فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 25 از 26

البتہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بدو کفار عرب کے حق میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت بڑے سخت تھے۔ یوں بھی آپ کی شدت و حدّت ضرب المثل کی حد تک معروف تھی۔ مگر بایں ہمہ آپ خلیفہ منتخب ہوئے اور اس قدر مقبول ہوئے کہ جب شہید ہوئے تو کوئی شخص آپ سے ناراض نہ تھا؛بلکہ تمام لوگ اچھے الفاظ میں آپ کی تعریف کرتے تھے اور آپ کے لیے دست بہ دعا تھے۔ سب لوگوں کو آپ کی شہادت کا صدمہ ہوا۔ اس سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں شیعہ کے دعوے من گھڑت اور بے بنیاد ہیں ۔ نیز یہ کہ مسلمان سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو قطعی طور پر مظلوم تصور نہیں کرتے تھے۔پھر یہ بات کس قدر حیرت آفریں ہے کہ مسلمان حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص لینے کے لیے تو اپنی جانیں تک قربان کردیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کا کوئی یار و مدد گار نہ ہو۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ صفین میں بنو عبد مناف کی مخالفت کے باوجود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نصرت و اعانت کے لیے گردنیں تک کٹوا دیں ؛مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے بعد ان کو منصب خلافت سے الگ کرنے کے لیے کوئی مسلمان حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہ دے ۔حالانکہ بنو عبد مناف ان کے ساتھ تھے۔ مثلاً عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ ، بنی ہاشم میں سب سے بڑے تھے اور ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ بنو امیہ میں سب سے بڑے تھے۔ اور یہ دونوں اکابر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مائل تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسے نازک مرحلہ پر ابتداء ہی میں لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلاف صف آرائی کیوں نہ کی ؟ حالانکہ صدیقی خلافت کا ابھی آغاز تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نصرت و حمایت کے لیے لڑنا اولیٰ و افضل تھا؛ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے ولایت کا حاصل ہونا آسان بھی تھا۔ تاریخ اسلام کے ایسے نازک موڑ پر اگر کچھ لوگ سامنے آکر یہ کہہ دیتے کہ علی رضی اللہ عنہ وصی ہیں ، لہٰذا ہم کسی اور کی بیعت کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا ارتکاب نہیں کر سکتے۔ نیز یہ کیوں کر ممکن ہے کہ بنو ہاشم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر بنو تیم کے ظالموں اور منافقوں کا ساتھ دیں ؟ ۔حالانکہ بنو ہاشم جاہلیت اور اسلام ہر دور میں بہترین لوگ رہے ہیں ۔اگر ایسا ہوتا تو عوام الناس ان کی حمایت کے لیے کھڑے ہو جاتے خصوصاً جب کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ترغیب و تخویف کا کوئی سامان موجود نہ تھا۔

فرض کیجیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امداد کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور لوگوں کی ایک جماعت موجود تھی۔ تو یہ لوگ کسی صورت میں بھی تعداد کے اعتبار سے ان لوگوں سے زیادہ نہیں ہو سکتے جو واقعہ جمل میں طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما اور واقعہ صفین میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور اس کے باوصف حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی تھی۔ باوجود اس کے کہ یہ لوگ علم و دین کے اعتبار سے حضرات سابقین اولین سے بہت ہی فروتر تھے۔ان میں سابقین اولین کی بہت کم تعداد تھی۔ تو پھراگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت حق پر تھے اور ان کے مخالفین باطل پر تھے تو ان لوگوں سے انہوں نے قتال کیوں نہ کیا جو ان کی نسبت بہت زیادہ افضل تھے؟ حالانکہ اس وقت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اولیاء و انصار کثرت کے ساتھ ساتھ شان و شوکت سے بہرہ ور تھے؛ اور علم و ایمان میں بھی عظمتوں کے حامل تھے۔اور آپ کے مخالفین ۔بالفرض اگر اس وقت کوئی مخالف تھا؛ تو وہ۔ عاجزی و کمزوری کا شکار تھے ؛ علم و ایمان میں بھی فروتر تھے۔ اور دشمنی میں بھی کم تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلاف نبرد آزما ہونے میں کیا چیز مانع تھی؟ یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر ہوتے تو ابوبکر و عمر اور سابقین اوّلین صحابہ رضی اللہ عنہم دنیا کے بدترین لوگوں میں سے ہوتے اور ان کا ظالم و جاہل ہونا کسی شک و شبہ سے بالا ہوتا۔ کیونکہ انہوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے فوراً بعد دین کو بدل دیا ‘ اور اس میں تحریف کردی ؛ آپ کے وصی پر ظلم کیا ۔ اور آپ کی نبوت کے ساتھ وہ حشر کیا جو یہود و نصاری حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے فوراً بعد نہ کرسکے۔ اس لیے کہ یہودیوں نے موسی علیہ السلام کی موت کے بعد وہ کچھ نہیں کیا جو رافضیوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے نبی کی موت کے بعد ایسے کیا۔ ان کے قول میں اگر واقعی سچائی ہوتی تو اس امت کاشمار بدترین اور شریر ترین امتوں میں ہوتا ۔ اور اس کے پہلے لوگ سب سے بڑے شریر ہوتے ۔ حالانکہ یہ بات ظاہر البطلان ہے۔اور اہل اسلام کے لیے اس عقیدہ و نظریہ کا فساد و خرابی معلوم شدہ چیز ہے۔

[شیعہ مذہب کی بنیاد]:

اس سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ شیعہ مذہب کا بانی ملحد و زندیق اور دین اسلام و اہل اسلام کا دشمن تھا۔ اور وہ تاویل کرنے والے مبتدعین مثلاً خوارج و قدریہ کی طرح نہ تھا۔ بعد کے دور میں اہل ایمان میں شیعہ کے اقوال اس لیے رائج ہو گئے کہ وہ جہالت کی بنا پر کھرے اور کھوٹے میں امتیاز قائم نہ کر سکے۔

یہ بڑا اہم سوال ہے کہ وہ کون سے محرکات تھے جن کے تحت صحابہ رضی اللہ عنہم نے جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ساتھ دیا؟ مگر جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اپنا حق طلب کرنے کے لیے آئیں تو کوئی بھی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے خلاف ان کی مدد کے لیے تیار نہ ہوا؟ اگر صحابہ رضی اللہ عنہم دنیوی مال و متاع اور سیاسی اقتدار کے بھوکے تھے تو انھیں بنو ہاشم(حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کا ساتھ دینا چاہئے تھا جو عرب بھر میں ممتاز تھے۔ اسی بنا پر صفوان بن اُمیہ جمحی نے غزوہ حنین کے موقع پرجب لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے؛اور کسی نے کہا: ان کو اب سمندر ہی قبول کرے گا۔اور کوئی کہنے لگا : سارا جادو ٹوٹ گیا؛ [اس وقت صفوان نے] کہا تھا:

صفحہ 25 از 26