فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے…

فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے متعلق رافضی پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

روافض کی یہ پرانی عادت ہے کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کوقتل کرنے والوں کی مدح و ستائش میں رطب اللسان رہتے ہیں ۔ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معاونین کی تعریف و توصیف میں مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں ۔ اسی عادت کے مطابق وہ محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف میں مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں ۔ جس کی حد یہ ہے کہ وہ محمد کو ان کے والد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں افضل قرار دیتے ہیں ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل امت پر تو لعنت بھیجی جائے اور ان کے اس بیٹے کی مدح و ستائش میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جائیں جس کو صحبت نبوی حاصل ہے نہ کوئی سبقت اور فضیلت۔ اس سے تعظیم فی الانساب میں تناقض لازم آتا ہے۔ اگر کسی شخص کے والد کے کافر یا فاسق ہونے سے اس کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کے آباء کے کافر ہونے کی بنا پر کچھ ضرر لاحق نہیں ہوگا۔ اور اگر ضرر پہنچتا ہے تو(العیاذ باللہ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کفر و فسق سے یقیناً محمد بن ابی بکر کی ذات میں بھی قدح وارد ہوگی۔ شیعہ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے مداح ہیں ۔ ادھر جمہور اہل اسلام محمد کے بیٹے قاسم [قاسم بن محمد فقہائے سبعہ اور ان فضلاء میں سے تھے جو شریعت و سنت کی عمارت کے لیے ایک عظیم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ابو الزناد عبد اﷲ بن ذکوان جو امام مالک و لیث بن سعد رحمہ اللہ کے استاد تھے، فرماتے ہیں کہ:’’ میں نے قاسم سے بڑھ کر عالم حدیث نہیں دیکھا۔‘‘] اور اس کے پوتے عبد الرحمن بن قاسم کو اس سے افضل قرار دیتے ہیں ۔ شیعہ محمد کے بیٹے قاسم اور پوتے عبد الرحمن کو صرف اس لیے نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ وہ شرارت پسند نہ تھے۔

[محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ کا مقام و مرتبہ ]

[اشکال ]: شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’محمد بن ابی بکر عظیم المرتبت تھا۔‘‘ 

[جواب]: اگر عظمت سے مراد عظمت نسب ہے؛ تو یہ بے کار ہے۔ اس لیے کہ شیعہ اس کے والد اور بہن کے بارے میں زبان طعن دراز کرتے ہیں ۔ اہل سنت کا معاملہ اس سے یک سر جداگانہ نوعیت کاہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے یہاں عظمت و فضیلت کا مدار و انحصار نسب پر نہیں ، بلکہ تقوی پر ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ﴾ (الحجرات:۱۳)

’’ تم میں سب سے زیادہ باعزت والااللہکے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘

اگر شیعہ مصنف کے نزدیک محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی عظمت شان اس کی سبقت اسلام اور ہجرت و نصرت کی رہین منت ہے۔ تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ محمد صحابہ میں شمار نہیں ہوتا۔وہ مہاجرین و انصار صحابہ کے کسی بھی گروہ میں شامل نہیں ۔

اور اگر رافضی قلم کار محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بہت بڑا دین دار تصور کرتا ہے تو وہ غلطی کا شکار ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ محمد علماء و فضلاء اور اپنے طبقہ کے صلحاء میں شمار نہیں ہوتا۔ اور اگر جاہ و منزلت اورریاست کی بنا پر رافضی مضمون نگار اسے عظیم قرار دیتا ہے تو اس فضیلت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں زیادہ صاحب جاہ و منزلت ؛اور صاحب ریاست تھے ۔اوراس سے بڑھ کر دین دار اور زیادہ حلیم و کریم تھے۔کیاحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے یہ فضیلت کم ہے کہ آپ حدیثیں روایت کرتے اور فقہی مسائل پر تنقید و تبصرہ فرمایا کرتے تھے۔ محدثین نے آپ کی روایات اپنی کتب میں درج کی ہیں ۔ بعض علماء نے آپ کے فیصلہ جات اور فتاوی جمع کیے ہیں ، اس کے عین برخلاف حدیث و فقہ کی قابل اعتماد کتب میں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا ذکر تک نہیں پایا جاتا۔

[اشکال ]: شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ محمد بن ابی بکر کا باپ اور اسکی بہن معاویہ کے باپ اور اس کی بہن سے افضل تھے۔‘‘

[جواب ]: ہم کہتے ہیں : یہ دلیل سابقہ ذکر کردہ دونوں قاعدوں کی بنا پر باطل ہے۔ اس لیے کہ اہل سنت کے یہاں کسی شخص کی فضیلت کا معیار حسب و نسب نہیں ، بلکہ اس کی اپنی ذات ہے۔ نظر بریں محمد کے لیے یہ امر ذرہ بھر مفید نہیں کہ وہ حضرت ابوبکر و عائشہ رضی اللہ عنہما سے قریبی تعلق رکھتا ہے، دوسری طرف یہ نسبی فضیلت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں کچھ بھی قدح وارد نہیں کرتی۔ اہل سنت کے یہاں یہ معروف اصل ہے۔

٭ اس قاعدہ کو ایک مثال کے ذریعہ یوں واضح کر سکتے ہیں کہ حضرت بلال و صُہیب و خباب رضی اللہ عنہم اور ان کے نظائر و امثال وہ لوگ ہیں جو سابقین اوّلین صحابہ میں شامل ہیں اور فتح مکہ سے قبل انفاق و جہاد کے ذریعے عظیم انسانی واسلامی خدمات انجام دے چکے تھے۔دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو فتح مکہ کے بعد مشرف باسلام ہوئے۔ مثلاً ابوسفیان بن حرب اور آپ کے دونوں بیٹے معاویہ و یزید رضی اللہ عنہم ۔ نیز ابو سفیان بن حارث؛ ربیعہ بن حارث اورعقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ۔ یہ حسب و نسب کے اعتبار سے پہلے لوگوں کے مقابلہ میں افضل ہیں ؛یہ لوگ قریش کے بنو عبد المطلب کے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔جب کہ وہ شرافت نسبی سے بہرہ ور نہیں ۔ مگر ان کی فضیلت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہے ؛ جس کی وجہ فتح سے قبل اسلام لانا ؛ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور اس کی راہ میں جہاد کرناہے ۔اس لیے جو فضیلت ان لوگوں کے حصہ میں آئی؛ وہ دوسرے اس میں شریک نہیں ہیں جو بعد میں ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں جہاد کے شرف سے باریاب ہوئے۔[ اگر فضیلت و شرافت کا مدار حسب و نسب پر ہوتا تو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے یہ قریش سب سے زیادہ افضل و اکرم ہوتے]۔

صفحہ 4 از 5