فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 18

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول تمام احادیث صحیحہ برحق ہیں ۔ وہ خلافت جس پرتمام مسلمانوں کا اجماع ہوا تھا؛ اور جس دور میں کفار سے قتال کیا گیااور دین اسلام کو غلبہ نصیب ہوا وہ حضرات ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں مسلمانوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا تھا۔ اس دور میں مسلمانوں کی قوت کچھ اچھی حالت میں باقی نہ رہی تھی۔اور نہ ہی اس دور میں کفار پر کوئی غلبہ اور رعب باقی رہا۔یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ راشد ہونے میں قدح کا سبب نہیں بن سکتی۔[حقائق کے پیش نظر] اتنا کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح پہلے خلفاء کو اقتدار اور قوت حاصل تھی ؛ ایسی قوت آپ کو حاصل نہ ہوسکی۔ اور امت آپ کی اطاعت سے ایسے شرفیاب نہ ہوسکی جیسے آپ سے پہلے کے خلفاء کی اطاعت کرتی تھی ۔پس اس بنا پر آپ کے عہد مسعود میں ایسی عام اور مکمل خلافت قائم نہ ہوسکی جیسے آپ سے پہلے تین خلفاء کے دور میں تھی۔ حالانکہ آپ کا شمار بھی ہدایت یافتہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ: ’’ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جنگ کرنے میں حق پر تھے ؛ مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کیساتھ جنگ میں حق پر نہیں تھے۔ان کا قول پھلے گروہ کے قول کی نسبت ضعیف ہے۔ ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ : ’’حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کررہے تھے۔ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چچا زاد اور ولی تھے۔ اولاد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے دیگر رشتہ دار حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوگئے تھے ؛ اور ان کا مطالبہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یاتو قاتلین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے حوالے کردیں ‘ یا پھر خود ان سے قصاص لیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسا نہیں کیا ۔ اس وجہ سے انہوں نے آپ کی بیعت ترک کردی اور آپ کے خلاف برسر پیکار ہوگئے۔اور دوسری بات یہ ہے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ شروع کی تھی ؛ انہوں نے اپنے نفوس و بلاد کے دفاع میں اسلحہ اٹھایا تھا۔ اس وجہ سے انہوں نے کہنا شروع کردیا تھا: کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان پر ظلم اور سرکشی کرتے ہیں ۔

رہی وہ حدیث جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’ تجھے باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘بعض محدثین نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ بعض نے اس کی تاویل کی ہے۔ بعض نے کہا ہے : اس سے مراد خون [عثمان رضی اللہ عنہ ] کا مطالبہ کرنے والی جماعت ہے۔جیسا کہ بعض لوگ نعرہ لگاتے تھے کہ ہمیں خون عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ چاہیے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ : جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے قتل ِحضرت عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

’’ کیاہم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ انہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے قتل کیا ہے جو انہیں ہماری تلواروں کے نیچے لے کر آئے ۔‘‘

جب یہ تاویل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کی گئی توآپ نے فرمایا:

’’ توپھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جنگ احد کے موقع پر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہوگا کیونکہ وہ اس دن مشرکین سے جنگ کررہے تھے ۔‘‘

اس قول کے قائلین کا ائمہ اربعہ کے اصحاب اور معتبر علماء اہل سنت والجماعت کے ہاں کو ئی کھوج نہیں مل سکا۔ اصل میں یہ بہت سارے مروانیہ اور ان کی موافقت رکھنے والوں کا قول ہے ۔

ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے میں شریک تھے۔ پھر بعض کہتے ہیں : آپ نے اعلانیہ اس کا حکم دیا تھا۔ بعض کہتے ہیں : نہیں ‘ بلکہ چپکے سے سازش کی تھی۔بعض کہتے ہیں : آپ اس قتل پر راضی رہے اور خوش ہوئے تھے۔ اور بعض لوگ اس طرح کی دیگر باتیں بناتے ہیں ۔یہ تمام باتیں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ اور بہتان ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نہ ہی قتل عثمان رضی اللہ عنہ میں شریک ہوئے ‘ نہ ہی اس پر راضی تھے اور نہ ہی اس پر خوش ہوئے اورنہ ہی آپ نے کوئی سازش کی ۔ آپ سے روایت کیا گیا ہے ۔ اور آپ اپنے اس قول میں بالکل سچے ہیں ۔ آپ فرمایا کرتے تھے : ’’ اللہ کی قسم ! میں نہ ہی قتل عثمان رضی اللہ عنہ میں شریک ہوا اور نہ ہی ایسی کوئی سازش کی۔‘‘

دوسری روایت میں ہے آپ نے فرمایا : ’’ نہ ہی میں نے قتل کیا او رنہ ہی اس پر راضی تھا ۔‘‘

ایک روایت میں ہے :آپ نے سنا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کوقتل کرنے والوں پر لعنت کر رہے تھے توآپ نے فرمایا:

’’ اے اللہ ! عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والوں پر خشکی اور سمندر میں اورپھاڑ اور وادی میں لعنت کر ۔‘‘

اہل شام کا عذر:

یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ بعض لوگوں نے اہل شام کے پاس جاکر جھوٹی گواہی دی تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والوں میں شریک تھے۔ یہ گواہی آپ کی بیعت ترک کرنے کا سبب بنی تھی ؛ اس لیے کہ ان لوگوں کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ آپ ظالم ہیں ؛ او رآپ کا شمار قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ میں ہوتا ہے ۔اور آپ نے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو اس وجہ سے پناہ دی ہوئی ہے کہ آپ اس قتل پر موافق تھے۔

اس طرح کی کئی ایک دیگر باتوں سے ان لوگوں کے قتال میں اجتہاد کی وجہ اورشبہ ظاہر ہوجاتا ہے جنہوں نے آپ سے جنگ کی تھی۔لیکن اس کامطلب ہر گز یہ بھی نہیں کہ آپ کے ساتھ قتال اورترک بیعت کے متعلق اجتہاد میں انہوں نے حق بات تک رسائی حاصل کرلی تھی۔ اور نہ ہی قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہوجانے کی وجہ سے یہ لازم آتا ہے کہ آپ اس قتل[ میں شریک یا پھر اس] پر موافق تھے۔ بعض لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ بھی عذر پیش کیے ہیں کہ:

۱۔ آپ ان لوگوں کو متعین طور پر نہیں جانتے تھے جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیاتھا۔

۲۔ یا آپ یہ سمجھتے تھے کہ ایک آدمی کے بدلہ میں ایک پوری جماعت کو قتل نہیں کیا جاسکتا ۔

صفحہ 11 از 18