ملکی سرحدوں کی حفاظت کا اہتمام
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسلمانوں پر دشمن کے حملوں کے خوف، اسلامی سلطنت کی حدود میں وسعت ہو جانے کی وجہ سے دشمن کی در اندازی کے اندیشے اور رومیوں سے لڑنے سے طبعی گریز کی وجہ سے جب رومیوں سے معرکہ آرائی کا ذکر چھڑتا تو کہتے: اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ ہمارے اور ان (رومیوں) کے درمیان آگ کے انگاروں کی سرحد قائم ہو جائے اور اس پار جو کچھ ہے وہ ہمارا اور اس پار جو کچھ ہے وہ ان کا ہو جائے۔
(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 155)
سلطنت فارس سے ملنے والی اسلامی سرحد کے بارے میں بھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایسی ہی خواہش کا اظہار کیا، آپ نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ فارس اور سواد عراق کے درمیان ایسی سرحدی دیوار قائم ہو جائے کہ وہ ہم تک نہ آسکیں اور نہ ہم ان تک جا سکیں۔ ہمیں عراق کے دیہاتوں کی سرسبز زرعی زمینیں کافی ہیں، میں مالِ غنیمت ملنے کے مقابلے میں مسلمانوں کی حفاظت کو ترجیح دیتا ہوں۔
( تاریخ الطبری بحوالۃ الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 352)
چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سلطنت اسلامیہ کے لیے فوجی اڈے قائم کرنے کا حکم دیا، انہیں مخصوص ذمہ داریاں اور فرائض سونپے گئے، جن میں سے چند ایک کا ذکر پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے۔ اسلامی سلطنت اور مفتوحہ ممالک کی سرحدوں پر جو مقامات اہمیت کی حامل تھے وہاں دشمن کے خارجی حملوں اور در اندازیوں کے دفاع کی خاطر ان فوجی اڈوں کو صدر فوجی مقامات (ہیڈ کوارٹر) کے کام میں لایا جاتا۔ نیز انہیں فوجی اجتماعات کے مرکز اور اشاعت اسلام کے ادارہ کے طور پر استعمال کیا جاتا۔ جن بڑے شہروں میں یہ فوجی اڈے قائم تھے ان میں بصرہ اور کوفہ سرفہرست ہیں، ان کی سرحدیں فارسی مملکت سے ملتی تھیں، اسی طرح مصر کے شہر فسطاط میں بھی فوجی اڈا قائم تھا۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 452)
شام اور مصر کے ساحلی علاقوں میں رومیوں کے بحری حملے کے دفاع کی خاطر فوجی چھاؤنیاں بنائی گئی تھیں۔ ان کے علاوہ بھی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے چار بڑی فوجی چھاؤنیاں قائم کیں جنہیں جند حمص، جند دمشق، جند اردن اور جند فلسطین کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا، کیونکہ فوج کا یہی رہائشی مرکز ہوتا تھا اور ان مقامات کی چھاؤنیوں سے ان کا اتنا گہرا ربط ہوگیا کہ یہی نسبت نسب اور قبیلے پر مستزاد ان کے تعارف کی ایک علامت بن گئی۔ فوجی مہمات میں کسی کارروائی کو منظم کرتے وقت یا ان کے ذاتی حالات و ضروریات کی رعایت (مثلاً تنخواہ تقسیم کرنے) کے وقت ان کے امراء انہیں انہی جگہوں کی طرف منسوب کر کے بلاتے تھے۔
(فتوح البلدان: جلد 1 صفحہ 156)
سرحدی حفاظت کے یہ انتظامات صرف فوجی اڈوں پر اور چھاؤنیوں تک محدود نہ تھے، بلکہ دشمن کے ملک سے متصل سرحدوں پر سرحدی پولیس چوکیوں کے ساتھ وہ مضبوط قلعے بھی حفاظتی انتظامات کے کام میں لائے جاتے تھے جو دشمنوں سے چھن کر مسلمانوں کے قبضے میں آئے تھے۔ مسلمانوں نے ایسے قلعوں کو فوجی اڈا بنا لیا اور اسلامی سلطنت کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اس میں اپنی افواج ٹھہرائیں۔
