انھوں نے اللہ و رسول اور دار آخرت کو دنیا کے مقابلہ میں ترجیح دی۔ انھی خصوصیات کا تقاضا تھا کہ ان کے عوض دوسری ازواج سے نکاح کرنے کو حرام قرار دیا گیا تھا اور ان کے علاوہ دیگر مستورات کو نکاح میں لانے کی بھی ممانعت کردی گئی تھی۔جب آپ کا انتقال ہوا تو آپ کی ازواج بنص قرآنی امہات المومنین کا درجہ رکھتی تھیں ۔ ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں کہ توبہ نیز اعمالِ صالحہ اور مصائب مکفّرہ سے بھی گناہوں کا ازالہ ہو جاتا ہے۔

تیسرا جواب:.... ازواج مطہرات کے بارے میں جن گناہوں کی نشان دہی کی جاتی ہے وہ اسی طرح ہیں جیسے اہل بیت و صحابہ میں سے مشہود لہم بالجنۃ کی جانب بعض گناہوں کی نسبت کی جاتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

’’بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے علی کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ واضح ہو کہ میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ نے تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے البتہ اگر علی چاہے تو میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی لڑکی سے نکاح باندھ لے۔فاطمہ میرا جگر پارہ ہے، جو چیز اسے ایذا دیتی ہے اس سے مجھے دکھ پہنچتاہے۔‘‘[صحیح بخاری۔ کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ باب ذکر اصہار النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ح:۳۷۲۹، ۵۲۳۰) ، صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب من فضائل فاطمۃ رضی اللّٰہ عنہا (ح:۲۴۴۹)]

صفحہ 2 از 26