تجارت و زراعت جیسی تمام مصروفیات سے انہیں الگ رکھنا
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے امرائے لشکر کے نام یہ حکم نامہ بھیجا کہ وہ اپنے سپاہیوں کو بتا دیں کہ ان کی سرکاری تنخواہ جاری ہے، ان کے اہل و عیال کے وظائف اور ضروریات زندگی دیے جا رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ کاشتکاری میں نہ مشغول ہوں، اس مسئلہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سختی کرتے ہوئے بعض اوقات مخالفت کرنے والوں کو سزا بھی دی۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 256)
یہ اور اس طرح کی تمام پابندیاں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس لیے نافذ کی تھیں کہ اسلامی فوج جہاد اور مذہب اسلام کی نشر واشاعت کے لیے ہمہ وقت تیار رہے اور کھیتی باڑی میں مشغول ہو کر صرف زمین سے چمٹ کر نہ رہ جائے کہ ہر وقت اس کا دل اسی میں اٹکا ہوا ہو، اور اسی حکمت کے پیش نظر سیدنا عمر فاروقؓ نے ریزر و فوج بھی تیار کر رکھی تھی تاکہ ناگہانی حادثات (مثلاً ملکی بغاوت) میں انہیں لڑائی پر لگایا جا سکے۔ چنانچہ کاشتکاری، خرید و فروخت اور باغات کی نگرانی جیسی مصروفیات سے سیدنا عمر بن خطابؓ نے انہیں مکمل طور سے دور رکھا۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 257)