(تاریخ التمدن: جرجی زیدان: جلد 1 صفحہ 179 )
اس طرح جیسے جیسے مسلمان کسی ملک کو فتح کر کے آگے بڑھتے مفتوحہ ملک کی آخری سرحد متعین کرتے اور کسی باصلاحیت فوجی قائد کی نگرانی میں وہاں مستقل حفاظتی فوج مقرر کر دیتے جو ہمہ وقت چاق و چوبند رہتی اور پہرے داری کرتی۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 453)
عراق اور مشرق (بلاد عجم) میں سیدنا عمر فاروقؓ نے سرحدی حفاظت سے متعلق سب سے اہم کارروائی یہ کی کہ فارس سے متصل اسلامی سلطنت کی سرحد پر مسلح فوجی دستے پھیلا دیے، چنانچہ جب حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں کو خبر ملی کہ فارسی لوگ یزدگرد کی حکومت پر متفق ہو چکے ہیں اور اب وہ ہمارے خلاف جنگی تیاری میں مشغول ہیں تو انہوں نے سیدنا عمر فاروقؓ کو اس بات کی اطلاع دی۔ سیدنا عمرؓ نے خط کا جواب اس طرح دیا:
’’حمد وصلاۃ کے بعد! عجمیوں کے بیچ سے نکل جاؤ اور عراق کی سرحدوں پر پہنچ کر عجمیوں (ایرانیوں) کے قریبی ساحل پر پھیل جاؤ۔‘‘
حضرت مثنی رضی اللہ عنہ نے آپ کے حکم کی تعمیل کی۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 453 )
اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے معرکہ قادسیہ سے قبل سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو نصیحت کی تھی:
’’جب تم قادسیہ پہنچو تو وہاں کے تمام چھوٹے بڑے راستوں پر اپنے مسلح دستوں کو پھیلا دو۔‘‘
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 453)
معرکہ جلولاء میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام لکھا کہ اگر اللہ تعالیٰ مہران اور انطاق کی دونوں افواج کو شکست سے دوچار کرتا ہے تو مسلمانوں کی ایک فوج حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کے سپرد کر کے انہیں حلوان کی سرحد پر بھیج دو تاکہ اس علاقہ کو داخلی و خارجی فتنوں سے محفوظ رکھیں اور وہاں جو غازی مسلمان ابھی موجود ہیں یا جو خود جہاد میں جا چکے ہیں اور ان کے اہل و عیال موجود ہیں ان کی طرف سے دفاع کریں۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 453 )
چنانچہ یہی وجہ تھی کہ عراقی محاذ کے کمانڈر جنرل سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ اپنی فوج کو جنگ پر ابھارتے، فارسیوں سے زبردست ٹکر لینے کی انہیں ترغیب دلاتے اور کہتے رہے کہ: تم پیش قدمی کرو، ہماری ملکی سرحدیں بالکل محفوظ ہیں، تمہاری پشت سے تم پر دشمن کے حملہ آور ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے، فاتح دوراں مجاہدین اسلام تمہارے لیے کافی ہیں، ہم نے اپنی سرحدوں کو دشمن سے محفوظ کر دیا ہے اور اسی میں اپنی زندگیاں کھپا دی ہیں۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 454)
