فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے…

فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے متعلق رافضی پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

اگر روافض حسب و نسب کو فضیلت کا معیار قرار دیں تو محمد ان کے اس معیار پر بھی پورے نہیں اترتے۔ بلکہ وہ ان کے وضع کردہ قاعدہ کی بنا پر شرّ الناس ٹھہریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیعہ محمد کے والد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کی ہمشیرہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ لہٰذا ان کے اپنے قاعدہ کے مطابق محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ عظیم المرتبت نہیں ہو سکتے۔ اور اگر شیعہ اہل سنت کو قائل کرنے کے لیے الزامی جواب کے طور پر محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے حق میں یہ بات کہتے ہیں تو اہل سنت تو صرف تقوی کو معیار عظمت و شرافت قرار دیتے ہیں اور بس! جس کی دلیل یہ آیت قرآنی ہے:

﴿ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ

’’ تم میں سب سے زیادہ باعزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘


صفحہ 5 از 5