فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 18

۳۔ تیسرا گروہ : ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی نسبت حق پر تھے۔ ان کا کہنا ہے :حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ قتال میں حق پر نہیں تھے۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ: ’’ یہ زمانہ فتنہ اور اختلاف و افتراق کا زمانہ تھا۔اس وقت پوری امت اسلامیہ کا کوئی نہ ہی [متفقہ]امیر تھا اورنہ ہی خلیفہ ۔ اس قول کے کہنے والے اہل بصرہ ‘ اہل شام؛ اہل اندلس علاوہ اور بہت سارے دوسرے علماء و محدثین رحمہم اللہ تھے۔ اندلس میں بہت سارے بنو امیہ کے علماء اسی قول کے قائل تھے۔یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رحم و مغفرت کی دعا کرتے اور آپ کی تعریف کرتے تھے ۔ لیکن کہتے تھے: آپ خلیفہ نہیں تھے۔ اس لیے کہ خلیفہ وہ ہوتا جس کی بیعت پر لوگ جمع ہوجائیں ۔ آپ کی بیعت پر لوگ جمع نہیں ہوئے۔

۳۔ ان میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے جمعہ کے خطبات میں چوتھا خلیفہ شمار کرتے تھے۔ پس تین پہلے خلفاء کو شمار کرتے اور چوتھا خلیفہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو شمار کرتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا کرتے تھے ۔ یہ لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تو آپ پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہوگیا؛بخلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ؛ آپ کے ہاتھ پر مسلمانوں کا اجتماع نہیں ہوسکا ۔ یہ لوگ کہتے ہیں : ہم امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو چوتھا خلیفہ اس لیے نہیں شمار کرتے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں ۔ بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ سے افضل ہیں ۔جیسا کہ دوسرے کئی صحابہ کرام حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں ‘ اگرچہ وہ خلفاء نہیں بن سکے۔ امام احمد بن حنبل اور دوسرے علماء رحمہم اللہ جو خلافت علی رضی اللہ عنہ کے قائل تھے نے آپ کی خلافت پر حدیث سفینہ سے استدلال کیاہے؛ جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’میرے بعد تیس سال خلافت ہو گی، پھر ملوکیت کا آغاز ہو جائے گا۔‘‘[سنن ابی داؤد ۔ کتاب السنۃ، باب فی الخلفاء(ح:۴۶۴۶) سنن ترمذی، باب فی الخلافۃ (ح:۲۲۲۶) ۔]

امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چوتھا خلیفہ شمارنہ کرنے والے گدھے سے بڑھ کر گمراہ و بدتر ہیں ۔‘‘

آپ کے اس جملہ کی وجہ سے بعض لوگوں نے حضرت امام احمد رحمہ اللہ پر کلام کیا ہے‘اورکہا ہے : ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار کرنے والوں میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور دوسرے وہ لوگ شامل ہیں جن کے متعلق اس طرح کا جملہ کہنا زیب نہیں دیتا ۔ اور انہوں نے بہت ساری ان احادیث مبارکہ سے بھی استدلال کیا ہے جن میں خلافت نبوت کا ذکر ہے ؛ مگر ان میں خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی دوسرے کا تذکرہ نہیں ۔

مسند امام احمد میں حماد بن سلمہ سے روایت ہے ‘ وہ علی بن زید بن جدعان سے ‘ وہ عبد الرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے اوروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ : ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:

’’کیا تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا۔یارسول اللہ! میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا ہے پھر آپ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ وزن کیا گیا اور آپ بھاری نکلے۔ پھر حضرت عمرو ابوبکر رضی اللہ عنہما کو تولا گیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ والا پلڑا جھک گیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں وزن کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ وزنی ثابت ہوئے۔ پھر ترازو اٹھا لیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خلافت نبوت کی جانب اشارہ ہے اس کے بعد اللہ جسے چاہے حکومت و سلطنت سے نوازے۔‘‘[مسند احمد(۵؍۴۴،۵۰) سنن ابی داؤد۔ کتاب السنۃ۔ باب فی الخلفاء (ح: ۴۶۳۴۔۴۶۳۵) تاہم اس میں خواب دیکھنے والے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نہیں تھے بلکہ ایک دوسرے صحابی تھے۔ واللہ اعلم) ]

امام ابو داؤد رحمہ اللہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’آج ایک نیک آدمی نے خواب دیکھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے باندھ دیا گیا ہے، اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے وابستہ کردیا گیاتھا۔‘‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :

’’جب ہم بارگاہ رسالت سے اٹھے تو ہم نے کہا: نیک آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس مراد ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ آپ کے خلفاء ہیں ۔‘‘[سنن ابی داؤد۔ کتاب السنۃ۔ باب فی الخلفاء(حدیث:۴۶۳۶)]

امام ابو داؤد رحمہ اللہ کی سنن میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے کہا: 

’’اے اللہ کے رسول!میں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک ڈول آسمان پر لٹکایا گیا۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے اس ڈول کے کنارے پکڑ کر تھوڑا سا پی لیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے اس کے کنارے پکڑے اور اتنا پیا کہ پیٹ بھر گیا۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے اس کے کنارے پکڑکر پیا؛ یہاں تک کہ سیر ہوگئے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے اس کے دونوں کنارے پکڑے تو وہ ڈول ہل گیا اس کے پانی کے کچھ چھینٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر پڑ گئے۔‘‘[سنن ابوداد:جلد سوم:حدیث نمبر۱۲۳۴۔]

حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے :’’ خلفاء تین ہیں : حضرت ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم ۔‘‘

صفحہ 10 از 18