سرحدی حفاظت کی اس فاروقی سیاست پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمرؓ کے زمانہ میں مسلح فوجی مراکز اس وقت تک قائم نہیں کیے جاتے تھے جب تک کہ فوج کی اعلیٰ قیادت (ہائی کمان) سے اس کی اجازت نہ مل جائے، چنانچہ ان مسلح فوجی مراکز کے قائدین کے نام سیدنا عمر فاروقؓ نے جو حکم نامہ جاری کیا تھا اس میں یہ چیز نمایاں طور سے دیکھی جا سکتی ہے۔ سیدنا عمرؓ کا حکم تھا کہ فارسیوں کو اپنے بھائیوں کی طرف آنے سے مشغول رکھو، اس کے ذریعہ سے مسلمانوں اور اپنے ملک کی حفاظت کرو، فارس اور اہواز کی سرحد پر مسلح دستوں کو پھیلا دو اور جب تک میرا حکم نہ آجائے وہیں ڈٹے رہو۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 454 )
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں صرف کوفہ کی سرحدیں چار بڑی سرحدوں پر مشتمل تھیں:
حلوان کی سرحد: اس کی حفاظت و نگرانی کے اعلیٰ ذمہ دار اعلیٰ اور سرحدی فوج کے قائد حضرت قعقاع بن عمرو تمیمی رضی اللہ عنہ تھے۔
ماسبذان کی سرحد: اس کے ذمہ دار و قائد ضرار بن خطاب فہری تھے۔
قرقیسیا (مالک بن طوق کے قریب دریائے خابور پر ایک شہر کا نام ہے جہاں دریائے خابور فرات سے جا ملتا ہے۔) کی سرحد: یہاں کے قائد و ذمہ دار عمر بن مالک زہری تھے۔
اور چوتھی موصل کی سرحد تھی جس کے قائد و ذمہ دار عبداللہ بن معتم عبسی تھے۔
ان قائدین میں سے اگر کوئی کسی مہم پر چلا جاتا تو دوسرا اس کی نیابت کرتا اور سرحدی امور انجام دیتا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کے یہ فوجی لشکر جب بھی سرحدی علاقوں میں حفاظتی قلعے بناتے یا کوئی شہر بساتے تو سب سے پہلے وہاں مسجد تعمیر کرتے، اس لیے کہ مسلم معاشرے میں اس کا اپنا منفرد دعوتی، تربیتی اور جہادی کردار ہے۔
(الإدارۃ العسکریۃ:جلد 1 صفحہ 455 )
جہاں تک سیدنا فاروق اعظمؓ کے دور میں شامی محاذ پر رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان سرحدی حدود کی حفاظت کا تعلق ہے تو اس کی طرف آپؓ نے اسی وقت سے اپنی توجہ مرکوز کر دی تھی جب سے شامی ممالک اسلامی فتوحات کے دائرہ میں داخل ہو رہے تھے، چنانچہ آپؓ نے سرحدی علاقوں کی حفاظت کے لیے مختلف و متعدد دفاعی اقدامات کیے، مثلاً سرحد نگراں چوکیاں قائم کیں، پہرے دار متعین کیے، جگہ جگہ مسلح فوجی چھاؤنیاں اور مراکز بنائے، ساحلی علاقوں کی حفاظت کا انتظام کیا، فوجی رباط قائم کیے، مزید برآں جو قلعے وہاں پہلے سے موجود تھے، سب کو باقی رکھا، دشمن سے چھینے ہوئے ان قلعوں کو برباد نہ کیا، بلکہ اس میں قیام کرنے والی افواج کو منظم کیا، یعنی کون سی جماعت جنگی محاذ پر ہوگی اور کون جائے گی، کون آئے گی، اس طرح شام کے پورے ساحلی علاقوں کو ایک متحدہ فوجی ادارے سے جوڑ دیا۔ جس سال سیدنا عمرؓ نے باشندگان بیت المقدس سے صلح مصالحت کرنے کے لیے بلاد شام کا دورہ کیا تو شام کی بعض سرحدوں کا جائزہ لیا، پھر وہاں محافظوں اور مسلح افواج کو تیار کیا اور امراء و قائدین کو منظم کیا، اس طرح سیدنا عمرؓ نے سرحد کو دشمن کی در اندازیوں سے بالکل محفوظ کر دیا، خود سرحدوں کا دورہ کیا تاکہ ان کی دفاعی ضروریات کا اندازہ کر سکیں۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 457)
