فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے…

فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے متعلق رافضی پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

ازواج مطہرات عزت و احترام کے لحاظ سے ماں کی منزلت پر ہیں ۔اسی وجہ سے علماء رحمہم اللہ کے یہاں یہ امر متنازع فیہ ہے کہ آیا ازواج النبی کے بھائیوں کو ’’ ماموں ‘‘ کہا جائے یا نہیں ؟ بعض نے اسے جائز ٹھہرایا ہے۔

کچھ لوگوں نے کہا ہے : انہیں ماموں کہا جائے گا ۔اس قول کے مطابق یہ حکم صرف امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص نہیں ؛ اس صورت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد اور عبد الرحمن ؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے : عبد اللہ ؛ عبیداللہ ؛ اور عاصم ان میں شامل ہوں گے۔ ان میں عمرو بن الحارث بن ابو ضرار حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے بھائی؛ اور عتبہ بن ابو سفیان اور یزید بن ابو سفیان اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم دونوں بھائی بھی شامل ہوں گے۔

بعض علماء اہل سنت والجماعت کہتے ہیں : ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کے بھائیوں کو ماموں نہیں کہا جاسکتا۔اس لیے کہ اگر انہیں ماموں کہا جائے تو پھر لازم ہوگا کہ ان کی بہنیں خالائیں ٹھہریں گی۔ اگر یہ لوگ ماموں اور خالائیں بن جائیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ خالہ کا نکاح بھانجے سے نہیں ہوسکے گا۔ اور ماموں کا نکاح بھانجی سے حرام ہوگا۔

یہ بات نص اور اجماع سے ثابت ہے کہ مومن مردوں اور عورتوں کے لیے جائز ہے کہ وہ ازواج مطہرات کی بہنوں اور بھائیوں سے نکاح کریں ۔جیسا کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین میمونہ بنت الحارث کی بہن ام الفضل سے شادی کی تھی؛ اور ان سے حضرت عبد اللہ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔عبد اللہ بن عمر ؛ عبید اللہ بن عمر ؛ اور عاصم بن عمر رضی اللہ عنہم نے بھی مؤمن عورتوں سے شادیاں کی تھیں ۔ایسے ہی معاویہ ؛ عبد الرحمن بن ابو بکر ‘ محمد بن ابو بکر ؛ [اور دوسرے افراد] رضی اللہ عنہم نے اہل ایمان عورتوں سے شادیاں کی تھیں ۔ اگر یہ حضرات ان خواتین کے ماموں ہوتے ؛ تو ماموں کے لیے ہر گز جائز نہ تھا وہ اپنی بھانجی سے نکاح کرے۔

ایسے ہی امہات المؤمنین کی ماؤں کو مؤمنین کی نانیاں اور ان کے باپوں کو نانا نہیں کہا جاسکتا۔ اس لیے کہ امہات المؤمنین کے حق میں نسب کے تمام احکام ثابت نہیں ہیں ۔بلکہ ان کی حرمت اور تحریم ثابت ہے۔ نسب کے احکام بہت سارے ہیں ۔ [اس کا یہی حال ہے ] جیسے دودھ پینے سے حرمت اور تحریم توثابت ہوتی ہے مگر اس سے نسب کے سارے احکام ثابت نہیں ہوتے ۔ اس پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے ۔

جن لوگوں نے ان میں سے کسی ایک کے لیے مؤمنین کے ماموں ہونے کا کہا ‘ اس نے ان باقی احکام میں کوئی تنازع نہیں کیا۔مگر ان کا مقصد یہ ثابت کرناتھا کہ ان حضرات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سسرالی رشتہ ہے ۔ان میں سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ زیادہ مشہور ہوگئے۔جیسے کاتبین وحی دوسرے لوگ بھی تھے‘ مگر آپ کو کاتب وحی مشہور کیا گیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے بیٹھنے والے دوسرے لوگ بھی تھے۔[ مگر فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اس میں زیادہ مشہور ہیں ]

جولوگ ایسا کلام کرتے ہیں ‘ ان کامقصد یہ نہیں ہوتا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خصوصیات بیان کریں ؛ بلکہ وہ آپ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق بیان کرنا چاہتے ہیں [کیونکہ رافضی اس کے منکر ہیں ]۔جس طرح آپ کے باقی فضائل بیان کیے جاتے ہیں ‘ ان سے مقصود آپ کی خصوصیات بیان کرنا نہیں ہوتا۔ جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ کل میں جھنڈاایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا ‘اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ [البخاری ۵؍۱۸؛ مسلم ۳؍۱۸۷۱] 

نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ مجھ سے محبت صرف وہی انسان رکھے گا جو مؤمن ہوگا اور مجھ سے بغض وہی رکھے گا جو منافق ہوگا۔‘‘[تقدم تخریجہ] 

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔بس اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔‘‘[البخاری ۵؍۱۹؛ مسلم ۳؍۱۸۷۱] 

یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیات نہیں ہیں ‘ بلکہ آپ کے فضائل و مناقب ہیں جن کی وجہ سے آپ کی فضیلت پہچانی جاتی ہے۔ یہ روایات اہل سنت کے ہاں مشہور ہیں تاکہ ان سے ان لوگوں پر رد کریں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر قدح کرتے ہیں اور آپ کو ظالم اورکافر کہتے ہیں جیسے خوارج اورنواصب اور بعض دیگر لوگ۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر آئی ہے ‘ اورآپ کے ساتھ خانگی تعلق بھی ہے ۔ جب روافض نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تکفیر اور ان پر لعنت بھیجنے کی اجازت دے دی تو بعض اہل سنت نے آپ کو ’’ خال المومنین‘‘ کے لقب سے ملقب کیا۔تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کا تعلق لوگوں کو یاد دلائیں ۔اور اس طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے حقوق کا ان کے درجات کے حساب سے خیال رکھا جائے۔

اگر اس قدر کوئی انسان اجتہاد کرے اور خطاء کا ارتکاب کرجائے ؛ تو وہ یقیناً اس انسان سے بہت بہتر ہوگا جو ان کے ساتھ بغض کرنے میں اجتہاد کرے اور غلطی کا مرتکب ہو۔ اس لیے کہ لوگوں کے ساتھ احسان کرنا اورمعاف کردینا برائی کرنے اور بدلہ لینے سے بہتر ہے۔جیسا کہ حدیث شریف میں ہے :

’’ شبہات کی وجہ سے حدود کو ختم کرو۔‘‘[ضعیف الجامع الصغیر ۱؍۱۱۷؛ للألباني۔] 

ایسے ہی وہ مجہول جو فقیر ہونے کا دعوی کرے ‘ اسے صدقہ دیا جاسکتا ہے ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آدمیوں کو دیا تھاجنہوں نے آپ سے سوال کیاتھا۔[ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر ان کو دیکھا پھر نظر جھکالی]؛ 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پایا کہ یہ دونوں آدمی تندرست جوان ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’اگر تم چاہو تو میں تم کو صدقہ دے دوں گا لیکن صدقہ میں اس شخص کا کوئی حق نہیں جو غنی ہو یا صحت مند ہو اور کمانے کے لائق ہو۔‘‘

صفحہ 2 از 5