فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے…

فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے متعلق رافضی پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

اس لیے کہ مال دار کو دینا فقیر کو محروم رکھنے سے بہتر ہے۔اور مجرم کو معاف کرنا بری انسان کو سزا دینے سے بہتر ہے۔ جب یہ لوگوں میں سے کسی ایک عام انسان کے بارے میں ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے۔ اگر کوئی مجتہد صحابہ کیساتھ احسان ؛ ان کے لیے بھلائی کی دعا؛ ان کی تعریف و ثناء اور ان کا دفاع کرتے ہوئے غلطی کا مرتکب ہوجائے تو وہ اس انسان سے[ لاکھ درجہ] بہتر ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع ‘ لعنت و ملامت کرنے میں غلطی کا مرتکب ہو۔

صحابہ کرام کے مابین جو جھگڑے ہوئے ؛ ان کی آخری حد یہ ہوسکتی ہے کہ وہ گناہ کا کام تھے۔گناہوں کی مغفرت کئی اسباب کی بنا پر ہوجاتی ہے۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بعد میں آنے والے باقی لوگوں سے بڑھ کر اس مغفرت کے حق دار ہیں ۔ آپ کسی ایک کو بھی ایسا نہیں پائیں گے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں کو بڑا بنا کر لوگوں میں پیش کررہا ہو‘مگروہ خود اس سے بہت بڑی خامیوں اور کوتاہیوں میں مبتلا ہوتا ہے ۔ یہ سب سے بڑی جہالت اور بہت بڑا ظلم ہے۔

رافضی چھوٹے گناہوں اور لغزشوں کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر زبان ِ طعن دراز کرتے ہیں ؛ مگر ان کفار اور منافقین کے کبیرہ گناہوں سے چشم پوشی کرتے ہیں جن کی یہ لوگ مدد کرتے ہیں ۔جیسے یہودو نصاری؛ مشرکین؛ اسماعیلیہ ؛ نصیریہ وغیرہ۔ پس جو کوئی مسلمانوں کے ساتھ ان کے گناہوں پر تو تکرار کرے ؛ مگر کفار اور منافقین کے ساتھ ان کے کفر و نفاق پر بھی خاموش رہے ؛ بلکہ اکثروبیشتر اوقات ان کفار و منافقین کی مدح سرائی میں رطب اللسان رہے ‘ توظاہر ہے کہ ایسا انسان لوگوں میں سب سے بڑا جاہل اور ظالم ہے۔بھلے اس کی جہالت اور ظلم و ستم اسے درجہ کفر تک نہ بھی پہنچائیں ۔

شیعہ کے تناقض اور جہالت کا یہ عالم ہے کہ اس نے یہ تو کہا ہے کہ:معاویہ رضی اللہ عنہ کو لوگ اہل ایمان کا ماموں کہتے ہیں مگر محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ان الفاظ میں یاد نہیں کرتے ۔[ہم شیعہ مضمون نگار سے پوچھتے ہیں کہ]اس نے باقی ان لوگوں کا ذکر کیوں نہیں کیا جو اس وصف میں برابر کے شریک ہیں ۔ اس نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا [ جو معاویہ اور محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہما دونوں سے افضل تھے] اور ان جیسے دوسرے لوگوں کا ذکر کیوں نہیں کیا؟

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اہل سنت والجماعت اس وصف کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خصوصیات میں شمار نہیں کرتے۔جبکہ رافضی اس کے مقابلہ میں محمد بن ابو بکر کو خاص طور پر پیش کرتے ہیں ۔ جب کہ اسے علم ودین [تقوی اور زہد ] میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ہوا بھی نہیں لگی۔ بلکہ وہ اپنے بھائی عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہما کے برابر بھی نہیں ہے۔ حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو صحبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف حاصل ہے۔جبکہ محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ حجۃ الوداع والے سال ذوالحلیفہ کے مقام پرپیدا ہوا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ: حالت نفاس میں ہی غسل کریں اوراحرام کی نیت کر لیں ۔بعد میں آنے والے لوگوں کیلئے یہ عمل ایک سنت بن گیا۔

محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے صرف پچیس ذوالقعدہ سے لیکر ربیع الاول کے شروع تک کے ایام پائے ۔ یہ چارہ ماہ بھی نہیں بنتے۔جب آپ کے والد محترم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو اس وقت آپ کی عمر تین سال سے بھی کم تھی۔آپ کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہونے کاشرف حاصل نہیں ۔اور نہ ہی باپ کی منزلت سے کوئی قربت حاصل ہے ۔ بس صرف اتنی ہی قربت تھی جو اس عمر کے کسی بھی بچے کو اپنے باپ سے ہوتی ہے ۔

محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مختص ہونے کی وجہ یہ تھی کہ محمد آپ کے پروردہ اور آپ کی بیوی کے بیٹے تھے ۔اس لیے کہ حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیوی اور محمد کی ماں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کر لیا تھا۔ عثمانی خلافت کے زمانہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر پر شرعی حد لگائی تھی؛جس کا محمد نے اپنے باپ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی منزلت کی وجہ سے اپنے دل میں ملال محسوس کیا۔یہی وجہ تھی کہ جب اہل فتنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی تویہ بھی ان کیساتھ تھا۔بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوا اور ان کی داڑھی پکڑی۔توحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم نے بہت بڑی جگہ ہاتھ ڈالا ہے؛ تمہاراباپ اس داڑھی کو کبھی ہاتھ لگانے والا نہیں تھا۔کہا جاتا ہے : جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات کہے تو محمد واپس چلا گیا۔جس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا وہ کوئی دوسرا آدمی تھا۔

پھر اس نے مختلف جنگوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ آپ کی جانب سے والی مصر قرار پایا۔ پھر لڑائی میں مارا گیا ۔شیعان عثمان نے اسے قتل کیا؛اور نعش گدھے کی کھال میں بند کرکے جلا دی گئی؛ اسے قتل کرنے والا معاویہ بن حدیج نامی شخص تھا۔[ اور اس طرح اسکے گناہوں کا کفارہ ہو گیا اور قتل اسکے حق میں بہتر ثابت ہوا]۔[الاصابہ ۳؍۳۱۱ ؛ الاعلام ۸؍۱۷۱ ؛ تاریخ الطبری ۵؍ ۱۰۳]

صفحہ 3 از 5