پھر سیدنا عمر فاروقؓ مدینہ لوٹ آئے، البتہ لوٹنے سے پہلے لوگوں میں یہ خطبہ دیا: ’’میں تمہارا حاکم بنایا گیا ہوں، تمہارے جن معاملات کو اللہ نے میرے ذمہ کیا ہے میں اسے پورا کر رہا ہوں۔ ان شاء اللہ۔ ہم نے تمہارے درمیان تمہارے اموال غنیمت، اقامت اور غزوہ پر نکلنے والی جماعت کو عدل و انصاف سے برابر برابر تقسیم کر دیا ہے، ہم نے تمہارے لیے اسلامی فوج مہیا کر دی ہے، سرحدوں کو محفوظ کر دیا ہے اور تمہیں وہاں ٹھہرا دیا ہے۔ شامی محاذ پر جنگ کے ذریعہ سے تم نے جو کچھ مال غنیمت حاصل کیا اسے تمہیں زیادہ سے زیادہ دے دیا ہے۔ تمہاری تنخواہیں مقرر کر دی ہیں اور تمہیں عطیات و وظائف، خوراک اور اموال غنیمت دینے کا حکم دے دیا ہے۔ اگر کسی کو نظم ونسق کی اس سے بہتر کوئی معلومات ہوں جو قابل عمل ہو، تو وہ ہمیں ضرور بتا دے، ہم ان شاء اللہ اسے ضرور بالضرور روبہ عمل لائیں گے۔ اللہ ہی کی قوت و توفیق پر مکمل اعتماد ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 40)
اسی طرح جب حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے شام کی شمالی حدود سے متصل انطاکیہ کی سرحد کو فتح کر لیا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے نام خط لکھا: ’’صالح اور مخلص مسلمانوں کی ایک جماعت کو سرحد کی حفاظت پر مامور کر دو اور ان کے وظائف اور عطیات بند نہ کرو۔‘‘
(فتوح البلدان: جلد 1 صفحہ 175)
چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حمص اور بعلبک کے مخلص و نیکوکار افراد پر مشتمل ایک جماعت تیار کی اور دشمن کے خارجی حملوں کے دفاع کے لیے اسے سرحد کی حفاظت پر مامور کر دیا اور حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کو ان کا ذمہ دارِ اعلیٰ بنا دیا۔ پھر انہوں نے اسلامی سلطنت کے حدود کے ماورائی علاقوں میں فوجی کارروائی کے لیے انطاکیہ کی سرحد پر ایک فوجی اڈا قائم کیا، جہاں سے رومی محاذ کی سرحدی پٹی پر لڑنے والی اسلامی افواج کے لیے مدد بھیجی جاتی تھی، یہیں سے جرجومہ(یہاں کے باشندوں کو جراجمہ کہا جاتا ہے، شامی سرحد پر ’’لگام‘‘ کے کہوستانی علاقہ میں یہ شہر آباد ہے) پر چڑھائی ہوئی اور وہاں کے لوگوں نے اس بات پر صلح کر لی کہ وہ مسلمانوں کے مددگار ہوں گے، ان کے لیے مخبری کریں گے اور ’’لکام‘‘ کے کوہستانی علاقے میں رومیوں کے خلاف ہمیشہ مسلح رہیں گے۔
(معجم البلدان: جلد 2 صفحہ 123 )
اسی طرح جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ’’بالس‘‘(حلب اور رقہ کے درمیان شام کا ایک شہر ہے۔) کی سرحد پر گئے تو وہاں بھی جنگجوؤں کی ایک جماعت بنائی اور وہاں شام کے ان نو مسلم عربوں کو ٹھہرایا جو رومی حملوں سے سرحدی علاقوں کی حفاظت کی خاطر آئے ہوئے مسلمانوں کی دعوت پر مسلمان ہوئے تھے۔
(فتوح البلدان، بلاذری: جلد 1 صفحہ 224)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے آخری اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام حکومت میں شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بھی شام کی ساحلی سرحدوں کی حفاظت کے لیے دفاعی وسائل استعمال کیے۔ سرحدی علاقوں میں اطرسوس، (شام کے سمندری ساحل کا ایک شہر ہے۔)مرقیہ، (حمص کے ساحلی علاقوں میں ایک مضبوط قلعہ ہے) بلنیاس،(حمص کے سمندری ساحل پر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔)اور بیت سلیمہ کے نام سے متعدد حفاظتی قلعے تعمیر کرائے۔ مزید برآں سواحل شام کے جن قلعوں کو اسلامی افواج نے فتح کیا تھا انہیں جدید ترقی دی اور پھر وہاں مقاتل افواج کو کافی تعداد میں ٹھہرایا، سرحد پر نگران چوکیاں بنا کر ان کی نگرانی کا دائرہ وسیع کر دیا، پہرے دار متعین کیے جو ہمہ وقت اس چیز پر نگاہ رکھتے کہ دشمن سرحد کے قریب نہ آنے پائے، اگر دشمن کہیں سے حملہ آور ہوتے یا در اندازی کی کوشش کرتے تو وہاں کی نگران چوکی آگ جلا کر اپنے قریب کی چوکی والوں کو اور وہ اپنے قریب والوں کو دشمن کی حرکتوں سے آگاہ کر دیتے اور مختصر سی مدت میں یہ خبر فوجی اڈوں، مسلح دستوں اور شہروں میں عام ہو جاتی۔ پھر سارے لوگ دشمن کی دراندازی روکنے اور اسے دور بھگانے کے لیے بیک وقت سرحدی محاذ پر روانہ ہو جاتے۔
