فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 13 از 18

٭ تواس کے جواب میں کہا جائے گا کہ : ’’ ایسے ہی دوسرے لوگوں کو قتل کرنا بھی آپ کے حق میں مباح نہ تھا؛ اس لیے کہ آپ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے سے عاجز تھے۔ اگر مان لیا جائے کہ آپ ایسا کرسکتے تھے ‘ مگر نہیں کیا ؛ تو اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے واجب ترک کیا ؛ اس میں یا تو آپ تاویل کررہے تھے ‘ یا پھر گنہگار تھے ۔ تو پھر بھی اس بنا پر جماعت مسلمین میں تفریق پیدانہیں کی جاسکتی تھی اور نہ ہی آپ کی بیعت سے پیچھے رہنا اور آپ سے جنگ کرنا جائز تھا۔ بلکہ آپ کی بیعت کرلینے میں دین کے لحاظ سے ہر حال میں خیر اور بہتری تھی۔اس میں مسلمانوں کے لیے بھی نفع تھا؛اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے زیادہ قریب تر تھا۔

صحیحین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’ بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتیں پسند کرتے ہیں :

۱....تم اللہ کی بندگی کرو‘اوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔

۲....اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو ‘ او رآپس میں تفرقہ نہ کرو ۔

۳....اور جس کو اللہ تعالیٰ تم پر حکمران بنادے اس کے لیے خیر خواہی کرتے رہو۔‘‘[رواہ البخاری ۲؍۱۲۴؛ مسلم ۳؍۱۲۴۱؛ موطأ ۲؍۹۹۰۔]

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ مسلمان مرد پر حاکم کی بات سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے خواہ اسے تنگی ہو یا آسانی؛ اور خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند ہو۔ سوائے اس کے کہ اسے کسی گناہ کا حکم دیا جائے پس اگر اسے معصیت ونا فرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ اس کی بات سننا لازم ہے اور نہ اطاعت کرنا۔‘‘[صحیح مسلم؛ امارت اور خلافت کا بیان : ح: ۲۷۰ غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب....کے بیان میں ۔ ]

صحیحین میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

’’ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی اور آسانی میں پسند و ناپسند میں اور اس بات پر کہ ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے؛ اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی۔ اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکام سے حکومت کے معاملات میں جھگڑا نہ کریں گے۔ اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم جہاں بھی ہوں گے حق بات ہی کہیں گے اللہ کے معاملہ میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ رکھیں گے۔‘‘[صحیح مسلم؛امارت اور خلافت کا بیان : ح:۲۷۱ غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب....کے بیان میں ۔]

بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

’’جو شخص اپنے امیر کی کوئی ایسی بات دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اس پر صبر کرے، کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھر الگ ہوایقینااس اپنی گردن سے اسلام کا طوق اتار پھینکا۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے:’’ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھر الگ ہوتاہے، اور اسی حالت میں مرجاتا ہے، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے۔ ‘‘[صحیح بخاری کتاب الفتن ۔ باب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’ سترون بعدی اموراً تنکرونھا‘‘ (ح:۷۰۵۴) صحیح مسلم ۔ کتاب الامارۃ۔ باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین(ح:۱۸۴۹)۔ ]

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ جس نے اطاعت امیر سے ہاتھ نکال لیا تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اسکے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہ تھی وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘[صحیح مسلم:ح :۲۹۶۔]

ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ تین لوگ ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن بات بھی نہیں کریگا؛ اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا اورنہ ہی ان کی جانب دیکھے گااور ان کیلئے دردناک عذاب ہوگا: پہلا وہ آدمی جو دنیا کی غرض کے لیے حاکم کی بیعت کرے ۔ اگر اسے کچھ مل جائے تو خوش ہوجائے ‘اور اگر کچھ نہ ملے تو ناراض رہے ....‘‘ [البخاری ۳؍۱۷۸؛ مسلم ۱؍۱۰۳]

بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر حبشی غلام ہی حاکم کیوں نہ ہو جس کا سر کشمش کی طرح (یعنی چھوٹا سا) ہو۔‘‘[صحیح مسلم۔ أیضاً (ح: ۱۸۳۸)]

اہل کوفہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی؛ آپ کے وقت میں آپ سے بڑھ کر کوئی دوسرا خلافت کا حق دار نہیں تھا۔ آپ خلیفہ راشد تھے اور آپ کی اطاعت واجب تھی۔اور یہ بات بھی سبھی جانتے ہیں کہ قاتل کو قتل کرنا خون کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے۔جب ایسا احتمال ہو کہ چند لوگوں کے قتل کیے جانے کی وجہ سے بہت بڑا فتنہ و فساد بپا ہوگا‘ اوراس سے کئی گنا زیادہ لوگ قتل ہوجائیں گے ؛ تو پھر ایسا کرنا نہ ہی اطاعت کا کام ہوتا ہے اور نہ ہی مصلحت ۔ صفین [اور جمل ] کے موقع پر عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والوں سے کئی گنا زیادہ لوگ قتل ہوگئے ۔

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ:

’’مسلمانوں کی تفرقہ بندی کے وقت ایک فرقہ کا ظہور ہوگا ‘ اور ان دو گروہوں میں سے ان کو وہ لوگ قتل کریں گے جو حق کے زیادہ قریب ہوں گے۔‘‘ [مسلم ۲؍۷۳۵؛ سنن ابو داؤد ۳؍۳۰۰] 

یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہ نسبت حق کے زیادہ قریب تھے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حق کے اتنے زیادہ قریب نہیں تھے۔[جیسا کہ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے ]

ایسے ہی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا :

’’ اے عمار! تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘ یہ سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ کیا ہم نے عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کیا؟ ان کے قتل کے ذمہ دار تو وہ لوگ ہیں جو ان کو ہماری تلواروں کے نیچے لے آئے تھے ۔ ‘‘[رواہ البخاری ۴؍۲۱؛ مسلم ۴؍۲۲۳۵۔ مسند احمد(۴؍۱۹۹)، مستدرک حاکم(۴؍۳۸۶ )۔]

صفحہ 13 از 18