فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 18

۳۔ آپ کے پاس مقتولین کے وارثوں نے قصاص کا مطالبہ نہیں کیا ‘ جس کی روشنی میں قاتلین میں پکڑا جاتا ۔

ایسے عذر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔حقیقت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اتنی قوت حاصل نہ ہوسکی تھی کہ آپ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرتے۔ اگر ایسے ہوتا بھی تو اس سے مزید فتنہ وفساد اوربہت بڑا شر پھیل جاتا۔ جبکہ بڑے فساد سے بچنے کیلئے چھوٹے فساد کو قبول کرلینا یہ مصلحت کے زیادہ قریب ہے۔ اس لیے کہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ پورا لشکر تھے۔ان کے پیچھے ان کے قبائل تھے جو ان کا دفاع کررہے تھے؛اور جو لوگ براہ راست قتل میں شریک ہوئے تھے ؛ قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود اپنے قبائل کے سرکردہ لوگ تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ آپ کے قتل کرنے پر قادر نہ ہوسکتے تھے۔ جب حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما قاتلین عثمان کو قتل کرنے کے لیے بصرہ کی طرف چل پڑے تو اس وجہ سے جنگ بپا ہوئی جس میں بہت ساری خلقت قتل ہوئی۔

جس چیز سے یہ معاملہ مزید واضح ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر جمع ہوگئے تھے ؛ اور آپ مسلمانوں کے امیر عام بن گئے تھے ؛ مگر اس کے باوجود آپ نے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ میں سے جو لوگ باقی رہ گئے تھے ‘انہیں قتل نہ کرسکے ۔بلکہ یہ روایت کیا گیا ہے کہ: جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سفر حج کے لیے مدینہ پہنچے تو آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھرسے آوازیں سنیں : ہائے امیر المؤمنین ! ہائے امیر المؤمنین ! ۔‘‘ آپ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟

لوگوں نے کہا: یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے جو ان کے خون کا مطالبہ کررہی ہے ۔ آپ نے لوگوں کو اسی حال میں چھوڑا؛ اور خود اس کی طرف چلے گئے؛ اور یوں گویا ہوئے : اے میری چچا زاد!’’ لوگوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہماری اطاعت کی ہے ۔ اور ہم غصہ کے باوجود ان کیساتھ بردباری اور تحمل مزاجی کا سلوک کررہے ہیں ۔اگر ہم ان کے ساتھ بردباری نہ کریں تو وہ ہماری اطاعت ترک کردیں ۔ اور یہ کہ تم امیر المؤمنین کی بیٹی کی حیثیت سے عزت و اکرام کے ساتھ بیٹھو ‘ اس سے بہتر ہے کہ لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل بن جاؤ ۔‘‘ آج کے بعد میں نہ سنوں کہ تم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یاد کیا ہے ۔‘‘

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جو کہ آپ کے قصاص کے طلب گار تھے؛ جو کہتے تھے کہ: آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال میں حق پر ہیں ؛ اس لیے کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو قتل کرنا چاہتے تھے ؛ مگر جب آپ کو قدرت و اختیار حاصل ہو گیا ؛اور لوگ آپ کے ہاتھ پر جمع ہوگئے ؛ توآپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین کو قتل نہیں کیا ؛ اگرچہ انہیں قتل کرنا واجب بھی تھا؛ اوراب آپ کو قدرت و اختیار بھی حاصل تھا؛ تو مسلمانوں سے جنگ کیے بغیر یہ کام کر گزرنا حضرت علی رضی اللہ عنہ اورآپ کے ساتھیوں سے جنگ کرنے کی نسبت زیادہ اولی واسہل تھا۔اور اگر معاویہ رضی اللہ عنہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل بھی کردیتے تو اتنا بڑا فساد نہ پیدا ہوتا جتنا صفین کی راتوں میں ہوا تھا۔

اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے میں معذور تھے؛ خواہ اپنے عجز و کمزوری کی وجہ سے یا پھر فتنہ برپا ہونے کے اندیشہ سے ؛ کیونکہ اس سے پھر جماعت بندی کا شیرزارہ بکھر جاتا [اور لوگ بغاوت کرجاتے] اور آپ کی حکزمت کمزور ہوجاتی ۔توحضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ عذر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عذر سے زیادہ مقبول ہے ۔ اس لیے کہ فتنہ گروں اور فسادیوں کوقتل کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اس سے مزید فتنہ پیداہوتا ؛ اختلاف پیدا ہوتا ؛ حکومت کمزور ہوجاتی ؛ خواہ اس بارے میں جتنی بھی سخت کوششیں کی جائیں ۔

یہ حقیقت ہے کہ فتنہ کے شر و فساد کاصحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب فتنہ ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب فتنہ برپا ہورہا ہوتا ہے اس وقت وہ خوبصورت نظر آتاہے؛ اورلوگ گمان کرتے ہیں کہ اس میں خیر و بھلائی ہوگی۔ جب انسان اس کے شر و فساد کی تلخی کوچکھ لیتے ہیں تو اس کے نقصانات ظاہر ہوتے ہیں ۔

دونوں گروہوں کی طرف سے جو لوگ اس فتنہ میں شریک ہوئے ؛ انہیں اس جنگ کے نتیجہ میں پیداہونے والے حالات کا علم نہیں تھا ۔ اورانہیں اس فتنہ کے بپا ہونے تک اس کی تلخی کا اندازہ نہیں تھا۔یہاں تک کہ یہ واقعات ان لوگوں کے لیے اور ان کے بعد آنے والوں کے لیے درس عبرت بن کر رہ گئے ۔

جو کوئی مسلمانوں کے مابین واقعہ ہونے والے فتنوں کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیتا ہے تو اس کے لیے واضح ہوجاتا ہے کہ کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جس نے ان فتنوں میں شرکت کی ہو‘ اور ان کی وجہ سے اس کا انجام کار قابل تعریف رہا ہو۔ اس لیے کہ ان فتنوں میں دین و دنیا کا نقصان ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فتنوں میں شرکت سے منع کیا تھا‘ اور ان سے بچ کر رہنے کا حکم دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہِ اَنْ تُصِیبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ

’’ان لوگوں کوڈرنا چاہیے جوآپ کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آپہنچے۔‘‘ [النور۶۳] 

[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق شبہ او راس کا جواب]:

معترض کا یہ کہنا کہ: ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جنگ شروع کی۔‘‘

[تو اس کا جواب یہ ہے کہ ] ان لوگوں نے آپ کی اطاعت اور بیعت سے اپنے ہاتھ کو روکا ؛ اور آپ کو ظالم اور خون عثمان رضی اللہ عنہ کا شریک قرار دینے لگے ۔ آپ کے بارے میں جھوٹے لوگوں کی گواہی قبول کی ۔اور آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کیں جن سے حقیقت میں وہ اللہ کے ہاں بری تھے۔‘‘

٭ اب اگر کوئی کہے کہ : ’’ صرف اس بنا پر تو ان سے جنگ کرنا جائز نہ تھا ۔‘‘

صفحہ 12 از 18