(فتوح البلدان: جلد 1 صفحہ 150 تا 158)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دوسری اسلامی سرحدوں کی طرح روم اور مصر کی سرحدی حدود کی حفاظت پر بھی خاص توجہ دی۔ چنانچہ اس علاقہ میں اسلامی افواج کو ٹھہرانے کے لیے سیدنا عمرؓ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ پہلی فوجی چھاؤنی کے طور پر شہر فسطاط آباد کریں تاکہ اس علاقے میں اسلامی افواج کو رکھا جائے۔ ہر فوجی قبیلہ پر ایک پہرے دار اور عریف مقرر کر دیا اور یہیں سے شمالی افریقہ میں اسلامی فتوحات کے لیے فوجی کارواں روانہ ہونے لگا۔ مزید برآں یہی مصری سرحد کا اہم دفاعی اڈہ تھا اور دوسری کئی ملکی و فوجی ضروریات کی تکمیل بھی اسی سے ہوتی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیگر فوجی اڈوں کے محل وقوع کے لیے جو شرائط رکھیں یہاں بھی وہی شرط رکھی گئی، یعنی اس کے اور مدینہ کی اعلیٰ مرکزی فوجی قیادت (جس کی باگ ڈور خلیفہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے) کے درمیان کوئی سمندری راستہ حائل نہ ہو تاکہ دونوں کے درمیان رابطے کا سلسلہ آسان اور برابر باقی رہے۔
(فتوح مصر: ابن عبدالحکم، الإدارۃ العسکری: جلد 1 صفحہ 462)
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی افواج کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ آپ لوگوں کا مصر میں قیام کرنا سرحدی حفاظت کے لیے رباط ہے۔ فرماتے ہیں: جان لو کہ تم لوگ قیامت تک کے لیے اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ہو (اس کا ثواب تمہیں ہمیشہ ملتا رہے گا) اس لیے کہ تمہارے ہر چہار جانب دشمنوں کی کثرت ہے، وہ تمہیں اور تمہارے وطن کی طرف، جہاں اموال، زمینی پیداوار اور روز افزوں خیر و برکت کا خزانہ ہے، للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
مصری فتوحات کے جس مرحلے میں اسلامی فوج نے قدیم مصری سرحد کے حفاظتی قلعوں اور اسلحہ خانوں پر قبضہ کیا تھا انہیں ترمیم و تجدید کے بعد اس لائق بنا دیا کہ اس میں اسلامی افواج مستقل طور پر قیام کر سکیں اور پھر اس میں اسلامی افواج ٹھہرائی گئیں۔ چنانچہ مصر کے سرحدی شہر ’’عریش‘‘ میں سب سے پہلے مسلح فوجی چوکی قائم کی گئی
(فتوح مصر، ابن عبدالحکم، الإدارۃ العسکری: جلد 1 صفحہ 462)
اور پھر مصر کے تمام ساحلی حدود پر اس طرح کی کئی مسلح فوجی چوکیاں قائم کی گئیں۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 103)
