فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے…

فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے متعلق رافضی پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے متعلق رافضی پر رد 

[اعتراض] : شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’عائشہ رضی اللہ عنہا کو ام المومنین کہہ کر پکارتے ہیں جب کہ دیگر امہات المومنین کو اس لقب سے ملقب نہیں کرتے۔اور ایسے ہی آپ کے برادر محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کوان کے شرف و منزلت اوراپنے باپ اور بہن سے قربت کے باوجود مؤمنین کا ماموں نہیں کہتے ؛جب کہ امیر معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما کو مؤمنین کا ماموں کہتے ہیں ۔ کیونکہ اس کی بہن ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہما بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج [مطہرات رضی اللہ عنہم ]میں سے ایک تھیں ۔ محمدبن ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بہن اور اس کا باپ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہن اور باپ کی نسبت بہت بڑے اورعظیم مرتبہ والے تھے۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب] :’’شیعہ کا دعوی ہے کہ :’’[اہل سنت]حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ام المومنین کہہ کر پکارتے ہیں جب کہ دیگر امہات المومنین کو اس لقب سے ملقب نہیں کرتے۔‘‘

ہم کہتے ہیں کہ: یہ کھلا ہوا بہتان ہے اور ہر کس و ناکس اس سے آگاہ ہے۔مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ یہ شیعہ مصنف اور اس جیسے اس فرقہ کے دوسرے لوگ جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ‘ یا پھر خواہشات پرستی میں تجاوز کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھیں اندھی کردی ہیں کہ ان پر اس بات کا جھوٹ ہونا بھی مخفی رہ گیا ۔وہ نواصب پر رد کرتے ہیں کہ:جب ان سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کہا تھا : کیا تم جانتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر کاجگر گوشہ ہوں ؟ تو وہ کہنے لگے: ’’ اللہ کی قسم ! ہم نہیں جانتے ۔‘‘ ایسی بات وہی منکر کہا سکتا ہے جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نسب کا انکار کرتا ہو۔ اور جان بوجھ کر جھوٹ گھڑتا اور افتراء پردازی کرتا ہو؛ اور اللہ تعالیٰ نے اتباع ہوا کی وجہ سے اس کی آنکھیں اندھی کردی ہوں ۔یہاں تک کہ اس پر ایسا واضح حق بھی پوشیدہ رہ جائے۔بیشک خواہش پرستی کی آنکھ ہمیشہ کے لیے اندھی ہی ہوتی ہے۔رافضہ حق کے انکار میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں ؛ اور جان بوجھ کر اندھے بنے رہتے ہیں ۔ فرقہ نصیریہ کہتا ہے کہ حسن و حسین حضرت علی رضی اللہ عنہم کے بیٹے نہ تھے۔ بلکہ ان کے والد سلمان فارسی رضی اللہ عنہ تھے۔اور ان میں سے بعض ایسے ہی جو کہتے ہیں کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ فوت نہیں ہوئے ۔ اور ایسا ہی دعوی بعض دوسرے لوگوں کے متعلق بھی کیا گیا ہے۔

بعض شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں مدفون نہیں ۔ نیز یہ کہ حضرت رقیہ و ام کلثوم رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں نہیں ، بلکہ کسی دوسرے خاوند سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بیٹیاں ہیں ۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الحدود، باب رجم الحبلی فی الزنا اذا احصنت (ح: ۶۸۳۰) مطولاً۔  صحیح بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’لو کنت متخذا خلیلاً‘‘ (ح:۳۶۶۸) مطولاً۔]

اس کے علاوہ بھی انکار حق میں ان کی داستانیں سبھی جانتے ہیں جو ان نواصب کی داستانوں سے بڑھ کر ہیں جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آج کے شیعہ ان ناصبی مردودو ں سے بڑے جھوٹے ‘ بڑے ظالم اور بڑ ے جاہل ہیں ؛جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔

کسی شخص سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ ازواج النبی میں سے ہر ایک کو آیت قرآنی کے اتباع میں ام المومنین کہہ کر پکارا جاتا تھا۔عائشہ ؛ حفصہ ؛ زینب بنت جحش؛ ام سلمہ ؛ سودۃ بنت زمعہ ؛ میمونہ بنت الحارث الہلالیہ ؛ جویریہ بنت الحارث المصطلقیہ ؛ صفیہ بن حیي بن اخطب الہارونیہ ؛ رضی اللہ عنہم ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ اَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰتُہُمْ ﴾ [الأحزاب ۶]

’’پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں ۔‘‘

تمام علماء اس بات کو جانتے ہیں ‘ (کسی پر بھی یہ چیز پوشیدہ نہیں )۔اور تمام علماء کرام رحمہم اللہ کا اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان ازواج مطہرات کا نکاح کسی دوسرے انسان سے حرام ہے۔ اور ان کا احترام تمام لوگوں پر واجب ہے۔ پس آپ نکاح کی حرمت اور عزت و احترام کے لحاظ سے مائیں ہیں ۔ محرم ہونے کے لحاظ سے مائیں نہیں ۔ ان کے اقارب [محرم ] کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے ان کے ساتھ خلوت میں بیٹھنا یا چلنا جائز نہیں تھا۔اورنہ ہی ان کے ساتھ اکیلے میں سفر کیا جاسکتا تھا ۔ جیسے کوئی انسان اپنی محرم رشتہ داروں کے ساتھ سفر کرسکتا ہے ۔ اسی لیے انہیں پردہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلِّ اَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَ نِسَآئِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ ﴾ [الأحزاب۵۹]

’’اے نبی!اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکایا کریں ۔اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَ قُلُوْبِہِنَّ وَ مَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَ لَآ اَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْ بَعْدِہٖٓ اَبَدًا اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمًا﴾ [الأحزاب۵۳]

’’جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو تمہارے اور ان کے دلوں کیلئے کامل پاکیزگی یہی ہے ؛اور تمہیں جائزنہیں ہے کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دو اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ یاد رکھو اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔‘‘

صفحہ 1 از 5