فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 26 از 26

’ اللہ کی قسم! اگر کوئی قریشی مجھے اپنا غلام بنا لے تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ ثقیف کا کوئی آدمی میرا آقا ہو ۔‘‘ [سیرۃ ابن ہشام ۳؍۸۶]

جو لوگ فتح مکہ کے موقع پر مشرف بہ اسلام ہوئے تھے، صفوان ان میں سرکردہ آدمی تھا وہ سابقہ مقولہ کی طرح یہ بات کہنے کا حق رکھتا تھا۔ اگر بنی عبد مناف کا کوئی شخص مجھے اپنا غلام بنا لے تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ بنی تیم کا کوئی آدمی میرا آقا ہو۔‘‘اگر اسی بنا پر کسی کو تقدیم حاصل ہوتی تو باتفاق العقلاء بنی ہاشم کو بنی تیم پر تقدیم و سبقت حاصل تھی۔[تو اس صورت میں ] اگر علی رضی اللہ عنہ کو آگے نہ کرتے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہما کو خلیفہ بنالیتے۔ یہ سوال بھی بے جا نہیں کہ اگر صحابہ دنیوی اقتدار کے حریص تھے تو اس مقصد کے لیے عباس رضی اللہ عنہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نسبت موزوں تر تھے، پھر ان کو خلیفہ کیوں نہ بنا لیا ؟

[فرض کر لیجیے کہ ] اگر یہ لوگ ہاشمی وصی پر ظلم کرنے پر تل ہی گئے تھے ؛ او رانہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس لیے مقدم نہیں کیا وہ اس کو ناپسند کرتے تھے ؛ توپھر بھی جن سے مقصود خلافت حاصل ہوسکتا تھا دوسرے ہاشمی تھے؛ یعنی حضرت عباس رضی اللہ عنہ ؛ انہیں مقدم کیا ہوتا ‘ اور خلیفہ بنایا ہوتا۔ آپ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نسبت اس کام کے لیے زیادہ موزوں ہوسکتے تھے ؛ جو لوگوں کی ایسے مدد نہیں کرسکے جیسے عباس رضی اللہ عنہ کرتے۔اور انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اس کڑوے حق پر بھی لگاتے ۔ اگر اس کڑوے حق کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نا پسند کیا جانا تھا ؛ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ ناپسندیدہ لگتا۔ اور اگر اس سے مقصود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس میٹھی اور شیرین دنیا کا حصول تھا ؛ تو اس کے مواقع حضرت علی اورحضرت عباس رضی اللہ عنہما سے بھی تھے۔ حضرت علی اورحضرت عباس رضی اللہ عنہما کو چھوڑ کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا ؛ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ صحابہ نے حق پر عمل کیا تھا اور وہ حق و صداقت کا دامن کسی صورت میں چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔اور انہوں نے وہ کام کیا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کی رہنمائی کی تھی۔ اورصحابہ جانتے تھے کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تقدیم پرراضی تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس بات کا واضح اور کھلا ہوا علم حاصل تھا۔ کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی باتیں سنتے رہتے تھے[جن سے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہوتی تھی]۔اس تجربہ ‘ مشاہدہ ‘اور سماع کی روشنی میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تقدیم و فضیلت اورآپ کے واجب الاطاعت ہونے کا پتہ چل گیا تھا۔ اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا :

’’ تم میں سے ایک شخص بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا نہیں جس کی خاطر گردنیں کٹوائی جائیں ۔‘‘ 

اس سے مقصود یہ تھا کہ تم پر ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر اورکھلی ہوئی ہے۔ اس میں کسی بحث اور غور و فکر کی ضرورت نہیں ۔ ایسے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار کی موجودگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاتھا :

’’ بلکہ آپ ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بہتر ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب سے زیادہ آپ کو چاہتے تھے۔‘‘ 

تمام لوگوں نے اس کا اقرار کیا ؛ کسی ایک نے بھی انکار نہیں کیا اورنہ ہی کسی ایک نے اس بارے میں کوئی جھگڑا کیا ۔ حتی کہ انصار میں سے جو لوگ خلافت کے طلبگار تھے ؛ انہوں نے بھی اس دعوے کو رد نہیں کیا؛ نہ ہی کسی ایک نے یہ کہا کہ : نہیں بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب تھے ؛ یا کوئی دوسرا آپ کو زیادہ محبوب تھا ؛ اور وہ آپ سے افضل و بہتر ہے ۔

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ عادتاً یہ بات ممتنع ہے خصوصاً صحابہ کرام کی عادات کے اعتبارسے ؛جو کہ کمال ِدین اورمعرفت حق کی وجہ سے حق بات کہنے کے خوگر تھے؛ کہ ان میں سے کو ئی [باقی صحابہ پر]حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت جانتا ہو‘ اور پھر اس بارے میں گفتگو نہ کرے‘ بلکہ سارے کے سارے بغیر کسی خوف اور لالچ کے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تقدیم و فضیلت پر یک زبان تھے۔


صفحہ 26 از 26