اسی طرح جب سیدنا عمرو بن عاصؓ نے اسکندریہ کی سرحد پر قبضہ کیا تو اپنے ایک ہزار مسلح ساتھیوں کو اس کی حفاظت و نگرانی پر مامور کیا، لیکن یہ تعداد ضرورت کے لیے ناکافی ٹھہری اور بحری راستے سے رومی افواج نے دوبارہ حملہ کر کے کچھ لوگوں کو قتل کر دیا اور کچھ لوگ سرحد چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ سیدنا عمرو بن عاصؓ نے ان پر قابو پانے کے لیے دوبارہ سخت حملہ کیا اور سرحد پر قبضہ کر لیا اور اس کی حفاظت و نگرانی کے لیے اپنی ایک چوتھائی فوج لگا دی اور دوسری چوتھائی فوج کو ساحلی علاقوں کی نگرانی پر مامور کر دیا، جب کہ بقیہ نصف فوج لے کر خود فسطاط میں مقیم رہے۔
(البحریۃ فی مصر الإسلامیۃ وآثارہا الباقیۃ: سعاد ماہر: صفحہ 77 )
سیدنا عمر فاروقؓ بھی اسکندریہ کی سرحد کی اہمیت کے پیش نظر ہر سال مدینۃ النبیﷺ سے مجاہدین کی ایک جماعت اس کی حفاظت و نگرانی کے لیے بھیجتے تھے اور گورنروں کو خط لکھتے رہتے تھے کہ اس سے غافل نہ رہیں اور کثیر تعداد میں مسلح گشتی دستوں کو وہاں مامور رکھیں۔
(فتوح مصر: صفحہ 192، الخطط: مقریزی: جلد 1 صفحہ 167)
اس طرح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عراقی، شامی اور مصری تینوں محاذوں پر سلطنت اسلامیہ کی بری حدود کو مکمل طور پر محفوظ کر کے اپنی دور اندیشی اور بالغ نظری کا مکمل ثبوت دیا۔
الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 464)
سلطنت اسلامیہ کی ملکی حدود کی حفاظت کے لیے سیدنا عمرؓ نے نہ صرف انہیں دفاعی وسائل پر اکتفا کیا بلکہ موسم کے لحاظ سے سرما و گرما کے لیے مستقل فوجی نظام بھی قائم کیا، جو گشتی دستوں کی شکل میں منظم تیاری کے ساتھ ہر سال موسم سرما و گرما میں سرحدوں کی حفاظت کے لیے روانہ کی جاتی تھیں۔ یہ افواج صرف شامی حدود کے لیے نہیں بلکہ سلطنت اسلامیہ کی مکمل سرحدی حدود پر انہیں اپنی مہم پر روانہ کیا جاتا تھا اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح، معاویہ بن ابی سفیان اور نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہم جیسے بہت سارے عظیم قائدین ان کی قیادت کرتے تھے۔
(فتوح البلدان، بلاذری: جلد 1 صفحہ 194، 195)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سرحد پر جانے والی افواج کی تنخواہ اور ضروریات و خوراک میں اس وقت تک کے لیے اضافہ کر دیتے تھے جب تک کہ وہ سرحد کی نگرانی پر مامور ہوتی تھیں۔
(الفن الحربی فی صدر الإسلامی، عبدالرؤف عون: صفحہ 201۔ الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 465)
اسی طرح سیدنا عمرؓ کے قائدین جنگوں کے مواقع پر غازیوں کے لیے اموال غنیمت تقسیم کرتے وقت ان سرحدی مسلح فوجی دستوں کے لیے معرکوں میں شریک ہونے والے مجاہدین کی طرح حصہ لگاتے تھے، اس لیے کہ جب مجاہدین اپنی مہموں پر روانہ ہو جاتے تھے تو یہی لوگ مسلمانوں کے محافظ ہوتے تھے، کہ مبادا کسی طرف سے دشمن ان پر حملہ کر دے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 134۔ الإدارۃ العسکریہ: جلد 2 صفحہ 465)
چنانچہ سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے جانشین کے لیے یہ وصیت کی:
’’میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو فوجی محکمہ سے منسلک افراد کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اس لیے کہ وہ اسلام کے پاسبان، مال کو درآمد کرنے والے اور دشمن کو چڑانے و مرعوب کرنے والے ہیں۔ ان سے ان کی ضروریات سے زائد چیزیں ہی لی جائیں اور ان کی خوشی سے ہی لی جائیں۔‘‘
(مناقب أمیرالمومنین: ابن الجوزی: صفحہ 220، 219 )